منی پور میں انسانیت ہوئی شرمسار ، ہجوم نے دو خواتین کو برہنہ کرکے پریڈ کروائی ،گینگ ریپ ، روح فرسا ویڈیو سے انٹرنیٹ دہل گیا

منی پور میں انسانیت ہوئی شرمسار، ہجوم نے دو خواتین کو برہنہ کرکے پریڈ کروائی
گینگ ریپ،روح فرسا ویڈیو سے انٹرنیٹ دہل گیا،واقعہ کی ہر طرف سے شدید مذمت
ملک کو شرمسار ہونا پڑ رہا ہے،قصور واروں کو بخشا نہیں جائے گا : وزیر اعظم
ہرگز نا قابل قبول،حکومت کارروائی کرے،ورنہ ہم ایکشن لیں گے: چیف جسٹس

امپھال : 20۔جولائی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

بی جے پی اقتدار والی شمال مشرقی ریاست منی پور ڈھائی ماہ سے نسلی تشدد کی لپیٹ میں ہے۔جہاں زائداز 150 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور 250 سے زائد چرچس کو جلائے جانے کی اطلاع ہے۔وہیں 4 مئی کو تشدد کے آغاز کے بعد سے ہی منی پور میں انٹرنیٹ سرویس بند کردی گئی ہے۔ سینکڑوں مکانات اور جائدادوں کو آگ کی نذر کر دیا گیا ہے۔ہزاروں بے گھر افراد جنگلوں اور سرکاری کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جن میں ضعیف، مرد  و خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ کوکی قبیلے کی جانب سے وزیراعلیٰ منی پور این بیرن سنگھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اسی دؤران کل شام منی پور کا ایک روح فرسا اور انسانیت کوشرمسار کرنےوالا ویڈیو اچانک سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا،دیکھتے دیکھتے اس ویڈیو اور تصاویر سے انٹر نیٹ دہل کررہ گیا۔اس ویڈیو کو دیکھنے والوں کی آنکھیں نم ہورہی ہیں اور ملک کی شبیہ ساری دنیامیں داغدار ہوگئی ہے۔ٹوئٹر پر گذشتہ رات سے منی پور تشدد اور اس انسانیت سوز واقعہ کے ویڈیو کی ٹرینڈنگ ٹاپ پر ہے۔

مختلف اپوزیشن قائدین اور انسانیت کا درد رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین اس واقعہ کی شدید لفظوں میں مذمت کر رہے ہیں۔وہیں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال سمرتی ایرانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا کہ” کیا اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد بھی آپ اور مرکزی حکومت خاموش ہی رہیں گے۔؟ "

منی پور میں مردوں کے ایک ہجوم کے ذریعہ سڑک پر دو خواتین کی برہنہ پریڈ کی ہولناک ویڈیو اور اس کی تصاویر ٹوئٹر کےعلاوہ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوگئیں۔جس کی شدید مذمت کی جارہی ہے اوراس واقعہ میں ملوث بھیڑیوں کےخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں درندوں کا یہ ہجوم مکمل برہنہ کی گئیں ان معصوم خواتین کے جسمانی اعضا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے چیخ و پکار میں بھی مصروف ہے کہ جیسے جشن منایا جارہا ہو۔!!

ایک قبائلی تنظیم نے الزام عائد کیاہےکہ دونوں خواتین کو ایک کھیت میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایاگیا۔انڈیجینس ٹرائبل لیڈرز فورم (آئی ٹی ایل ایف) کے ایک بیان کے مطابق، یہ واقعہ 4 مئی کومنی پورکے دارالحکومت امپھال سے تقریباً 35 کلومیٹر دور کانگ پوکپی ضلع میں پیش آیاہے۔ تاہم پولیس نے کہاکہ یہ واقعہ کسی دوسرے ضلع میں پیش آیا۔لیکن فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کانگ پوکپی میں درج کی گئی تھی۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے آج جمعرات کو منی پور میں جنسی مظالم سے جڑے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ”منی پور کی بیٹیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اسےکبھی معاف نہیں کیا جا سکتا،قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔” انہوں نے تمام ریاستی سربراہان پر زور دیا کہ وہ خواتین کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

