میرے دیش پریمیو، آپس میں پریم کرو، دیش پریمیو، یومِ آزادی ہند کی 77 ویں سالگرہ، حب الوطنی سے سرشار قدیم اور جدید فلمی نغمے

میرے دیش پریمیو، آپس میں پریم کرو ، دیش پریمیو
یومِ آزادی ہند کی 77 ویں سالگرہ، حب الوطنی سے سرشار فلمی نغمے

یوم آزادی 2023ء کے موقع پرخصوصی پیشکش
 (سحرنیوزسوشل میڈیا ڈیسک)

انگریزوں سے ایک طویل اور صبر آزماء جدوجہد اور بلاء مذہبی تفریق لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر ملک نے 1947ء میں آزادی حاصل کی۔ اس جنگ آزادی کی لڑائی میں ہندو،مسلم،سکھ، عیسائی سبھی نے اپنے جانوں کی عظیم قربانیاں دیں۔جن مجاہدین آزادی نے اپنی جانیں دے کر آزادی حاصل کی تھی اس کے ثمرات کیا حاصل ہوئے،کس کو حاصل ہوئے اور کون اس سے محروم ہیں؟ یہ الگ موضوع بحث ہے۔ویسے گذشتہ چند سال سے ملک میں مذہب، ذات پات اور طبقہ واریت پر اشتعال انگیزی، میڈیا اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال، نفرتی ماحول انتہائی قابل افسوس ہے۔!

ایک وقت تھاکہ بالی ووڈ میں وطن پرستی،فرقہ وارانہ یکجہتی اور محبت کے پیغام کو عام کرنےوالی فلمیں بنائی گئیں اور ان فلموں میں محبت اور وطن پرستی پر مبنی بے شمار نغمے ہندی فلموں میں پیش کیے گئے۔لیکن موجودہ حالات میں کئی ایسی فلمیں بنائی جارہی ہیں جن پر الزام ہے کہ یہ پروپگنڈہ فلمیں ہیں جس کے ذریعہ ملک کی قومی اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔

آج جہاں نفرت کا ننگا رقص ہو رہا ہے وہاں سب سے زیادہ موزوں نغمہ”میرے دیش پریمیو،آپس میں پریم کرو دیش پریمیو”یا پھر ”زندگی موت نہ بن جائے سنبھالو یارو” ہو سکتے ہیں، ہمیں ان نغموں میں چھپے پیغام کو عام کرنے اورسمجھنے کی شدید ضرورت ہے۔

ہندوستانی جمہوریت کےتہوار یومِ آزادی اور یوم جمہوریہ جب بھی آتےہیں توبچپن کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔بچپن کی وہ یادیں جب ہم اسکولوں میں جایا کرتے تھے اور یومِ آزادی یا یومِ جمہوریہ کے موقع پر حب الوطنی سے سرشار نغمے پرچم کشائی کے بعد گایا کرتے تھے۔ان نغموں کو سن کر اور گنگنا کر ایک الگ ہی طرح کا مزہ آتاتھا اور ایک جوش کا احساس ہوتا تھا۔ذہن و دل ایک الگ ہی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے تھے۔آج بھی جب آزادی کا یہ تہوار منایا جاتا ہے تو ان نغموں کو یاد کر کے ایسا لگتا ہے جیسے کھڑے ہو کر گانا شروع کر دیں۔

بالی ووڈ کی فلموں میں آزادی پر مبنی ایسے کئی نغمے ہیں جو جب بھی بجتے ہیں تحریک آزادی اور شہیدوں کی یاد دلاکر آنکھوں کو نم کردیتے ہیں اور جسم میں ایک عجیب سی توانائی بھی بھردیتے ہیں۔حب الوطنی سے سرشار ایسے ہی چندنغمے قارئین کے لیے پیش ہیں۔ان نغموں نے ہمیشہ ہمیں مسحور کیا ہے۔یقیناً آپ بھی انہیں ضرور پسند کرتے ہوں گے۔(ان تمام نغموں کے یوٹیوب لنکس بھی ہر نغمہ کے ساتھ پیش ہیں)

