سپریم کورٹ نے فیک اکاؤنٹس پر مرکز اور ٹوئٹر کو جاری کیا نوٹس
نئی دہلی ۔12۔فروری (ایجنسیاں/سحر نیوز ڈیسک )
سپریم کورٹ نے آج سوشیل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر جعلی (فیک اکاؤنٹس) کے ذریعہ جھوٹی خبریں ، اشتہارات اور اشتعال انگیز مواد پھیلائے جانے کی شکایت پر مرکزی حکومت اور ٹوئٹر انڈیا انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا ہے۔
بی جے پی قائد نوگوئنکا نے اس سلسلہ میں سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں شکایت کی گئی تھی کہ ٹوئٹر اور فیس بک پر سینکڑوں کی تعدادمیں جعلی ، بوگس اور فیک ناموں کے ساتھ ٹوئٹر ہینڈل اور فیس بک گروپس/ اکاؤنٹ چلائے جارہے ہیں جن میں کئی نامور شخصیتوں کے ناموں سے بھی آئی ڈیز بنائی گئی ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل اشونی دوبے ایڈوکیٹ سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط کی اجرائی ناگزیر ہے اور اس سلسلہ میں سوشیل میڈیا پر منافرت انگیز مواد روکا جانا چاہئے ۔
سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ جس کی قیادت معزز چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڑے اور ساتھ میں معززجسٹس اے ایس بوپنا اور وی۔ رام سبرامنین نے اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں نوٹس جاری کی جارہی ہے ۔
درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے شکایت کی ہے کہ ٹوئٹر اور فیس بک پر سینکڑوں کی تعداد میں فیک / جعلی اور بوگس اکاؤنٹس کے ذریعہ منافرت اور جھوٹی خبریں پوسٹ کی جارہی ہیں اور یہی جھوٹی خبریں ملک میں دنگا فساد کا باعث بن رہی ہیں جس میں حالیہ دہلی کا فسا د بھی شامل ہے۔
اور ان جعلی اکاونٹس کے ذریعہ مذہب اور ذات پات کے درمیان نفرت پھیلائی جارہی ہے جس سے ملک کی یکجہتی کو خطرہ لاحق ہے ۔اس درخواست میں اعلیٰ عدالت کو واقف کروایا گیا ہے کہ ملک میں ٹوئٹر کے جملہ زائد از 35 ملین اکاؤنٹس ہیں جبکہ فیس بک پر 350 ملین اکاؤنٹس ہیں۔
اس سلسلہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر اور فیس بک پر دس، دس فیصد جعلی ، بوگس اور فیک اکاؤنٹس چلائے جارہے ہیں۔درخواست گزار بی جے پی قائد نوگوئنکا نے سپریم کورٹ میں داخل اپنی اس عرضی میں کہا ہے کہ ان سوشیل میڈیا کے جعلی اور بوگس کاونٹس کوزیادہ تر سیاسی جماعتیں اپنی تشہیر بالخصوص انتخابات کے موقع پر استعمال کرتی ہیں۔
عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ اس سلسلہ میں قانون وضع کیا جائے اور رہنمایانہ خطوط جاری کیے جائیں یہ شکایت بھی کی گئی ہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے مخالف ہند مہم کو جگہ دی جارہی ہے ۔

