تلنگانہ میں برقی چارجس میں اضافہ
گھریلو اور کمرشیل صارفین پر ایک اور بوجھ
حیدرآباد :23۔مارچ(سحرنیوز ڈاٹ کام)
ریاست تلنگانہ میں برقی چارجس میں اضافہ کا حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے۔ڈسٹری بیوشن کمپنی (ڈسکام) کی سفارش کے بعد تلنگانہ اسٹیٹ الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن نے ان برقی چارجس میں اضافہ کو منظوری دے دی ہے۔
ریاست تلنگانہ میں موجودہ برقی چارجس میں 14 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے آج تلنگانہ اسٹیٹ الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن(ٹی ایس ای آر سی) نے احکام جاری کیے ہیں۔
تلنگانہ اسٹیٹ الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن نے اضافہ شدہ برقی چارجس کے ذریعہ گھریلو برقی صارفین کے لیے فی برقی یونٹ 40 تا 50 پیسے کے اضافہ کا اعلان کیا ہے۔جبکہ دیگر کمرشیل صارفین پر فی یونٹ ایک روپیہ کے اضافہ کا بھاری بوجھ عائد کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ڈسکام کی جانب سے برقی چارجس میں 19 فیصد اضافہ کی سفارش کی گئی تھی تاہم تلنگانہ اسٹیٹ الکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن نے 14 فیصد اضافہ کو منظوری دی ہے۔
تاہم برقی چارجس میں اضافہ کی تجویز اور احکام پر ریاستی چیف منسٹر کے۔چنراشیکھرراؤ کے فیصلہ اور اجازت کا انتظار ہے۔اگر چیف منسٹر ان احکام اور تجاویز کو منظوری دے دیتے ہیں تو پھر اضافہ شدہ برقی چارجس پر یکم اپریل سے عمل آوری یقینی ہے۔اور اس سلسلہ میں باقاعدہ سرکاری طور پر احکام جاری کیے جائیں گے۔
آسمان چھوتی مہنگائی کے دؤران ریاست میں برقی شرحوں میں اضافہ سے عوام پر مزید مالی بوجھ عائد ہوگا جو کہ پہلے ہی آمدنی میں کمی اور کم ہوتے روزگار کے مواقعہ کے مسئلہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔
کل ہی مرکزی حکومت کی جانب سے پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں 50 روپئے اور پٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیتر 80 پیسے کے اضافہ سے عوام کا برا حال ہے،اب عین موسم گرما جس میں کولرز،ایرکنڈیشنڈ اور فیان کے زیادہ استعمال سے برقی کھپت زیادہ ہوتی ہے۔اب برقی چارجس میں اضافہ سے عوام کے پسینے چھوٹنا لازمی نظر آرہا ہے!!