یومِ آزادی یا یومِ جمہوریہ کے موقع پر ”اے میرے وطن کے لوگو،ذرا آنکھ میں بھر لو پانی”نغمہ گایا اور سنا جاتا ہے۔کم ہی لوگوں کو اس بات کی جانکاری ہوگی کہ یہ نغمہ 1962 کی ہند-چین جنگ کے بعد شہیدوں کی یاد میں لکھا گیاتھا اور اس کے خالق پردیپ ہیں۔دلچسپ بات یہ ہےکہ اس نغمہ کوبھی لتامنگیشکر نے اپنی جادوئی آواز دی تھی۔اس نغمے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کوئی فلمی نغمہ نہیں ہے لیکن اتنا مشہور ہے کہ شاید ہی کوئی ہندوستانی ہو جو اس سے نابلد ہو۔

اے میرے وطن کے لوگو، زرا آنکھ میں بھرلو پانی "

اس نغمہ سے جڑی ایک بات آپ کو ضرور بتادیں کہ جب”اے میرے وطن کے لوگو…‘ کو فروخت کرنے کی تجویز پر غور ہو رہا تھا تو پردیپ نے کہا تھا کہ”جس نغمہ کے الفاظ کے کنارے جواہر لال نہرو کے آنسوؤں کی جھالرلگی ہو اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔“ اتنا ہی نہیں،اس نغمہ سےہونےوالی آمدنی فوجیوں کی فلاح سےمتعلق فنڈ میں جمع کی گئی۔لتامنگیشکرنےبھی اس گانےکو آواز دینے کےلیے کوئی فیس نہیں لی تھی۔

1954 میں ستین بوس کی ہدایت کاری میں بنی فلم”جاگرتی”کا نغمہ”دے دی ہمیں آزادی بنا کھڑگ بنا ڈھال”کوہم کبھی نہیں بھول سکتےاور جب جب جمہوریت کا تہوار آتا ہے ہم اسے ضرور گنگناتے ہیں۔"دے دی ہمیں آزادی بنا کھڑگ بنا ڈھال”

اس نغمہ کو بھی پردیپ نے ہی لکھا تھا جنہوں نے حب الوطنی پر مبنی کئی مشہور نغمےلکھے ۔جاگرتی فلم میں ہی انھوں نے”آؤ بچو تمہیں دکھائیں جھانکی ہندوستان کی” جیسا نغمہ بھی لکھا تھا یہ بھی بےمثال ہے۔بہر حال”دے دی ہمیں آزادی …‘ نغمہ کو لتا منگیشکر نے گایا تھا اور تقریباً 67 سال گزر جانے کے بعد آج بھی بالکل تازہ محسوس ہوتا ہے۔

اے وطن،اے وطن،ہم کو تیری قسم،تیری راہوں میں جاں تک بچھا جائیں گے”پریم دھون کا لکھا ہوا اور محمد رفیع کی آواز میں گایا ہوا یہ  نغمہ 1965 میں بنی فلم”شہید” کامشہور عام نغمہ ہے۔حالانکہ اس فلم میں”پگڑی سنبھال جٹ پگڑی سنبھا”اور”میرا رنگ دے بسنتی چولا”جیسے نغمے بھی شامل تھے۔لیکن”اے وطن،اے وطن،ہم کو تیری قسم” جو کہ”بھارت کمار”کے نام سے مشہور منوج کمار پر فلمایا گیا تھا، اپنی ایک الگ شان رکھتا ہے۔اس نغمہ میں جس طرح اپنے ملک کے لیے قربانی دینے کے جذبہ کا اظہار کیا گیا ہے وہ عام ہندوستانی کے دلوں میں بھی قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اے وطن،اے وطن ہم کو تیری قسم،تیری راہوں میں جاں تک بچھا جائیں گے

