ایم ایل اے وقارآباد نے ندی میں بہہ جانے والی خاتون کی نعش کو دو کلومیٹر تک اُٹھایا
وقارآباد:30۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)
گزشتہ رات وقارآباد کے مر پلی منڈل میں موجود تماپور موضع کی ندی میں ایک کار بہہ گئی تھی جس وقارآباد منڈل کے موضع راؤلہ پلی کے ساکن نواز ریڈی اوران کی دُلہن پراوالیکا جن کی 25 اگست کو شادی ہوئی تھی کے علاوہ نواز ریڈی کی دو بہنیں رادھماں ، شروتی، شروتی کا 8 سالہ لڑکا ششانت ریڈی اور کار کا ڈرائیور راگھویندراریڈی سوار تھے۔

مومن پیٹ سے راؤلہ پلی واپس ہونے کے دؤران تما پور کے قریب موجود ندی سیلابی پانی سے لبریز ہوکر اپنی سطح سے اوپر بہہ رہی تھی جس میں ان کار بہہ گئی تھی تاہم نواز ریڈی اور ان کی بڑی بہن رادھماں کسی طرح سے اس سیلابی پانی سے محفوظ نکل آئے تھے تاہم دیگر چار افراد اور کار لاپتہ تھی۔
گزشتہ رات سے اس ندی کے قریبی مقامات پر ڈی ایس پی وقارآباد سنجیوا راؤ کی نگرانی میں تلاشی مہم جاری تھی کہ آج صبح اس ندی کے چار کلومیٹر اندرونی حصہ میں نواز ریڈی کی دُلہن پراوالیکا کی نعش ندی کے کنارے پودوں پھنسی ہوئی پائی گئی۔

بعدازاں ایک اور مقام پر نواز ریڈی کی بہن شروتی کی نعش بھی ندی کے کنارے پودوں میں ہی دستیاب ہوئی اطلاع پر رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند اور ضلع ایس پی وقارآباد ایم۔نارائنا چار کلومیٹر تک ندی کے پانی اور کیچڑ سے بھرے راستوں سے گزرکر وہاں تک پہنچے۔
" ندی سے نعش کی منتقلی (ویڈیو) "
مقامی لوگوں کی جانب سے لکڑیوں اور پلاسٹک کی مدد سےنعش کو محفوظ کرنے اور نعش کی منتقلی کے دؤران زائد از دو کلومیٹر تک رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند اور سب انسپکٹر پولیس وقارآباد شیکھر گوڑ دیگر لوگوں کی مدد سے نعش کو اٹھاکر سڑک تک لے آئے۔
رکن اسمبلی ڈاکٹر میتکو آنند کے اس انسانی ہمدردی کے مظاہرہ پر وہاں موجود عہدیدار اور دیہی عوام نے حیرت سے دیکھتے ہوئے ان کی ستائش کی۔ کل رات راؤلہ پلی ندی میں بہہ جانے والی کار ندی سے برآمد ہوئی ہوئی ہے تاہم نواز ریڈی کا بھانجہ،مہلوک شروتی کا 8 سالہ لڑکا ششانت ریڈی اور کار کا ڈرائیور راگھویندرا ریڈی اب بھی لاپتہ ہیں۔

