حیدرآباد کے اسکراپ گودام میں آگ،11 بہاری مزدور ہلاک
صدر جمہوریہ،وزیراعظم،چیف منسٹر اور وزیر داخلہ کا اظہار افسوس
مہلوکین کے ورثا کو ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے ایکس گریشیا
وزیر داخلہ نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا،گودام کا مالک گرفتار
حیدرآباد:23۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام)
حیدرآباد کے سکندرآباد علاقہ میں آج صبح کی اولین ساعتوں میں ایک اسکراپ گودام میں بھڑک اٹھنے والی مہیب آگ کے افسوسناک واقعہ میں 11 مزدور زندہ نذرآتش ہوگئے۔جن کا تعلق ریاست بہار سے تھا جو کہ معاش کے حصول کے سلسلہ میں اس ٹمبر ڈپو میں ملازمت کررہے تھے۔
سکندرآباد کے بھوئی گوڑہ علاقہ میں واقع ایک اسکراپ گودام میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جہاں 12 مزدور محوخواب تھے ان میں 11 مزدوروں کی افسوسناک موت واقع ہوگئی اور ایک مزدور اپنے آپ کو اس آگ سے بچانے میں کامیاب ہوگیا۔اس آگ کی اطلاع کے فوری بعد سنٹرل زون کے پولیس عہدیدار،ڈیزاسٹر مینجمنٹ فورس اور محکمہ فائز سرویس کا عملہ جائے حادثہ پر پہنچ گیا۔8 فائر انجنوں کی مدد سے فوری اس آگ پر قابو پالیا گیا تاہم اس وقت تک 11 مزدور اس آگ کی نذر ہوچکے تھے۔

مہلوکین کی شناخت سکندر(40 سالہ)،بٹو(23 سالہ)،دامودر (27 سالہ)،دنیش (35 سالہ)،سکندر(35 سالہ)، چنٹو(17 سالہ)،راجو(23 سالہ)،پنکج(26 سالہ)،دیپک(26سالہ)،راجیش(25 سالہ) اور گولو(25 سالہ) کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے۔جبکہ پریم اور دیگر دو افراد اس واقعہ میں شدید جھلس گئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔اندازہ لگایا جارہا ہے کہ آگ کے باعث اس گودام کی چھت منہدم ہوجانے سے اتنی بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔اس حادثہ سے متعلق پولیس مختلف زاوئیوں سے تحقیقات میں مصروف ہے۔
سکندرآباد کے بھوئی گوڑہ کے اس گودام میں پیش آئے اس حادثہ میں 11 افراد کی ہلاکت پر چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے شدید غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اور بہار کے متوطن ان 11 مہلوک مزدوروں کے افراد خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مہلوکین کے پسماندگان کو فی کس 5 لاکھ روپئے کی ایکس گریشیا دی جائے گی۔
سکندرآباد کے اسکراپ میں بھڑکنے والی مہیب آگ اور اس میں 11 مزدوروں کی موت پر صدرجمہوریہ ہند مسٹر رام ناتھ کووند نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔صدر جمہوریہ ہند نے مہلوکین کے افراد خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس حادثہ کے زخمیوں کی عاجلانہ صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
اس سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے بھی سکندرآباد کے بھوئی گوڑہ کے ٹمبر ڈپو حادثہ پر شدید غم اور افسوس ظاہر کیا ہے۔دفتر وزیراعظم سے کیے گئے ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم نریندر مودی نے اس حادثہ کے مہلوکین کے افراد خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مہلوکین کے افراد خاندان کو پرائم منسٹر نینشنل ریلیف فنڈ سے فی کس دو لاکھ روپئے کی ایکس گریشیا دی جائے گی۔
سکندرآباد کے بھوئی گوڑہ کے ٹمبرڈپو میں پیش آئے اس افسوسناک واقعہ کی اطلاع کے بعد ریاستی وزیر داخلہ محمدمحمود علی اور وزیرافزائش مویشیان تلسانی سرینواس یاوو اور چیف سیکریٹری سومیش کمار نے متاثرہ اسکراپ گودام کا دؤرہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا۔
