تلنگانہ کے ظہیر آباد میں 400 کروڑ کی سرمایہ کاری سے ملک کی سب سے بڑی آئسکریم فیکٹری کا آغاز

تلنگانہ کے ظہیر آباد میں 400 کروڑ کی سرمایہ کاری سے
ملک کی سب سے بڑی آئسکریم فیکٹری کا آغاز
یومیہ 100 ٹن آئسکریم اور سات ٹن چاکلیٹ کی تیاری

حیدرآباد: 12۔نومبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاست تلنگانہ بالخصوص دارالحکومت حیدرآباد اور اس کے مضافاتی اضلاع میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کاسلسلہ جاری ہے۔ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں تلنگانہ حکومت کی جانب سے مکمل سہولتوں کی فراہمی،بلاءوقفہ برقی سربراہی،مذہبی جنونیت سے پاک اور لا آینڈ آرڈر کی بہتر صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔

حیدرآباد۔ممبئی نیشنل ہائی وے نمبر 65 (حالیہ 9) پر حیدرآباد سے 96 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجودسنگاریڈی ضلع کےظہیر آباد کواب سارے ملک میں ایک اور پہچان حاصل ہوئی ہے۔جہاں پہلے ہی سے مہیندرا اینڈ مہیندرا،الانا ایکسپورٹ اور ایم آر ایف ٹائر فیکٹری کے علاوہ دیگر اہم کمپنیاں قائم ہیں اسی ظہیرآباد میں اب ملک کے سب سے بڑے ” میگا آئس کریم پلانٹ "نے کام کرنا شروع کردیا ہے۔

ظہیرآباد میں ملک کی مشہور کمپنی ہیٹسن ایگرو پروڈکٹس لمیٹڈ Hatsun Agro Product Ltd #HAP#جسکے پراڈکٹ”ارون آئس کریمز اور ایباکو”کے نام سےمشہور ہیں کےسات ٹن یومیہ چاکلیٹ پروسیسنگ پلانٹ اور 100 ٹن یومیہ آئس کریم مینوفیکچرنگ پلانٹ کا جمعرات 10 نومبرسے آغازہوگیا ہے۔اب ریاست تلنگانہ اور حیدرآباد اپنی بریانی اور شیروانی کےساتھ ساتھ ہندوستان کی سب سے بڑی آئسکریم فیکٹری کی موجودگی کے نام سے بھی ملک و بیرون ملک پہچان حاصل کریں گے۔

ریاستی وزیر آئی ٹی،صنعت و بلدی نظم ونسق کے۔تارک راما راؤ (کے ٹی آر)نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل اور فیس بک پیج پر باقاعدہ تلنگانہ کےظہیرآباد میں قائم ملک کی سب سے بڑی آئسکریم فیکٹری،آئسکریم کی تیاری، پیاکنگ اور آئسکریمس کی تصاویر ٹوئٹ اور پوسٹ کرتےہوئے لکھا ہے کہ "یہ بتاتے ہوئےخوشی ہورہی ہے کہ 7 ٹن یومیہ چاکلیٹ پروسیسنگ پلانٹ اور 100 ٹن یومیہ آئس کریم مینوفیکچرنگ پلانٹ کےساتھ ہیٹسن،جو ارون آئس کریم اور ایباکو کے نام سےمشہور ہے،تلنگانہ کےظہیر آباد میں آج ہندوستان کے سب سے بڑے آئس کریم مینوفیکچرنگ یونٹ کا گھر ہے۔

https://www.facebook.com/KTRTRS/posts/683487406468451

ساتھ ہی ریاستی وزیر کے ٹی آر نے لکھا ہے کہ 400 کروڑ روپئے کی اس سرمایہ کاری کےساتھ ہیٹسن کی تلنگانہ میں جملہ سرمایہ کاری 600 کروڑ روپئے ہے۔اسے تلنگانہ میں جاری”سفید انقلاب” کی گواہی قرار دیتے ہوئے ریاستی وزیر کے ٹی آر نےلکھا ہے کہ ظہیر آباد کے اس یونٹ میں کمپنی کی جانب سے روزانہ 10 لاکھ لیٹر دودھ خریداجائے گا۔جس سے 5،000 مقامی ڈیری کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ساتھ ہی انہوں نےلکھا ہے کہ یہ یونٹ 1500 افراد کو روزگار بھی فراہم کرے گا۔

دوسری جانب ہیٹسن ایگرو پروڈکٹس لمیٹیڈ کمپنی کےمتعدد ریاستوں میں میگا کولڈ اسٹوریج موجود ہیں،جس میں ایک تلنگانہ کےہی ضلع رنگاریڈی کے شاد نگر میں موجود ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جاریہ سال مارچ تک اس کمپنی کا کاروبار تقریباً 6,396 کروڑ روپئےتھا اور ٹیکس کے بعد منافع 218 کروڑ روپے تھا۔اس کمپنی میں زائداز 5,500 ملازمین اور 7,000 سے زیادہ کنٹراکٹ ملازمین و مزدور کام کرتے ہیں۔

اس کمپنی کی وسعت تمل ناڈو،آندھرا پردیش،تلنگانہ،کرناٹک اور مہاراشٹر کے 10،000 سے زیادہ دیہاتوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ہیٹسن ایگرو پروڈکٹس لمیٹیڈ اپنے دودھ اور دہی کو اپنے برانڈ "اروکیا”اور”ہاٹسن” کےذریعہ ان ریاستوں میں اپنے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک اورHAP# ڈیلی آؤٹ لیٹس کے ذریعہ مارکیٹنگ کرتی ہے۔اس کا منصوبہ ہےکہ مہاراشٹرا،کیرالہ،اڑیسہ،چھتیس گڑھ،مدھیہ پردیش،مغربی بنگال اور جھارکھنڈ جیسی نئی منڈیوں میں مزید آؤٹ لیٹس قائم کیے جائیں۔امکان ہے کہ یہ کمپنی اب اپنے ظہیر آباد پلانٹ کے ذریعہ تلنگانہ کی پڑوسی ریاستوں آندھرا پردیش،کرناٹک، مہاراشٹرا،تمل ناڈو، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کو آئسکریم اور چاکلیٹ سربراہ کرے گی۔!!