آج سے شروع ہونےوالے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا”یہ کسی بھی معاشرہ کے لیے شرمناک واقعہ ہے،یہ کس نے کیا اور کون ذمہ دار ہے یہ ایک الگ مسئلہ ہے،لیکن اس نے ہماری قوم کو شرمندہ کر دیا ہے۔ میں تمام وزرائے اعلیٰ سے امن و امان کو سخت کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔”

منی پور کے اس ویڈیو پر سپریم کورٹ کا کہناہےکہ "یہ ہ بہت پریشان کن ہے،مرکز اور ریاست سے کارروائی کرنےکی ہدایت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج جمعرات کو کہا کہ "وہ منی پور میں دو خواتین کی برہنہ پریڈ کے ویڈیو سے "بہت پریشان” ہے۔اسے ” ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے مرکز اور ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر قدم اٹھائیں اور عدالت عظمیٰ کو آگاہ کریں کہ کیا کارروائی کی گئی ہے۔

ساتھ ہی کہا کہ ہم حکومت کو کارروائی کرنے کے لیے تھوڑا وقت دیں گے ورنہ اگر زمین پر کچھ نہیں ہو رہا ہے تو ہم کارروائی کریں گے‘‘ بنچ جس میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور منوج مشرا بھی شامل تھے۔

اپوزیشن قائدین اور سوشل میڈیا پر تنقید کی جارہی ہے کہ منی پور میں نسلی تشدد ڈھائی ماہ سے جاری ہے اور اس پر وزیراعظم اب تک مکمل خاموش ہی رہے۔اگر آغاز میں ہی وہ منی پور کے وزیر اعلیٰ کو عہدہ سے برطرف اور امن کی اپیل کرتے تو حالات اتنے سنگین نہ ہوتے۔!!

ٹوئٹر پر کل سے جاری ٹرینڈنگ اور شدید مذمت کے درمیان مرکزی وزیر خواتین و اطفال محترمہ سمرتی ایرانی نے رات 29-11 بجے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "منی پور سے آنے والی 2 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہولناک ویڈیو قابل مذمت ہے اوریہ سراسر غیر انسانی حرکت ہے ۔وزیراعلیٰ بیر ن سنگھ سے بات کی جنہوں نے مجھے بتایا کہ اس وقت تحقیقات جاری ہیں اور یقین دلایا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔”

اس کیمرہ کے سامنے کی گئی درندگی سے ایک دن پہلے ہی منی پور کی اکثریتی میتی اور پہاڑی اکثریتی کوکی قبیلے کےدرمیان شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے مطالبے پر جھڑپیں ہوئی تھیں۔

آئی ٹی ایل ایف ITLF# نے اپنے بیان میں کہاہے کہ 4 مئی کو کانگ پوکپی ضلع میں پیش آئے اس نفرت انگیز واقعہ کے مناظر مسلسل بے بس خواتین کےساتھ مردوں کےایک ہجوم کی جانب سےچھیڑ چھاڑ کرتےہوئے دیکھے جاسکتےہیں جو رو روکر اپنے اغوا کاروں سےالتجا کررہی ہیں۔
اس تنظیم نے کہا کہ ان بے بس اور معصوم خواتین کو جس خوفناک آزمائش کا سامنا کرنا پڑا، مجرموں کے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنےکےفیصلے سے مزید بڑھ گیا ہے۔جو متاثرین کی شناخت کو ظاہر کرتا ہے،اور اس نے قومی کمیشن برائےخواتین اورقومی کمیشن برائے شیڈولڈ ٹرائب سے کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب منی پور پولیس نے بھی رات 25-10 بجے کیےگئے اپنے دو ٹوئٹس میں لکھا ہے کہ پولیس کی جانب سے اجتماعی عصمت دری اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے رات این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ہم نے ان افراد کی شناخت کر لی ہے اور جلد ہی انہیں گرفتار کرلیں گے۔عہدیدار نے کہاکہ بچ جانے والے افراد 4 مئی کو ہونےوالی ہولناک آزمائش کے تقریباً 15 دن بعد پولیس کے پاس آئے تھے۔جرم وہاں نہیں ہوا،لیکن ہمارے پاس ثبوت و شواہد موجود ہیں۔ہم ایک یا دو دن میں ان تمام مردوں کو پکڑ لیں گے۔

