کرناٹک میں انتخابی مہم زوروں پر 10 مئی کو رائے دہی،13 مئی کو نتائج
وزیراعظم نریندر مودی پر پرینکا گاندھی کا طنز، ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل
آئی ٹی عہدیداروں نے درخت میں چھپائے گئے ایک کروڑ روپئے ضبط کرلیے
بنگلورو : 04/مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)
ریاست کرناٹک میں اسمبلی کے انتخابات کی مہم زوروں پرہے، جہاں 10 مئی کو ووٹنگ اور 13 مئی کوووٹوں کی گنتی ہونے والی ہے،انتخابی تجزیوں کے مطابق کرناٹک میں برسر اقتدار بی جے پی اور کانگریس میں اصل مقابلہ ہے۔جبکہ کئی اداروں نے اپنے اپنے سروےکے مطابق پیش قیاسی کی ہے کہ کانگریس اقتدار حاصل کرے گی اور بی جے پی کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔!
کرناٹک میں انتخابات کے دؤران بڑے پیمانے پر رائے دہندوں میں رقم کی تقسیم کے معاملات بھی سامنے آرہے ہیں اور رقم کی کی ضبطی کا سلسلہ جاری ہے۔کل میسور میں محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں نے کئی سیاسی قائدین اور ان کے رشتہ داروں کے مکانات پر دھاوے منظم کیے۔اسی دوران ایک مکان سے آئی ٹی کے عہدیداروں نے ایک کروڑ روپئے ضبط کرلیے جو ایک مکان میں موجود آم کے درخت میں باندھ کر چھپائے گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق یہ مکان پوتور اسمبلی حلقہ کے کانگریسی امیدواراشوک رائے کے بھائی سبرامنیا رائے کا ہے۔تلاشی کے دوران عہدیداروں کو اس مکان کےدرخت پر ایک پیاکٹ نظر آئی جسےتحویل میں لےکرکھولا گیا تو اس میں رقم موجود تھی۔بعدازاں محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں نے ایک کروڑ روپئے ضبط کرلیے۔
کرناٹک اسمبلی کا تفصیلی جائزہ اور جاریہ انتخابی مہم کی تفصیلات :
10 مئی کو کرناٹک اسمبلی کی 224 نشستوں کےلیے ووٹنگ ہونےوالی ہے۔کرناٹک میں سب زیادہ کانگریس پارٹی کا اقتداررہاہے۔2018 میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 104 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اس نے 36.35 فیصدووٹ حاصل ہوئےتھے۔جبکہ کانگریس کو 80 نشستوں پر کامیابی ملی تھی اس نے 38.14 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔جنتادل سیکولر(جے ڈی ایس)کو 37 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں اور 18.30 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
جس کے بعد سب سے بڑی پارٹی کے طور پر بی جے پی کوحکومت بنانےکی دعوت دی تھی جبکہ درکار اکثریت سے 9 ارکان کی تعداد کم تھی تاہم بی ایس یڈی یورپا نے چیف منسٹر کےعہدہ کا حلف لیاتھا جنہیں گورنرنے اکثریت ثابت کرنے کےلیے 15 دنوں کی مہلت دی تھی۔جبکہ کانگریس اور جے ڈی ایس نے 117 نشستوں کےساتھ مخلوط حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا جسے نظر انداز کردیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اس کے بعد اکثریت ثابت کرنےکےلیے بی جے پی کو 3 دن تک محدود کر دیا تھا تاہم چیف منسٹر یڈی یورپا نے اعتماد کاووٹ حاصل کرنے سے 10 منٹ قبل عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔بعد ازاں کانگریس اور جے ڈی ایس نے دو آزاد امیدواروں کی تائید سے کرناٹک میں مخلوط حکومت تشکیل دی اور ایچ ڈی کمارا سوامی نے چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالا اور مخلوط کابینہ تشکیل دی۔
یہ مخلوط حکومت 14 ماہ تک چلی۔حکمران اتحاد کے 16 ارکان قانون ساز نے 2 دن کےاندر استعفیٰ دے دیا اور 2 آزاد ایم ایل ایز نے بی جے پی کی حمایت کی۔اس سے ایوان کی اکثریت سکڑ کر 105 رہ گئی اور حکمران اتحاد 101 اور اپوزیشن بی جے پی 107 تک پہنچ گئی۔ 3 ہفتوں کے ہنگامے کے بعد ایچ ڈی کمارسوامی نے 23 جولائی 2019ء کو ایوان میں 100-107 سے اعتماد کا ووٹ کھودیا اپنے عہدہ سےاستعفیٰ دے دیا۔