بعدازاں ریاستی وزیر داخلہ محمدمحمود علی نے سکندرآباد کے علاقہ بھوئی گوڑہ کے اسکراپ گودام میں پیش آئے آگ کے حادثہ میں 11 افراد کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہلوکین کے افراد خاندان کو حکومت کی جانب سے فی کس پانچ لاکھ روپئے ایکس گریشیا فراہم کی جائے گی۔اور ان مہلوکین کو نعشوں کو حکومت کی نگرانی میں ان کے مکانات تک روانہ کرنے کا بندوبست کیا جائے گا۔
بعد ازاں آج شام وزیرداخلہ محمدمحمود علی نے اس حادثہ میں بہاری مزدوروں کی ہلاکت پر شدید دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ایسے حادثات نہ ہوں اس کے لیے محکمہ پولیس،محکمہ فائر اور دیگر محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے سات اپنے دفتر واقع لکڑی کا پل میں اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔جس میں ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایم مہیندر ریڈی،محکمہ داخلہ کے پرنسپال سکریٹری روی گپتا، حیدرآباد پولیس کمشنر سی وی آنند،راچہ کونڈا پولیس کمشنر مہیش ایم بھگوت،گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کمشنر لوکیش کمار،محکمہ فائر کے ڈائریکٹر جنرل سنجے جین،ڈیزاسٹرمینیجمنٹ ڈائیریکٹر وشوا جیت کمپاٹی اور دیگر شریک تھے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ نے متعلقہ عہدیداروں سے جڑواں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں واقع گوداموں کی تفصیلات طلب کیں۔اور ان کے متعلق قانونی حیثیت بھی حاصل کی۔اس اجلاس میں چند ایک تجاویز پیش کی گئیں جس پر عنقریب عمل کیا جائے گا۔اس کے بعد ریاستی وزیر داخلہ محمدمحمود علی نے میڈیا نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ میٹنگ میں اعلیٰ عہدیداروں کی تجاویز کے مخاطب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ سروے کیا جائے گا۔اس کے بعد جی ایچ ایم سی اور محکمہ فائر کے عملہ کے ذریعہ ایک سرکولر جاری کیا جائے گا،جس میں اصول و قوانین کی پابندی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی جائے گی۔اور ان ہدایات کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں شہروں کے رہائشی مقامات پر جتنے بھی گودام موجود ہیں وہ پندرہ ، بیس سال پرانے ہیں۔قیام تلنگانہ کے بعد سے کسی گودام کو رہائشی علاقے میں اجازت نہیں دی گئی ہے۔انہوں نے سختی سےکہا کہ کسی بھی گودام میں اپنے ملازمین اور مزدوروں کو قیام کرنے اور کھانا پکانے کی اجازت ہر نہیں دی جائے گی۔کیونکہ گودام میں قیام کرنے کی وجہ سے ہی آج بھوئی گوڑہ حادثہ میں 11 افراد کی جانیں تلف ہوئی ہیں۔محمدمحمود علی نے کہا محکمہ فائز کے عملہ کو فون موصول ہونے کے صرف دو منٹ میں آتش فور عملہ موقعہ واردات پر پہنچا اور آگ بجھانے میں کامیاب ہوا۔
قبل ازیں کے ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے صبح سویرے جائے حادثہ پہنچ کر مقام حاثہ کا معائنہ کیا اور وہاں پر موجود متعلقہ اعلیٰ عہدیداروں سے تفصیلات طلب کیں۔جس پر انہیں بتایا گیا کہ صبح سویرے 3.30 بجے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ لگی ہے۔ گودام میں 12 مزدور مقیم تھے جن میں سے 11 ہلاک ہو گئے ہیں۔جبکہ ایک مزدور زیر علاج ہے۔وزیر داخلہ نے گاندھی ہاسپٹل کے مردہ خانہ پہنچ کر نعشوں کا مشاہدہ کیا۔۔وزیر داخلہ محمدمحمود علی نے کہا کہ گودام کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔اس پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

