احکام اِلٰہی سے پہلو تہی معاشرے میں نقص امن کا سبب، مسلمان اچھے اخلاق قائم رکھیں
تقویٰ اور توحید کا دامن ہمیشہ تھامے رکھنے کی تلقین، نفرت کے بجائے محبت کے پیغام کو عام کرنا چاہئے
زائد از 25 لاکھ اقطاع عالم کے مسلمانوں کی موجودگی میں شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد سعید کا خطبہء حج
مکہ مکرمہ : 27/جون
(ویب ڈیسک/سحرنیوزڈاٹ کام)
میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمدبن سعید نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہاہےکہ اللہ کا حکم ہے تمام مسلمان متحد ہو کررہیں اور تفرقے میں نہ پڑیں۔ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔اس خطبہ حج کو لاکھوں عازمین سمیت دنیا بھر میں موجود مسلمانوں نے ٹی وی پر براہ راست دیکھا اور اس کی سماعت کی۔خطبہ کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی متعدد زبانوں میں براہ راست نشر کیا گیا تاکہ لوگوں کو آسانی رہے۔
خطبہ حج میں شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد بن سعید نے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں،اللہ تعالیٰ نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا،انسانوں کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے،کبھی بھی کسی معاملے پر کسی دوسرے معبود کو نہ پکارا جائے،مصیبت اور پریشانی میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہیے۔ اللہ کا نافرمان جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نیک اعمالوں کی وجہ سے ان کو ہدایت عطا کی،حاکمیت اورحقیقی حکمرانی اللہ تعالیٰ کی ذات کی ہے،جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتے۔انسان اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرے،ان باتوں سے انسان کو رکنا چاہیے جس میں اللہ کی ناراضگی ہے۔اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں۔
شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد سعید نے اپنے خطبہ حج میں کہا کہ اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں، ایمان والے لغویات میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے، انسان کو اس وقت فضیلت ملتی ہے جب وہ اللہ سے ڈرنے والا بن جاتا ہے،کسی عربی کو عجمی،کسی گورے کو کالے پر فضیلت حاصل نہیں ہے۔اللہ کی حدود کی حفاظت کامطلب ہےکہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں،انسان نماز کو قائم کرے۔ اتحاد اور جماعت سے الگ ہونے والے پر شیطان غلبہ پا لیتا ہے۔
شیخ نے کہاکہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں،جو اللہ کے احکامات کوپس پشت ڈال دیتے ہیں تو ایسے معاشرے میں امن و امان قائم نہیں رہتا۔انہوں نے تلقین کی کہ بیویوں،بچوں،والدین اور ہمسایوں کے حق میں نرمی اختیار کرنی چاہیے۔اللہ نے فرمایا آپسی تنازعات کے حل کیلئے اللہ کی کتاب سے رہنمائی حاصل کرو،نماز،روزہ،زکواۃ اور بیت اللہ کے حج کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
ہمیں آخرت کے لیے ابھی سے تیاری کرنی چاہیے، حشر کے دن انسان کے کام صرف اس کے اعمال آئیں گے،جو لوگ شیطان کے پیرو کار بنتے ہیں وہ ہر وقت لڑائی جھگڑے میں پڑے رہتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان بھائی کےلیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو۔
میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمدبن سعید نے خطبہ حج سے اپنے خطبہ میں کہا کہ مسلمانوں کے لیےضروری ہے وہ اچھے اخلاق قائم رکھیں،انسان صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کرے،نفرت کے بجائے محبت کے پیغام کو عام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ دوسروں کےلیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں،ہمیں اچھے کاموں کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،نفرت کے بجائے محبت کے پیغام کو عام کرنا چاہیے،حاجیوں کو اللہ کی اطاعت کے راستوں کو اختیار کرنا چاہیے،ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں، اس امت کو اختلافات میں نہیں پڑنا چاہیے۔