"اپنی آزادی کو ہم ہرگز مٹاسکتے نہیں،سر کٹاسکتے ہیں لیکن سرجھکاسکتے نہیں"یہ نغمہ آزادی حاصل کرنےکے بعد دوبارہ غلامی برداشت نہ کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔نغمہ نگارشکیل بدایونی نے اس میں آزادی حاصل کرنے کے لیے دی گئیں قربانیوں کا تذکرہ کیا ہے اور نوجوانوں کو یہ پیغام دینے کی بھی کوشش کی ہے کہ یہ آزادی بڑی مشقتوں اور جانفشانی کے بعدملی ہے اس لیےاس کی حفاظت کرنی ہوگی،چاہے سر ہی کیوں نہ کٹانا پڑے۔1964 میں آئی فلم”لیڈر”کے اس مشہور نغمہ کومحمد رفیع نے آواز دی ہے اور شہنشاہ جذبات دلیپ کمار پر فلمایا گیا ہے۔یومِ آزادی کے موقع پر اسکولوں میں اور دیگر مقامات پر یہ نغمہ بھی خوب بجتا ہے۔

1982ء میں بنائی گئی فلم دیش پریمی کا نغمہ "میرے دیش پریمیو آپس میں پریم کرو دیس پریمیو”ہے جس میں امیتابھ بچن نے اہم اور ڈبل رول ادا کیے تھے۔اس فلم کے ایک کردار ماسٹر دیناناتھ ہیں جو ایک مجاہد آزادی ہیں اس نغمہ کو محمد رفیع نے اپنی آواز دی تھی یہ نغمہ آنند بخشی کے زور قلم کا نتیجہ ہے۔بھارت نگر نامی ایک سلم علاقہ میں اس نغمہ کو بہت خوبصورتی کے ساتھ فلمایا گیاہے۔جس میں اپنے وقت کے مشہور اداکاروں شمی کپور نے ایک پنجابی کا،پریم ناتھ نے مدراسی کا،اتم کمار نے ایک بنگالی کا اورپریکشت ساہنی نے ایک مسلمان کا رول نبھایا ہے۔اس فلم کی موسیقی نے لکشمی کانت اور پیارے لال نے دی ہے۔

میرے دیش پریمیو آپس میں پریم کرو دیس پریمیو

ایک اور نغمہ بھی اپنے اندرحب الوطنی کے جذبات بہت خوبصورتی کے ساتھ سمیٹے ہوئے ہے۔1986 میں آئی فلم "کرما” میں یہ نغمہ 15 اگست کی ایک تقریب کے موقع پر فلمایا گیاہے۔جسے آواز دی ہے انورادھا پوڈوال اور محمد عزیز نے اپنی آوازیں دی ہیں۔نوتن پر فلمائے گئے اس نغمہ کے دوران جب ایک چھوٹی بچی جھومنے لگتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے ہم بھی جھومنے لگ جائیں!۔

آنند بخشی کے لکھے اس نغمہ کو لکشمی کانت-پیارے لال نے موسیقی بھی اتنی سحر آمیز دی ہے کہ کوئی بھی وطن پرستی میں ڈوب جائے۔اس نغمہ کے شروع کے بول”میرا کرما تو، میرا دھرما تو، ترا سب کچھ میں،مِرا سب کچھ تو” جب اپنے وطن کے لیے بولا جاتا ہے تو اسی وقت ذہن پر حب الوطنی طاری ہو جاتی ہے اور دل ان شہیدوں کو سلام کرتا ہے جنہوں نے ہمیں آزادی جیسا انمول تحفہ عطا کیا۔اور ملک کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ”

ہر کرم اپنا کریں گے،ائے وطن تیرے لیے، دل دیا ہے جاں بھی دیں گے، اے وطن تیرے لیے

ان کے علاوہ ایسے نغمے جو بچپن سے ہر ہندوستانی کو بہت پسند ہیں اور اکثر و بیشتر لوگوں کی پسند میں بھی یہ سرفہرست ہوں گے۔جن میں

"انصاف کی ڈگر پہ بچو دکھاؤ چل کے۔یہ دیش ہے تمہارا،نیتا تمہی ہو کل کے‘ ( گنگا جمنا- 1961 )۔

” جہاں ڈال ڈال پہ سونے کی چڑیا کرتی ہے بسیرا/وہ بھارت دیش ہے میرا،وہ بھارت دیش ہے میرا”(سکندراعظم-1965)۔

"بھارت ہم کو جان سے پیارا ہے/ سب سے پیارا گلستاں ہمارا ہے”(روجا- 1992)۔

یہ دیش ہے ویر جوانوں کا،البیلوں کا مستانوں کا”(نیا دور-1957)۔
"ہے پریت جہاں کی ریت سدا میں گیت وہیں کے گاتا ہوں” (پورب اور پچھم-1970)۔

