حیدرآباد کے پرانا شہر میں حامد الزبیدی کے سنسنی خیز قتل میں ملوث چاروں ملزم بھائی گرفتار

حیدرآباد میں حامد الزبیدی کےسنسنی خیز قتل میں ملوث چاروں ملزم بھائی گرفتار

حیدرآباد : 16۔اکتوبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

چہارشنبہ 13 اکتوبر کی شام چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں ہاشم آباد،بنڈلہ گوڑہ میں دن دہاڑے سڑک پر بارکس کے ساکن حامد الزبیدی کے قتل کی سنسنی خیز واردات پیش آئی تھی اور اس واردات نے ساری ریاست کو دہلاکر رکھ دیا تھا اور اس قتل کی واردات کے ویڈیوس بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے۔

اس سلسلہ میں چندرائن گٹہ پولیس نے اس قتل میں ملوث چاروں ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے جوکہ آپس میں بھائی ہیں۔

ڈاکٹر گجاراؤ بھوپال،ڈی سی پی ساؤتھ زون نےمیڈیا کو تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے بتایاکہ حامد بن الزبیدی 47سالہ،ساکن صلالہ بارکس کے قتل کی واردات میں ملوث ملزمین سعد بن صالح جابری34 سالہ،عادل جابری 32 سالہ، سعید صالح جابری 29 سالہ اور رئیس جابری 23 سالہ کو پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے ان کے قبضہ سے ایک موٹرسیکل، دو خنجر  اور چار موبائل فونس ضبط کرلیے گئے ہیں۔

مقتول حامدالزبیدی۔(فائل فوٹو)

ڈاکٹر گجاراؤ بھوپال ڈی سی پی ساؤتھ زون نے بتایا کہ مقتول حامد الزبیدی دبئی کی شہریت رکھتے تھے اور ان کے قتل کے چاروں ملزمین سعد بن صالح جابری،عادل جابری،سعید صالح جابری اور رئیس جابری بھی سابق میں دبئی میں مقیم تھے۔

سال 2019 میں رئیس جابری جب دوبئی سے حیدرآباد واپس ہورہا تھا تو حامد زبیدی نے رئیس جابری کو دھوکہ سے یہ بتائے بغیر کے بیاگ میں کیا ہے ایک بیاگ اس کے حوالے کردیا کہ یہ بیاگ اس کے رشتہ دار ایرپورٹ پر آکر لے لیں گے۔

رئیس جابری جونہی حیدرآباد پہنچا شمس آباد ایرپورٹ پر سنٹرل اکسائز اورکسٹمس کے عہدیداروں نے اس کو سونا کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کرلیا کیونکہ اس کے پاس سے زائداز ایک کلو سونا برآمد ہوا تھا اور اس کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیا گیا۔

ڈاکٹر گجاراؤ بھوپال،ڈی سی پی نے قتل کے ملزمین کی جانب سے پولیس کو دئیے گئے بیان کے حوالے سے بتایا کہ حامد الزبیدی نے ملزم رئیس جابری سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کا پاسپورٹ واپس دلوائے گا اور مقدمہ کے تمام اخراجات بھی وہ خود برداشت کرے گا اور ان کی مالی امداد بھی کرے گا۔

لیکن تین سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مقتول حامد الزبیدی اس کا پاسپورٹ دلوانے میں ناکام رہا اور رئیس کی مالی طور پر مدد بھی نہیں کی جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا۔اور ساتھ ہی مقتول حامدالزبیدی نے ملزم رئیس جابری کی مدد کرنے سے بھی انکار کردیا تھا۔

لاک ڈاون کے دوران حامد الزبیدی 6 ماہ قبل دبئی سے حیدرآباد واپس ہوا تھا۔حامد الزبیدی کی شہر میں موجودگی کی اطلاع پر یہ چاروں ملزمین 13 اکتوبر کی صبح حامد کے گھر پہنچے اور اس سے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔اس مسئلہ پر ان کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد منصوبہ بند طریقہ سے چاروں ملزمین سعد بن صالح جابری،عادل جابری،سعید صالح جابری اور رئیس جابری نے ہاشم آباد روڈ پر کار میں جارہے حامد الزبیدی کی کار کو رکوایا اور اسے کار سے باہر کھینچ کر مہلک ہتھیاروں سے اس کا قتل کردیا۔

یاد رہے کہ حامد بن الزبیدی جوکہ ملینیئم ٹراویلس اور ویسٹرن یونین منی ٹرانسفر کے کاروبار سے منسلک تھے کے پرانا شہر میں سنسنی خیز قتل کی واردات کے چند گھنٹوں بعد ہی کمشنر سٹی پولیس حیدرآباد انجنی کمار نے سب انسپکٹر چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن ایس۔وینکٹیش کو معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد مقتول کے بڑے بھائی کے ذریعہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوس عام ہوئے تھے کہ مقتول حامدالزبیدی نے اپنے قتل سے محض چند گھنٹے قبل ہی چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کروائی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔بعدازاں 14 اکتوبر کو ریاستی وزیر داخلہ جناب محمدمحمود علی نے ایک پولیس عہدیداروں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرتے ہوئے حیدرآباد کے پرانا شہر میں بڑھتے قتل اور جرائم کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں وزیر داخلہ نے پولیس عہدیداروں کو مختلف ہدایات بھی دی تھیں۔

حامد الزبیدی کے قتل کی تفصیلات اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہیں"

حیدرآبادکے پرانے شہر میں دن دہاڑے نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں ایک شخص کابے رحمانہ قتل