مساجد اور درگاہوں میں رات 10بجے تا6 بجے صبح لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ،کرناٹک وقف بورڈ کا فرمان

مساجد اور درگاہوں میں رات 10بجے تا 6 بجے صبح لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی،کرناٹک وقف بورڈ کا فرمان

بنگلور: 17 مارچ (سحرنیوز ڈاٹ کام)
کرناٹک ریاستی وقف بورڈ نے ریاست کی مساجد اور درگاہوں کو ایک سرکیولر جاری کرتے ہوئے رات 10 بجے کے بعد سے صبح 6بجے تک لاؤڈ اسپیکرس کے استعمال پر پابندی عائد کیے جانے کا فرمان جاری کیا ہے اس کے بعد کرناٹک کی مساجد سے اب فجر کی اذاں پر پابندی عائد ہوجائے گی اس کی وجہ بڑھتی ہوئی صوتی آلودگی کو روکنا بتایا گیا ہے۔

ساتھ ہی چیف ایگزیکٹیو آفیسر کرناٹک وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردی اس فرمان میں ہدایت دی گئی ہے کہ جمعہ کے خطبات ، بیان ، مذہبی اجتماعات اور دیگر اجتماعات کے وقت اندرون احاطہ مساجد میں نصب لاؤڈ اسپیکرس کا ہی استعمال کیا جائے اور اسکے لیے مساجد اور درگاہوں میں معیاری لاؤڈ اسپیکرس کا استعمال کیا جائے۔ لاؤڈ اسپیکر س کا استعمال صرف اذاں یا کوئی خاص اطلاع کی فراہمی کی غرض سے ہی دن کے اؤقات میں کیا جائے ۔
اس سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ دیکھا جارہا ہے کہ مساجد اور درگاہوں میں لاؤڈ اسپیکرس اور دیگر اڈریس سسٹم کی وجہ سے ان کے اطراف ہونے والا شور انسانی صحت اور ان کی نفسیات کے لیے نقصاندہ ثابت ہورہا ہے۔

اور ساتھ ہی 100 میٹر کے دائرہ میں موجود ہسپتال، عدالتیں اورتعلیمی ادارے خاموش زون کے دائرہ میں آتے ہیں۔اس سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ جو کئی ان خاموش زون میں لاؤڈ اسپیکرس کا استعمال ، پٹاخوں کی آتشبازی اور پبلک اڈریس سسٹم کے ذریعہ شور شرابہ کرے گا اسکے خلاف تحفظ ماحولیات ایکٹ 1986 کی دفعات کے تحت جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

کرناٹک وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اس سرکیولر میں وضاحت کی گئی ہے کہ کرناٹک اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے مذہبی مقامات اور اس کے آس پاس ماحولیا ت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت اور مناسب کارروائی کے بعد ہی یہ سرکیولر جاری کیا جارہا ہے۔

اسی دؤران آج جاری کردہ کرناٹک وقف بورڈ ایک اور سرکیولر کے ذریعہ وضاحت کی گئی ہے کہ قبل ازیں جاری کردہ سرکیولر کا غلط مطلب لیا گیا ہے۔اس نئے سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ نماز فجر کی اذاں لاؤڈ اسپیکر پر دئیے جانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے نماز فجر کی اذاں لاؤڈ اسپیکر پر دی جاسکتی ہے۔!!