واقف کہاں زمانہ ہماری اُڑان سے
وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے
وقارآباد ضلع : محمد اشفاق کو یو پی ایس سی میں 770 واں رینک
تانڈور کو پہلی مرتبہ سیول سرویس کا اعزاز حاصل، لیتھ مشین کا کام کرنے والے باپ کا سر فخر سے بلند
وقارآباد/تانڈور: 17۔اپریل
(سحر نیوز ڈاٹ کام)
ملک کے زیادہ تر مسلمانوں بالخصوص مسلم نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ ہمیشہ شکایت کرتا رہتا ہے کہ اس کے ساتھ سرکاری سطح پر امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے،ترقی کے مواقع کم کیے جارہے ہیں،ملازمتوں میں نظر انداز کیا جارہا ہے۔!لیکن انسان اپنے حوصلوں سے چٹانوں میں سے راستہ نکال لیتا ہے، بس اس کےلیے کسی بھی شعبہ میں جنون کی حد تک محنت، لگن اور سخت جدوجہد لازمی ہوتی ہے۔کامیابی اور بلندی پر کسی ایک مخصوص طبقہ یا دولتمند افراد کی ہرگز اجارہ داری نہیں ہوتی۔
علم اور تجربہ ایک وسیع سمندر کی مانند ہوتا ہے اب جس میں ہمت ہو وہ اس سمندر کی موجوں سے ٹکرا کر اپنا راستہ بناتے ہوئے سمندر کی گہرائی میں موجود خزانوں کو حاصل کرلے اور جو محنت، حوصلہ و ہمت سے کام نہیں لیتے وہ یا تو ساحل سمندر سے واپس ہو جاتے ہیں یا پھر سمندر تک جانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتے۔!!
دو دن سے سوشل میڈیا پر 50 سے زائد ایسے ہونہار مسلم طلباء و طالبات کے ناموں کی فہرست زیر گشت ہے جنہوں نے اس سال یونین پبلک سرویس کمیشن ( یو پی ایس سی UPSC#) کامیاب کرتے ہوئے بتا دیا ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں۔! یوپی ایس سی کے حتمی نتائج میں کامیاب ہونے والے جملہ 1,016 امیدواروں کی ٹاپ۔10 کی فہرست میں روحانی نے پانچواں اورنوشین نے 9 واں مقام حاصل کیا ہے۔
انہی کامیاب طلبہ میں ایک نام ہے محمد اشفاق،جنہوں نے یو پی ایس سی میں 770 واں رینک حاصل کرتے ہوئے جہاں والدین کا سر فخرسے اونچا کر دیا ہے وہیں یہ پیغام بھی دیاہے کہ ترقی کی منازل طئے کرتے ہوئے بلندی تک پہنچنے کےلیے نہ مال و دولت کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ کسی سفارش کی اور نہ ہی غربت اس میں رکاوٹ بنتی ہے۔
یوپی ایس سی کامیاب کرنے والے محمد اشفاق (24 سالہ) کاتعلق وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی تانڈور کے،پدیمول منڈل میں موجود ایک چھوٹے سے دیہات گوٹلا پلی سے ہے۔محمد اشفاق تانڈور کی تاریخ میں سیول سرویس کےپہلے کامیاب طالب علم کے طور پر اپنا نام درج کروالیا ہے۔
تانڈور ٹاؤن سے 8 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود گوٹلاپلی کے ساکن محمد جعفر اور رضوانہ بیگم کے ہونہار فرزند محمد اشفاق نے آج شام نمائندہ سحر نیوز سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والدین چند سال قبل گوٹلا پلی سے حیدرآباد منتقل ہوگئے۔ان کے والد محمد جعفر اشوک نگر، بی ایچ ای ایل میں اپنا انجینئرنگ ورکس چلاتے ہیں اور پیشہ سے لیتھ مشین پر کام کرتے ہیں اور والدہ رضوانہ بیگم خانہ دار خاتون ہیں۔جبکہ ان کی بہن عظمیٰ سلطانہ بی ڈی ایس ڈاکٹر ہیں۔

محمد اشفاق نے بتایا کہ جنا پریہ ہائی اسکول سے انہوں نے 2015؍ میں دسویں جماعت میں کامیابی حاصل کی، بعد ازاں 2017ء میں سری چیتنیا آئی اے ایس اکیڈیمی سے انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کی،شری رام کالج آف کامرس،دہلی سے انہوں نے 2020ء میں بی اے اکنامکس کی تکمیل کرتے ہوئے ایم اے اکنامکس کی تکمیل 2022ء میں دہلی اسکول آف اکنامکس کی ماسٹرس کی سند حاصل کی۔
محمد اشفاق نے بتایا کہ پہلی مرتبہ انہوں نے 2020ء میں یوپی ایس سی کے امتحان میں شرکت کی لیکن ناکام ہوئے،تاہم انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور دوبارہ 2021ء میں بھی شرکت کی تب بھی ہاتھ لگنے والی ناکامی کو انہوں نے بالائے طاق رکھتے ہوئے 2022ء میں یو پی ایس سی میں شرکت کی تاہم انہیں انٹرویو میں طلب نہیں کیا گیا، پھر بھی وہ مایوس نہیں ہوئے۔
یو پی ایس سی کی جانب سے انہیں 2023ء میں انٹرویو کےلیے طلب کیا گیا۔محمد اشفاق نے بتایا کہ انہوں نے 12؍جنوری 2023 کو یو پی ایس سی کا انٹرویو دیاتھا اور اس طرح انہوں نے کل جاری کردہ کامیاب امیدواروں کی فہرست میں 770 واں رینک حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی۔جنہیں آئی پی ایس (انڈین پولیس سرویس) یا انڈین ریونیوسرویس(آئی آر ایس) میں ملازمت حاصل ہوگی۔
تاہم محمد اشفاق نے بتایا کہ ان کا خواب آئی اے ایس بننے کا ہے اور انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاہے کہ اس کے لیے وہ دوبارہ یو پی ایس سی کے امتحان میں شرکت کریں گے۔اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے محمد اشفاق نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی دعاوں اور ہمیشہ ان کی ہمت افزائی پر شکر گزار ہیں ساتھ ہی وہ اپنی بہن ڈاکٹر عظمیٰ سلطانہ کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے قدم قدم پر ان کا حوصلہ بڑھایاکبھی بھی انہیں مایوس ہونےنہیں دیا۔محمد اشفاق نےبتایاکہ انہوں نےوجی رام اور روی سے 2018ء میں کوچنگ لی تھی بعدازاں 2022ء تا 2024 روزآنہ 8 تا 10 گھنٹے اکیلے پرھائی کرتے تھے۔محمد اشفاق کا خاندان اب حفیظ پیٹ میں مقیم ہے۔
محمد اشفاق کے دادا عبدالرزاق اور دادی سیدن بی آج بھی موضع گوٹلا پلی میں رہائش پذیرہیں۔جب ان کے پوتےمحمد اشفاق کی یو پی ایس سی میں کامیابی کی اطلاع اس بزرگ جوڑے کو دی گئی تو وہ خوشی سے سرشار ہوگئے۔اور ایک دوسرے کو مٹھائی کھلائی یہ جذبات اور خوشی لے خوبصورت لمحات تھے۔

محمد اشفاق کی کامیابی پر تانڈور کے علاوہ پدیمول منڈل اور موضع گوٹلا پلی میں بلاء مذہب خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں تانڈور کے واٹس ایپ گروپس میں بھی ان کی اس کامیابی کی زبردست ستائش کی جا رہی ہے۔
” یہ بھی پڑھیں ”

