اداکارہ جوہی چاؤلہ سماجی خدمات کے لیے تیار، دہلی ہائی کورٹ نے 20 لاکھ روپئےکے جرمانے کو دو لاکھ روپئے کردیا

اداکارہ جوہی چاؤلہ سماجی خدمات کے لیے تیار
دہلی ہائی کورٹ نے 20 لاکھ روپئےکے جرمانے کو دو لاکھ روپئے کردیا
گزشتہ سال 5۔جی سرویس کو روکنے کی درخواست پر عائد کیا گیا تھا جرمانہ

نئی دہلی: 27۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

فلم اداکارہ جوہی چاؤلہ کی جانب سے دہلی کورٹ کی لاگو شرط کو قبول کرلینے کے بعد ہائی کورٹ نے آج ان پر عائد کردہ 20 لاکھ روپئے کے جرمانے کی رقم میں کمی کرتے ہوئے اس جرمانہ کی رقم کو دو لاکھ روپئے کردیا ہے۔

اور اداکارہ جوہی چاولہ کے خلاف اپنے ایک جج کے اس ریمارکس کو خارج کر دیا کہ انہوں نے شہرت حاصل کرنے کی غرض سےصحت کے خطرات کے پیش نظر ملک میں 5G وائرلیس نیٹ ورکس کے آغاز کو چیلنج کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا۔

معزز جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے جوہی چاولہ پر عائد 20 لاکھ روپئے کے جرمانہ کی رقم کو کم کر تے ہوئے 2 لاکھ روپئے کر دیا۔جن پر یہ کہتے ہوئے کہ انہوں نے 5 جی کے معاملے کو”غیر سنجیدہ اور غیر معمولی انداز” میں نہیں اٹھایا عائد کیا گیا تھا۔

ڈویژن بنچ نے سنگل جج کی جانب سے 4 جون 2021 کو صادر کیے گئے فیصلہ کو برخاست کردیا۔جس میں جوہی چاولہ اور دیگر دو افراد کی جانب سے دائر کیا گیا کیس اس ریمارک کے ساتھ خارج کر دیا تھا کہ یہ عیب دار،قانون کے عمل کا غلط استعمال اور شہرت حاصل کرنے کے مقصد کے تحت داخل کیا گیا ہے۔

واقعہ کی تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال فلم اداکارہ جوہی چاؤلہ دیگر دو ماہرین ماحولیات کے ساتھ مل کر دہلی ہائی کورٹ میں ایک کیس دائر کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی تھی کہ عوامی صحت اور ماحولیات کے مفاد میں 5 جی وائر لیس نیٹ ورک کے آغاز کو روکا جائے۔

اس کیس کی کئی مرتبہ سماعت کرنے کے بعد ہائی کورٹ نے جوہی چاؤلہ پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 5 جی کی وجہ سے انسانوں،جانوروں اور ماحولیات کے لیے نقصاندہ قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیر کرنا اور عدالت سے رجوع ہونا شہرت حاصل کرنا کا ایک ذریعہ ہے اور اس قسم کی درخواستوں کے ذریعہ عدالت کا وقت ضائع کیا گیا ہے جس سے کوئی فائدہ نہیں۔

جوہی چاؤلہ کی اس درخواست کو خارج کرتے ہوئے 4 جون 2021 کو دہلی ہائی کورٹ نے جوہی چاؤلہ پر 20 لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور انہیں اس کے خلاف اپیل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی تھی۔دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد جوہی چاؤلہ نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر جرمانہ کی رقم کم کرنے کی استدعا کی تھی۔

جس پر سماعت کرتے ہوئے منگل کے دن معزز جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے کہا تھا کہ اگر جوہی چاؤلہ سماجی خدمات کی انجام دہی کے لیے آگے آتی ہیں تو ان کے جرمانے کی رقم کو 20 لاکھ روپئے سے گھٹاکر دو لاکھ روپئے کردیا جائے گا۔جس پر جوہی چاؤلہ”دہلی اسٹیٹ لیگل سرویسس اتھارٹی” (ڈی ایس ایل ایس اے) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے آگے آئیں جہاں سے مستحقین کو مفت قانونی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

ساتھ ہی جوہی چاؤلہ نے دہلی ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا کہ وہ سماجی خدمات انجام دیں گی۔جوہی چاؤلہ نے عدالت کو بتایا کہ سینئر وکیل سلمان خورشید کے مشورہ پر دہلی اسٹیٹ لیگل سرویسس اتھارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا ان کے لیے باعث فخر ہے۔

آج ورچول سماعت کے دؤران دہلی کورٹ کے ان دونوں معزز ججوں نے جوہی چاؤلہ پر شہرت کے لیے کیس دائر کرنے والے عدالت کے سابقہ ریمارک کو ہٹادیا۔ساتھ ہی معزز ججس جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس جسمیت سنگھ نے کہا کہ جوہی چاؤلہ 5 جی نیٹ ورک کے متعلق مکمل تفصیلات حاصل نہیں کیں۔