ضلع وقارآباد کا کوٹ پلی پراجکٹ محکمہ سیاحت کے حوالے

ضلع وقارآباد کا کوٹ پلی پراجکٹ محکمہ سیاحت کے حوالے

پی ٹی ایف کو دیا گیاکشتی رانی کا اجازت نامہ منسوخ

تانڈور ۔11۔فروری (سحر نیوز ڈاٹ کام) ضلع وقارآباد میں موجود متحدہ ضلع رنگاریڈی (میڑچل،رنگاریڈی) کا سب سے بڑا آبپاشی پراجکٹ کوٹ پلی پراجکٹ کو ریاستی حکومت نے محکمہ سیاحت کے حوالے کرنے کے احکام جاری کیے ہیں۔

کوٹ پلی پراجکٹ،  تصویر : سحر نیوز ڈاٹ کام

24 فیٹ ذخیرہ آب کا حامل کوٹ پلی پراجکٹ گزشتہ چند سال سے سیاحت کا اہم مرکز بن گیا ہے اس پراجکٹ میں چند سال قبل مقامی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کی غرض سے پروگریسیو تلنگانہ فاؤنڈیشن کو کشتی رانی کی اجازت دی گئی تھی اب اس اجازت نامہ کو بھی حکومت نے منسوخ کردیا ہے۔
مانا جارہا ہے کہ اب کوٹ پلی پراجکٹ کو محکمہ سیاحت کی جانب سے ترقی دیتے ہوئے اسے سرکاری طورپر ریاست کے سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کیا جائے گا اور پراجکٹ میں کشتی رانی اور دیگر سیاحتی سرگرمیوں کو محکمہ سیاحت کی جانب سےفروغ دیا جائے گا۔

کوٹ پلی پراجکٹ،  تصویر : سحر نیوز ڈاٹ کام

1967ء میں تعمیرکیے گئے کوٹ پلی پراجکٹ کے ذریعہ وقارآباد کے دھارور اور کوٹ پلی منڈلات میں موجود 18مواضعات کی9200 ایکڑ اراضی سیر آب ہوتی ہے جسکے ذریعہ کسان ربیع سیزن میں تور، مونگ پھلی اور دیگر فصلوں کی کاشت کرتے ہیں وہیں اس پراجکٹ کے ذریعہ سینکڑوں مچھیروں کا روزگاربھی جڑا ہوا ہے۔

چند سال سے کوٹ پلی پراجکٹ سیاحتی علاقہ میں تبدیل ہو گیا تھا جہاں بالخصوص ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات میں حیدرآبا کے علاوہ اضلاع محبوب نگر ، سنگاریڈی، رنگاریڈی ، میڑچل کے بشمول ضلع وقارآبا د کے علاوہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے بیدر، گلبرگہ اور مختلف مقامات سیاحوں کی بڑی تعداد اننت گیری ہلز کیساتھ ساتھ کوٹ پلی پراجکٹ کا رخ کرتے ہوئے یہاں کشتی رانی کے علاوہ، تیراکی ،مچھلیوں کا شکار سے لطب اندوز ہوا کرتی ہے۔

کوٹ پلی پراجکٹ، تصویر : سحر نیوز ڈاٹ کام

اس کوٹ پلی پراجکٹ کی سطح آب تشویشناک حد تک تک پانچ فیٹ تک رہ گئی تھی تاہم گزشتہ سال ضلع وقارآباد میں سالانہ اوسط سے زیادہ بارش ہونے کے بعد یہ پراجکٹ جولائی ، اگست میں ہی لبریز ہوگیا تھا۔

پھر گزشتہ سال ہی اکتوبر ، نومبر میں ہونے والی شدید بارش کے بعد اس پراجکٹ سے متعدد مرتبہ زائد پانی کا اخراج عمل میں آیا تھا۔کوٹ پلی پراجکٹ کی یہی حالت 2016ء میں شدید بارش کے بعد بھی ہوئی تھی بعدازاں چار سال کے وقفہ کے بعد کوٹ پلی پراجکٹ دوبارہ 2020ء لبریز ہوگیا اب اس کی مکمل سطح آپ پُر ہے۔

وقارآباد کے دھارور منڈل اور کوٹ پلی منڈل کے علاوہ دیگر مواضعات کے کسانوں کو اب یہ اندیشہ ستارہا ہے کہ کوٹ پلی پراجکٹ جوکہ خالص آبپاشی کی غرض سے تعمیر کیا گیا تھا اب محکمہ سیاحت کے حوالے کیے جانے کے بعداس پراجکٹ کو خالص سیاحت کی غرض سے استعمال کیا جائے گا یا پھر اس میں مچھیروں کو مچھلیوں کی افزائش اور روزگار کے علاوہ زراعت کے لیے بھی اس پراجکٹ سے اراضیات جوں کا توں سیر آب کی جائیں گی !!

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ پروگریسیو تلنگانہ فاؤنڈیشن کے بانی روتو کنکیا اور سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈا وشویشورریڈی نے پانچ سال قبل ضلع کے مختلف مواضعات سے بیروزگار نوجوانوں کو منتخب کرتے ہوئے انہیں چنئی روانہ کرکے کشتی رانی کی تربیت دی تھی جسے آسٹریلیا میں قائم انٹرنشینل تنظیم "راشٹریہ لائف سیونگ سوسائٹی ” نے اسپانسر کیا تھا۔

جس کے بعد انہیں پروگریسیو تلنگانہ فاؤنڈیشن کی نمائندگی پر مختلف ذرائع سے کشتیاں اور بوٹس فراہم کی گئی تھیں ۔ہفتہ اور اتوار کے علاوہ تعطیلات میں سیاحوں کے ہجوم کے باعث فی الوقت 40 افراد کوٹ پلی پراجکٹ میں کشتی رانی کے ذریعہ اپنا روزگار حاصل کررہے ہیں۔

جبکہ عام دنوں میں 6 افراد اس کام پر متعین ہوتے ہیں۔ اب یہ واضح نہیں ہوپایاہے کہ محکمہ سیاحت کی جانب انہی افراد کے روزگار کو جاری رکھا جائے گا یا پھر انکے مقام پر دیگر افراد کو یا پھر دوسرے کسی خانگی ادارہ کو کوٹ پلی پراجکٹ میں کشتی رانی کی اجازت دی جائے گی۔