" کر چلے ہم وفدا جان و تن ساتھیو/اب تمھارے حوالے وطن ساتھیو ” (فلم: حقیقت-1964)

ایک طویل فہرست ہے اس طرح کے نغموں کی جو آج بھی آزادی وطن کے پیچھے نہ صرف شہیدوں کے کارناموں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اس آزادی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

سبھاش گھئی کی بحیثیت پروڈیوسر و ڈائرکٹر 1997 بنائی گئی فلم پردیس کا نغمہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے۔جس کے بول ہیں”یہ دنیا ایک دلہن، دلہن کے ماتھے کی بندیا، یہ میرا انڈیا۔اس فلم میں شاہ رخ خان،مہیماچودھری،امریش پوری،اپوروا اگنی ہوتری نے اداکاری کی تھی جبکہ اس نغمہ کو کویتا کرشنا مورتی، ہری ہرن، آدتیہ نارائن اورشنکر مہادیون نے خوب گایا تھا۔یہ نغمہ آنند بخشی کے زور قلم کا نتیجہ ہے۔

"یہ دنیا ایک دلہن، دلہن کے ماتھے کی بندیا،یہ میرا انڈیا، آئی لو مائی انڈیا "

یہاں 1999میں بنائی گئی عامر خان کی فلم سرفروش کے ایک نغمہ کا بطور خاص تذکرہ کیا جا سکتا جو ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے بہت یاد آتا ہے۔یہ فلم نوجوانوں میں بڑھتے نشہ کی لت اور دہشت گردی کے خلاف بنائی گئی تھی۔اس نغمہ کے بول کچھ اس طرح ہیں؎

زندگی موت نہ بن جائےسنبھالو یارو، کھو رہا چین و امن/آج مشکلوں میں ہے وطن

یقیناًاس وقت ملک میں چین و امن کھوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے اور تشدد و فرقہ پرستی کا بازارگرم ہے۔اسرار انصاری نے اس نغمہ میں جن الفاظ کا استعمال کیاہے وہ موجودہ وقت کی بہترین عکاسی کرتاہے۔سونو نگم اور روپ کمار راتھوڑ نے اس نغمہ کو اپنی آواز دی ہے اور دونوں نے ہی بہت خوب گایا ہے۔

اسی طرح سال 2004 میں یش چوپڑا کی ہدایت میں بنائی گئی فلم”ویرزارا”جس میں شاہ رخ خان اور پریتی زینٹا اور رانی مکھرجی نے اداکاری کی تھی میں جاوید اختر کا لکھا ہوانغمہ”دھرتی سنہری عنبر نیلا,ہر موسم رنگیلا،ایسا دیس ہے میرا” بھی قابل داد ہے،اس نغمہ کو لتامنگیشکر,ادت نارائن، گرداس مان اور پریتا مجمدار نے اپنی خوبصورت آوازیں دیں۔اس نغمے میں ہندوستانی ثقافت وتہذیب اور ملک کی خوبصورتی کو بہترین انداز میں لکھا اور فلمایا گیا۔

دھرتی سنہری عنبر نیلا، ہر موسم رنگیلا،ایسا دیس ہے میرا

امن وبھائی چارہ پھیلانے کا جو اس نغمہ نے پیغام دیا ہے اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔ایسا کرکے ہی ہم اپنی آزادی کی صحیح معنوں میں حفاظت کر سکیں گے۔

 

نوٹ:اس مضمون کی تیاری میں جناب تنویر احمد کے قومی آواز15اگست 2018 میں شائع شدہ مضمون سے بشکریہ مدد لی گئی ہے۔اور دیگر نغموں ،ان کے یوٹیوب چینل کے لنکس کا انتخاب کیا گیا ہے۔

 

ترتیب و پیشکش: یحییٰ خان
Mail : khanreport@gmail.com

facebook : http://khanyahiya276
Twitter @khanyahiya
      Instagram : khan_yahiya276

 Youtube : http://@yahiya_khan276

 HindiMovies #PatrioticSongs#