مہاراشٹرا کے امراوتی میں کیمسٹ کا قتل بھی نوپورشرما کی حمایت کرنے پر کیا گیا تھا!!
پولیس تحقیقات میں مصروف،پانچ ملزم گرفتار، دیگر کی پولیس کو تلاش
ممبئی: 02۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
راجستھان کے ادے پور میں درزی کنہیا لال تیلی کو قتل کرنے سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل 21 جون کو مہاراشٹر کے امراوتی ضلع میں 54 سالہ کیمسٹ امیش پرہلاد راؤ کولہے کو قتل کردیا گیا تھا۔
تفتیش کاروں کو اب یقین ہے کہ پرہلاد راؤ کولہے کو مبینہ طور پر بی جے پی کی گستاخ رسولؐ نوپورشرما کی حمایت کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ کے بدلے میں قتل کیا گیا تھا جس نے ایک ٹی وی مباحثے میں پیغمبراسلامؐ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی۔
امراوتی کے سٹی کوتوالی پولیس اسٹیشن کی ابتدائی تحقیقات امیش پرہلاد راؤ کولہے کے فرزندسنکیت کوہلے کی شکایت کے بعد 23 جون کو دو افراد مدثر احمد(22 سالہ) اور شاہ رخ پٹھان(25 سالہ) کو گرفتار کیاگیاتھا۔جبکہ مزید تین نوجوانوں عبدالتوفیق(24سالہ)،شعیب خان اور عاطب رشید(22 سالہ) کو 25 جون کو گرفتار کیا گیاتھا۔ وہیں ایک اور ملزم شمیم احمد فیروزاحمد مفرور ہے۔
یہ واقعہ 21 جون کی رات 10 بجے سے 10.30 بجے کے درمیان اس وقت پیش آیا تھا جب امیش کولہے اپنی دکان”امیت میڈیکل اسٹور” بند کرکے گھر جارہے تھے۔ان کے فرزندسنکیت(27سالہ) اور انکی بیوی ویشنوی دوسرے اسکوٹر پر ان کے ساتھ جا رہے تھے۔
پولیس میں درج اپنی شکایت میں سنکیت نے پولس کو بتایاکہ” ہم پربھات چوک سے آگے بڑھ رہے تھے اور ہمارے اسکوٹر مہیلا کالج نیو ہائی اسکول کے گیٹ پر پہنچ گئے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر دو آدمی اچانک میرے والد کے اسکوٹر کے سامنے آگئے۔انہوں نے میرے والد کی موٹر سائیکل روکی اور ان میں سے ایک نے ان کی گردن کی بائیں جانب چاقو سے وار کیا۔میرے والد گر گئے اور خون بہہ رہا تھا۔میں نے اپنی اسکوٹر روکی اور مدد کے لیے چیخنے لگا۔ایک اور شخص آیا اور تینوں موٹرسائیکل پر موقع واردات سے فرار ہوگئے۔آس پاس کے لوگوں کی مدد سے کولہے کو قریبی ایکسن ہسپتال لے جایا گیا جہاں علاج کے دوران ان کی موت واقع ہوگئی۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق امراوتی سٹی پولیس کے ایک سینئر پولیس عہدیدارنے کہاکہ”اب تک گرفتار کیے گئےپانچ ملزموں نے ہمیں بتایا ہے کہ انہوں نے ایک اور ملزم کی مدد لی جس نے انہیں بھاگنے کے لیے ایک کار اور 10،000 روپے فراہم کیے تھے "۔
پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ایک فرار ملزم نے قتل کے لیے دیگر پانچ ملزمین کومخصوص کام سونپے تھے۔اس نے ان میں سے دو کو کولہے پر نظر رکھنے اور باقی تین کو میڈیکل اسٹور سے نکلتے وقت خبردار کرنے کو کہا تھا۔دیگر تینوں نے کولہے کو روکا اور ان پر حملہ کیا۔ساکیت کی شکایت پر سٹی کوتوالی پولیس اسٹیشن نے ایف آئی آر درج کی تھی۔
انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سےلکھا ہے کہ تحقیقات کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ مقتول کولہے نے واٹس ایپ پر نوپور شرما کی حمایت کرنے والی ایک سوشل میڈیا پوسٹ گردش کی تھی۔غلطی سے اس نے یہ پیغام ایک ایسے گروپ میں پوسٹ کردیا جس میں مسلم ممبران تھے جو اس کے گاہک بھی تھے۔گرفتار ملزموں میں سے ایک نے کہا کہ یہ پیغمبر اسلامؐ کی توہین ہے اور اس لیےاسے مر جانا چاہئے !!۔

امراوتی پولیس نے قتل کی واردات میں استعمال ہونے والا چاقو،موبائل فون،گاڑی اور جرم میں استعمال ہونے والے کپڑے قبضے میں لےلیے جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلیے ہیں ہے۔ضبط شدہ الیکٹرانک آلات ڈی ایف ایس ایل کو بھیج دیے ہیں،اور تکنیکی شواہد کی جانچ پڑتال جاری ہے۔تمام گرفتار ملزموں اور ان کے افراد خاندان کے بینک اکاؤنٹس حاصل کرلیے گئے ہیں اور جانچ جاری ہے۔
مقتول کے فرزندسنکیت سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیاان کے والد کاقتل سوشل میڈیاپوسٹ کی وجہ سےہوسکتا ہے،سنکیت نے انڈین ایکسپریس کو بتایاکہ” میرے والد بہت خوش مزاج انسان تھے۔انہوں نے کبھی کسی کے بارے میں برا نہیں کہا اور نہ ہی ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق تھا۔سنکیت نے کہا کہ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ انہیں ان کی سوشل میڈیا پوسٹ پر قتل کر دیا گیا۔لیکن میں نے ان کا فیس بک پروفائل چیک کیا تو مجھے کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملی۔اب پولیس ہی بتاسکتی ہے کہ قتل کا مقصد کیا تھا۔لیکن میں یقین سےکہہ سکتا ہوں کہ انہیں ڈکیتی کی غرض سے قتل نہیں کیا گیا تھا۔
امراوتی سٹی پولیس کمشنر آرتی سنگھ نے اس معاملہ میں انڈین ایکسپریس کو بتایا”اس معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ہم دیگر کی تلاش میں مصروف ہیں۔جن کی گرفتاری سے ہمیں قتل کے پیچھے محرکات کی وضاحت ہو جائے گی۔”