سابق صدر کل ہند کانگریس کمیٹی راہول گاندھی نے رات 11 بجے کیےگئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” وزیراعظم کی خاموشی اور بے عملی نے منی پور کو انتشار کی طرف لے گیا ہے۔” انڈیا ” خاموش نہیں رہےگا جبکہ منی پور میں ہندوستان کے تصور پر حملہ ہو رہا ہے۔ہم منی پور کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

کانگریسی قائد پرینکا گاندھی واڈرا نے رات 33-9 بجے ہندی میں کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” منی پور سے آنے والی خواتین کے خلاف جنسی تشدد کی ویڈیو اور تصاویر دل دہلا دینے والی ہیں۔انہوں نے لکھاکہ خواتین کےخلاف تشدد کے اس ہولناک واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔سماج میں تشدد کا سب سے زیادہ خمیازہ خواتین اور بچوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔”

وزیراعلیٰ دہلی اروند کیجریوال نے بھی رات 11 بجے کیےگئے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”منی پور کا واقعہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ ہندوستانی معاشرے میں اس قسم کی گھناؤنی حرکت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔منی پور میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔میں وزیر اعظم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ منی پور کی صورتحال پر توجہ دیں۔اس واقعہ کےویڈیو میں نظر آنےوالے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ایسے مجرمانہ نوعیت کے لوگوں کے لیے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔”

منی پور کے اس انتہائی قابل مذمت اور انسانیت سوز واقعہ کےبعد ٹوئٹر پر رات دیرگئے تک بھی وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیراعلیٰ منی پور این بیرن سنگھ، مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کے خلاف ٹرینڈنگ کے ذریعہ ان سے اس واقعہ کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا گیا۔اور گودی میڈیا ہیش ٹیگ ٹرینڈنگ جاری رہی۔آج یہ سلسلہ لاکھوں تک پہنچ گیا ہے۔

” نوٹ: صحافتی اُصول و قواعد کو ملحوظ رکھتےہوئے ادارہ سوشل میڈیا پر وائرل اس روح فرسا واقعہ کاویڈیو یہاں پیش کرنے سے قاصر ہے۔”

آج پارلیمنٹ اجلاس کے آغاز کے دوران منی پور پر میڈیا سے بات کرتےہوئے صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہاکہ” وزیراعظم اس ویڈیو پر ردعمل دینے پر مجبور تھے، کیونکہ یہ اب وائرل ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہاں نسل کشی ہو رہی ہے، انصاف تب ہی ملے گا جب چیف منسٹر کو ہٹایا جائے گا اور وزیر اعظم سی بی آئی انکوائری کا حکم دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلم، عیسائی اور دلت طبقات پر مظالم ہورہے ہیں۔انہوں منی پور کے نسلی تشدد کو وہاں کی اقلیت کوکی طبقہ کی نسل کشی سے تعبیر کیا۔

انسانیت کو شرمسار کرنےوالے اس ویڈیو کو ٹوئٹر پر اتر پردیش کےباغی آئی اے ایس آفیسر سوریہ پرتاپ سنگھ نےبھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” لو دیکھو آج کے کؤرؤ! عورتوں کی عزت تار تار۔گھن آرہی ہے،لیکن اقتدار کےٹھیکیداروں کو شاید اپنے آپ پر شرم آجائے۔اس لیے پورا ویڈیو ڈالنالازمی ہے۔کیا ظالموں کواقتدار کا تحفظ حاصل ہے۔؟ "۔ بعدازاں انہوں نے اس واقعہ کی تفصیلات اپنے یوٹیوب چینل پر پیش کرتے ہوئے اس شرمناک واقعہ کی مذمت کی۔