انہوں نے اپنے خطبہ حج میں کہا کہ اللہ کا راستہ قرآن کا راستہ ہے،اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے راستے کو لازم پکڑو اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان کی صلح کروا دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اللہ عظیم ہے اور حکمت والا ہے، اللہ رب العزت نے تفرقے سے منع فرمایا۔قرآن میں اتحاد کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے،اتحاد میں ہی دین و دنیا کے معاملات میں فلاح ہے۔
مسلمانوں کا آپس میں مل کر رہنا ضروری ہے،اللہ نے فرمایا جس نے کتاب میں اختلاف کیا وہ ہدایت سے دور ہیں،مسلمانوں کو آپس میں جڑ کر رہنا ضروری ہے،ہمیں حکم دیا گیا اختلاف ہوجائیں تو قرآن اور سنت کی طرف جائیں،قرآن کریم میں مسلمانوں کےلیے جڑکر رہنے کاحکم ہے۔
مسجد نمرہ میں شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمدبن سعید نے خطبہ حج میں کہا کہ مسلمانوں کےلیے ضروری ہے کہ وہ اچھے اخلاق رکھیں، اچھے اخلاق سے دوسروں کے دل میں جگہ پیدا ہو جاتی ہے۔شریعت مطہرہ کا مقصد ہے مسلمان آپس میں جڑ جائیں،ارشاد ہوتا ہےشرک نہ کرنا،والدین سےحسن سلوک کرو، گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرو،تقویٰ میں تعاون کرو،شیطان چاہتا ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو،دین میں تمام تعلیمات ہیں جو مسلمانوں کو جوڑ کر رکھتی ہیں۔
شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد سعید نے اپنے خطبہ حج میں مزید کہا ہے کہ اللہ کی ذات دعاؤں کو سننے والی ہے،حج اور اس کے بعد انسان کو دعاؤں کو جاری رکھنا چاہیے،جو تمہارے ساتھ نیکی کا معاملہ کرتا ہے تو تم بھی وہی معاملہ اس کےساتھ رکھو۔انہوں نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حجاج کے حج کو قبول فرمائے۔
میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا ہونے کے بعد حجاج کرام نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج کی سماعت کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں یکجا کر کے ایک ساتھ ادا کیں۔اذان مغرب کے بعد حجاج میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ نماز مغرب اور عشاء ملاکر ادا کریں گے۔ذی الحج کی 10 تاریخ کو نماز فجر کے بعد مزدلفہ سے واپس منیٰ روانہ ہوں گے۔اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی سنت کی پیروی میں رمی جمرات کریں گے،شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد قربانی کریں گے۔
مشرق کی رپورٹ کےمطابق 21 لاکھ 92 ہزار مربع میٹر رقبے پر دنیا کاسب سےبڑا خیموں کا شہر منیٰ میں آباد کیا گیا ہے۔منیٰ میں 8 ذوالحجہ کا دن قیام کرنے کے بعد حجاج کرام لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کیلئے 9 ذوالحجہ کو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد میدان عرفات میں جمع ہوگئے تھے۔جہاں حج کا خصوصی خطبہ کی سماعت کی اور عصرین (ظہر اور عصر) ادا کریں گے۔حجاج ذکر اذکار کریں گے اور خصوصی دعاؤں کے بعد سورج غروب ہوتے ہی مزدلفہ کا رخ کریں گے۔ جہاں مغربین ادا کریں گے اور یہاں تمام حاجی رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے شیطان کو مارنے کیلئے کنکریاں جمع کی جائیں گی۔
10 ذوالحجہ کو صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عازمین حج واپس منیٰ چلے جائیں گے جہاں سے شیطان کو کنکریاں ماریں گے۔اس کے بعد قربانی کی جائے گی جس کے بعد حاجی احرام کھول دیں۔سعودی حکومت کی طرف سےعازمین حج کومقدس مقامات تک لانے اور لے جانے کیلئے 24 ہزار بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
” حجاج کرام کو گرما کی شدت سے محفوظ رکھنے کی غرض سے ٹھنڈے پانی کے فوارے "

نوٹ : ” خطبہ حج کی مکمل تفصیلات بشکریہ ” مشرق ” سے حاصل کی گئی ہیں "
https://mashriqtv.pk/latest/281142/

