حیدرآباد: رکن اسمبلی راجہ سنگھ بالآخر گرفتار،طبی معائنہ کے لیے گاندھی ہسپتال پھر پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل منتقل

رکن اسمبلی راجہ سنگھ بالآخر گرفتار،طبی معائنہ کے لیے گاندھی ہسپتال 
پھر  پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل منتقل،ایک سال تک رہنا پڑسکتا ہے جیل میں!!
ایک اور ویڈیو جاری کیے جانے کے فوری بعد گرفتاری

حیدرآباد: 25۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)

حیدرآباد پولیس نے آج بعد سہء پہر بی جے پی کےمعطل کردہ رکن اسمبلی حلقہ گوشہ محل،حیدرآباد راجہ سنگھ کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا ہے۔گرفتاری کے بعد طبی معائنہ کی غرض سے راجہ سنگھ کو گاندھی ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔بعدازاں اسے نامپلی یا پھر سکندرآباد کی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔راجہ سنگھ کی دوبارہ گرفتاری کے بعد حیدرآباد سمیت تلنگانہ میں پولیس ہائی الرٹ میں ہے۔

اپ ڈیٹ : وہیں اطلاعات کےمطابق منگل ہاٹ پولیس نے راجہ سنگھ کے خلاف ” پی ڈی ایکٹ” درج کرتے ہوئے اسے بعد طبی معائنہ چیرلا پلی جیل منتقل کردیا ہے۔راجہ سنگھ جس پر 104 مختلف کیس درج ہیں ریاست کا پہلا ایم ایل اے بن گیا ہے جس کے خلاف پی ڈی ایکٹ لگاکر گرفتار کیا گیا ہے۔راجہ سنگھ کی رؤڈی شیٹ کھول دی گئی ہے۔پی ڈی ایکٹ کے تحت اب اس کو طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑسکتا ہے!!

راجہ سنگھ کی جانب سے آج جاری کردہ دھمکی آمیز ویڈیو کا اسکرین شاٹ۔

گرفتاری سےعین قبل راجہ سنگھ نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئےمختلف دھمکیاں دی تھیں جسے علاقائی نیوز چینلوں پر دکھایا جارہا تھا کہ پولیس نے اس کی رہائش گاہ پہنچ کر اسے گرفتار کرلیا۔

ازروئےقواعد رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ کوسی آر پی سی 41کےتحت شاہ عنایت گنج اور مادنا پیٹ پولیس اسٹیشنوں کی جانب سے دو نوٹسیں حوالے کی گئی تھیں۔

شاہ عنایت گنج پولیس اسٹیشن میں راجہ سنگھ کے خلاف جاریہ سال 12 اپریل کوشکایت درج کروائی گئی تھی جب اس نے رام نومی کے موقع پر منعقدہ شوبھایاترا کے ذریعہ اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔جبکہ 20 فروری کو اترپردیش الیکشن کے دؤران بھی دھمکی آمیز بیان جاری کیے جانے پر راجہ سنگھ کے خلاف ایک کیس درج رجسٹر کیا گیا تھا۔

جبکہ راجہ سنگھ جسے 23 اگست کو بی جے پی پارٹی سے پیغمبر اسلامﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج کے دوران مادنا پیٹ پولیس نے راجہ سنگھ کو 23 اگست کو گرفتار کرتے ہوئے نامپلی عدالت میں پیش کیاتھا جہاں میٹروپولٹین مجسٹریٹ نے راجہ سنگھ کو 14 دنوں کےلیے عدالتی تحویل میں روانہ کرنے کا حکم دیاتھا۔

تاہم اس کے فوری بعد راجہ سنگھ کے وکلا نے اس کی ضمانت کےلیے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ راجہ سنگھ
کی گرفتاری کے لیے پولیس نے ضابطہ فوجداری(سی آر پی سی Code Of Criminal Procedure) 41) کےتحت ان کے موکل کونوٹس دئیے بغیر ہی گرفتار کرلیا ہے۔وکلا نے دلیل پیش کی کہ سی آر پی سی 41کے ذریعہ قبل ازوقت نوٹس نہ دے کر گرفتار کرنا غیر قانونی عمل ہے۔جس کے بعد عدالت نےراجہ سنگھ کےوکلا کے اعتراض کو درست مانتے ہوئے اس کی گرفتاری کےطریقہ پرسوال اٹھائے اور سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط پرعمل نہ کرتے ہوئےاسے گرفتار کیے جانے کو مسترد کیا اور راجہ سنگھ کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

” WhatsApp Viral Image "

جس کے خلاف حیدرآباد پولیس آج ہی ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے عدالت کے فیصلہ کو چیلنج کیا ہے۔