کرناٹک ہائی کورٹ کالجوں کو کھولنے کی ہدایت دے گی
لیکن معاملہ کے فیصلہ تک کوئی بھی طالب علم مذہبی لباس پہننے پر اصرار نہیں کرے گا
چیف جسٹس:معاملہ کی اگلی سماعت پیر 14 فروری کو ہوگی
بنگلورو:10۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
معزز چیف جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ریتو راج اوستھی نے حجاب معاملہ کی درخواست پر آج سہء رکن بنچ کی قیادت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں کو دوبارہ کوکھول دینے کی ہدایت جاری کرے گی۔
لیکن اس معاملہ کے فیصلہ تک کوئی بھی طالب علم اپنا مذہبی لباس پہن کر کالج آنے پراصرار نہیں کرے گا کیوں کہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔اور اب اس معاملہ کی اگلی سماعت پیر 14 فروری کو ڈھائی بجے دن ہوگی۔
یاد رہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ کے معزز جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ڈکشٹ کرشنا شری پد کی ایک رکنی بنچ نے مسلم طالبات کے کالجوں میں حجاب پہن کر جانے پر پابندی کے خلاف دائر کردہ درخواستوں پر 8 فروری اور کل 9 فروری کو سماعت کرنے کے بعد معزز جسٹس ڈکشٹ نے اس معاملہ کو چیف جسٹس کرناٹک کے روبرو پیش کرنے اور اس معاملہ کی وسیع بنچ کے ذریعہ سماعت کی سفارش کی تھی۔
جس کے بعد کل ہی کرناٹک کے معزز چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے آج جمعرات 10 فروری سے حجاب کے معاملے کی سماعت کے لیے تین ججوں کی بنچ تشکیل دی۔آج اس معاملہ کی اس سہء رکنی بنچ نے معزز چیف جسٹس ریتو راج اوستھی کی قیادت میں معزز جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور معزز جسٹس قاضی زیب النسا محی الدین نے سماعت کی۔دوسری جانب حجاب کے خلاف زعفرانی تنظیموں اور مختلف کالجوں میں طلبہ کی جانب سے زعفرانی شال اور کھنڈوے پہن کر احتجاج شروع کیا گیا تھا۔

کرناٹک حجاب معاملہ کے شدت اختیار کرجانے کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کرناٹک مسٹر بسواراج بومائی نے 8 فروری کو ٹوئٹ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ریاست کے تمام اسکولوں اور کالجوں کو آئندہ تین دن کے لیے بند کیا جارہا ہے۔اس طرح 9 فروری بروز چہارشنبہ سے 11 فروری تک کرناٹک میں تمام سرکاری اور خانگی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