اس وقت کانگریس کے 11 اور جے ڈی ایس کے 6 ارکان نے پارٹی چھوڑ دی تھی اس کے بعد 26 جولائی 2019 کوبی ایس یڈی یورپا نے ایک بار پھر کرناٹک کے چیف منسٹر کے طور پر عہدہ کاحلف لیا۔اس وقت کہا گیا تھا کہ آپریشن لوٹس کامیاب ہوگیا۔! پارٹیاں چھوڑنے کے بعد ان اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے جس کے بعد کانگریس کے ارکان اسمبلی کی تعداد 79 تک پہنچ گئی تھی۔
اب کرناٹک اسمبلی کے ہونے والے انتخابات کےلیے انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم نریندرمودی،مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، صدر کل ہند کانگریس ملک ارجن کھرگے،صدر بی جے پی جے پی نڈا،سابق صدر کانگریس راہل گاندھی،پرینکا گاندھی واڈرا، کارگزار چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی،سابق چیف منسٹر ایچ ڈی کمارا سوامی،صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی،چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کےعلاوہ دیگر کئی اہم شخصیتیں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔انتخابی جلسوں میں تقاریرکے دوران ایک دوسرے پر الزام تراشی اور غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال پر عوام حیرت زدہ ہیں۔
راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی انتخابی جلسوں میں اپنی تقاریر میں سخت تیور اپنارہے ہیں۔پرینکا گاندھی کا سیدھا نشانہ وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔گذشتہ دنوں من کی بات کے 100 ویں ایپی سوڈ میں اور کرناٹک کےایک انتخابی جلسہ سے اپنےخطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ کانگریس والوں نے انہیں اب تک 91 گالیاں دی ہیں۔
وزیراعظم نریندرمودی کی ان باتوں پر پر چٹکی لیتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کرناٹک کے جم کھنڈی میں انتخابی جلسہ سے خطاب میں کہا کہ میں نے
اندرا گاندھی کو دیکھا جنہوں نے ملک کے لیےگو لی کھائی،راجیو گاندھی کو دیکھاجو اس ملک کےلیے شہید ہوئے، نرسمہا راؤ کو دیکھا منموہن سنگھ کو دیکھا اس ملک کے لیے دن رات محنت کرتے ہوئے لیکن میں نے پہلا ایسا وزیراعظم دیکھاہے جو آپ کے سامنے آکر روتا ہے کہ مجھے گالی لگ رہی ہے،گالیاں دے رہے ہیں۔
پرینکا گاندھی نے اپنی تقریر میں عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دکھ سننے کے بجائے اپنا دکھڑا آپ کو سناتے ہیں۔مضحکہ اڑاتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اور کسی نے ان کے آفس میں بیٹھ کر ایک فہرست بنائی ہے اور وہ فہرست آپ کےدکھوں کی نہیں ہے، آپ کے مسائل کی فہرست نہیں ہے۔وہ یہ فہرست نہیں ہے کہ کسانوں کے مسائل کیا ہیں؟ہمیں کیا کرنا چاہئے کیا ہیں؟ بلکہ وہ فہرست یہ ہے کہ مودی جی کو کس نے کتنی بار گالی دی؟
” وزیراعظم نریندر مودی پر پرینکا گاندھی واڈرا کا طنز (ویڈیو 2 منٹ) "
https://www.facebook.com/priyankagandhivadra/videos/1374116636770710
اپنے خطاب میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ کم سے کم وہ ایک صفحہ پر فٹ تو آرہی ہیں اگر میرے خاندان کو جو گالیاں ہیں ان لوگوں نے ہم ان کی فہرست بنانا شروع کردیں تو ہم کتاب پہ کتاب،کتاب پہ کتاب چھپوالیں گے۔پرینکا گاندھی نے کہاکہ ہمت کریں مودی جی،میرے بھائی سے سیکھو،میرا بھائی کہتا ہے کہ میں گالی کیا گولی کھاؤں گا اس ملک کے لیے۔میرا بھائی کہتا ہے کہ میں سچائی کے لیے کھڑا رہوں گا۔تم گالی دو، گولی دو،چھرا مارو،کچھ بھی کرلو۔پرینکا گاندھی واڈرا کے اس خطاب کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں وائرل ہوئے ہیں۔
پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیراعظم کومشورہ دیا کہ گھبراؤ مت مودی جی عوامی زندگی میں یہ سب سہنا پڑتاہے۔ہمت رکھنی پڑتی ہے،آگے بڑھنا پڑتا ہے۔عوام کا احترام کرنے کا جمہوریت کی بنیاد ہے اور کانگریس نے اس کو مضبوط کیا۔اور اسی کے ذریعہ حکومتیں بنتی ہیں۔
جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنے انتخابی جلسوں میں عوام کو تیقن دیا کہ کرناٹک میں کرپشن کا خاتمہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کرناٹک میں بہت کام کیا ہے۔مسلمانوں کے 4 فیصد ریزرویشن کو ختم کیا ہے۔ساتھ ہی انہوں نے عوام کو متنبہ کیا کہ کانگریس اگر اقتدار میں آئی تو فسادات ہوں گے۔اور کرپشن میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نےعوام کوتہواروں کےوقت تین مفت پکوان گیس کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا۔وہیں بی جے پی کےانتخابی مینی فیسٹو میں کرناٹک میں یکساں سول کوڈ اور این آر سی کےنفاذ کا تیقن دیا گیا ہے۔
جبکہ کانگریس کے مینی فیسٹو میں کئی ایک وعدے کیے گئے ہیں جن میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی بحالی بھی شامل ہیں تاہم اس مینی فیسٹو میں بجرنگ دل اور پی ایف آئی پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا،جوکہ سب کےلیے حیرت انگیز ہے۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس نے اس کے ذریعہ بی جے پی اور مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک ہتھیار فراہم کر دیا ہے۔!مینی فیسٹو تفصیلات اس ویڈیو میں سنی جاسکتی ہیں۔
” ویڈیو دیڑھ منٹ "
گذشتہ دن وزیراعظم نریندر مودی نے کرناٹک میں ایک جلسہ عام سے اپنے خطاب میں کہاکہ اب تو کانگریس نے اقتدار میں آنے کے بعد بجرنگ بلی کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے تک کا اعلان کردیاہے۔! فی الوقت وزیراعظم کرناٹک کےایک ہفتہ طویل دورہ پرہیں اورانتخابی جلسوں اور ریالیوں سے خطاب میں مصروف ہیں۔
ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بی جے پی کانگریس کے انتخابی منشور میں شامل بجرنگ دل پر امتناع عائد کیے جانے کے معاملہ کو اُچک لیا ہے، اور یہ اس کی انتخابی مہم کا اہم ہتھیار ہوگا۔! کیونکہ بشمول وزیراعظم ہر بی جے پی لیڈر کے جلسوں میں بجرنگ بلی کی گونج سنائی دے رہی ہے۔جبکہ کانگریس کے مینی فیسٹو میں بجرنگ دل کے ساتھ پی ایف آئی کا ذکر بھی موجود ہے۔!!
” ویڈیو ڈھائی منٹ "
” وزیراعظم نریندر مودی گلبرگہ میں بچوں سے ملاقات کے دؤران” (سوشل میڈیا پر اس ویڈیو پر تنقید کی جارہی ہے کہ وزیراعظم نے ان بچوں کے ساتھ ہاتھ تک نہیں ملایا۔!! اور اس ویڈیو کے میمز Memes# بھی بنائے گئے ہیں)
سابق صدر کل ہند کانگریس راہل گاندھی بھی کرناٹک کے انتخابی جلسوں سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ انتخابات ان کے لیے نہیں ہورہے ہیں جو وہ صرف اپنے بارے میں ہی بتارہے ہیں۔راہل گاندھی نے کہا کہ آپ چاہے جتنے گھنٹے تقریر کریں اس میں سے 70 فیصد وقت اپنی کہانی سنائیں باقی کے 30 فیصد کرناٹک کے متعلق بات کریں، کرناٹک کے لیے کیا کیا وہ بتائیں اور ساتھ ہی کرناٹک کے چیف منسٹر اور بی جے پی قائدین کا بھی اپنی تقاریر میں ذکر کریں۔

صدر کل ہند کانگریس ملک ارجن کھرگے بھی اپنے انتخابی جلسوں میں وزیر اعظم کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔کہ کرناٹک کے عوام کو روٹی، کپڑا مکان اور روزگار کی ضرورت ہے آپ کی 56 انچ کی چھاتی سے کسی کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔؟

