بی بی سی کے دہلی اور ممبئی کے دفاتر پر انکم ٹیکس کے دھاوے، کانگریس، بی آر ایس، سی پی ایم، بی ایس پی اور ایڈیٹرس گلڈ کی تنقید

بی بی سی کے دہلی اور ممبئی کے دفاتر پر انکم ٹیکس کے دھاوے
کانگریس، بی آر ایس،سی پی ایم، ایس پی، بی ایس پی اور ایڈیٹرس گلڈ کی مذمت
اپوزیشن جماعتوں کا گجرات ڈاکیومینٹری کے خلاف انتقامی کارروائی کا الزام

نئی دہلی: 14۔فروری
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

محکمہ انکم ٹیکس (آئی ٹی) کی جانب سے آج بین الاقوامی شہرت یافتہ میڈیا ادارہ برٹش براڈکاسٹنگ کمپنی(بی بی سی)کے دہلی اور ممبئی میں واقع دفاتر پر دھاوےمنظم کیے گئے۔جس کے شام دیر گئے تک جاری رہنے کی اطلاع ہے۔تاہم محکمہ انکم ٹیکس کے عہدہداروں کا کہنا ہے کہ یہ دھاوے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک تلاشی کی (سروے Survey# ) کارروائی ہے۔

میڈیا اطلاعات کےمطابق بی بی سی کےدہلی کےکستوربا گاندھی مارگ میں واقع اورممبئی کے کھارعلاقہ میں موجود دفاتر پر محکمہ آئی ٹی کی جانب سے آج 11 بجے دن یہ دھاوےمنظم کیے گئے۔اطلاعات کےمطابق دہلی اور ممبئی میں محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں کی ٹیموں نے یہ دھاوے ایک ہی وقت میں منظم کیے۔دہلی کے دفتر پر دھاوہ منظم کرنےوالی ٹیم میں دو درجن انکم ٹیکس کے عہدیدار شامل ہیں۔جبکہ ممبئی میں کیےگئے دھاوہ میں 18 تا 25 عہدیدار شامل ہیں۔اور محکمہ انکم ٹیکس کے ان عہدیداروں کی ٹیم دہلی سے ممبئی پہنچی تھی۔!!

میڈیا اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بی بی سی کے ان دفاتر پر دھاوے کے بعد وہاں کام کرنے والے صحافیوں اور ملازمین کے موبائل فون لے لیے گئے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس کے عہدیداروں نے آج دہلی اور ممبئی میں( پریمیئر نیوز آرگنائزیشن) بی بی سی (برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن)کے دفاتر کا دورہ کیا،نہ صرف جانچ کے لیے ملازمین کے ذاتی لیپ ٹاپ اور سیل فون چھین لیے گئے بلکہ دفاتر میں موجود کمپیوٹٹرز کا بھی معائنہ کیا۔

دفاتر میں ذرائع نے بتایا کہ عہدیداروں نے کمپیوٹرز پرمطلوبہ لفظ "ٹیکس” کےساتھ تلاش کیا۔معائنہ ختم ہونے کے بعد ہی ملازمین کو دفتر چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔این ڈی ٹی وی نےعہدیداروں کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہوں نے بی بی سی کے فینانس کے شعبہ سے بیلنس شیٹس اور اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی ہیں۔انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے ان کی سرگرمیوں کی وضاحت ایک” سروے” کے طور پر کی ہے، جو کہ منافع کے مبینہ ٹرانسفر اور ٹرانسفر پرائسنگ میں بے ضابطگیوں سے منسلک ہے۔

آج رات دیر گئے این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالہ سے لکھاہے کہ آئی ٹی کےماہرین اب بھی بی بی سی کےدفاتر میں موجود ہیں۔انہوں نے ملازمین کو ان کےسیل فون اور ذاتی لیپ ٹاپس دے دئیے ہیں۔بی بی سی نے کہاکہ وہ ٹیکس حکام کےساتھ” مکمل تعاون ” کر رہا ہے اور اس کے تمام ملازمین ” محفوظ ” ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ نے بی بی سی کے دہلی اور ممبئی دفاتر میں ٹیکس سروے/دھاوے کے دوران میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی بی سی ” سب سے کرپٹ ادارہ "ہے۔”انہوں نے بی بی سی کو BBC ” بھارت بھکواس کارپوریشن” (کرپٹ، کوڑا کرکٹ،کارپوریشن) قرار دیا۔”انہوں نے الزام عائد کیاکہ بی بی سی کا پروپیگنڈہ اور کانگریس کا ایجنڈہ یکساں ہے۔انہوں نے کہاکہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو اپنا کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔اگر بی بی سی نے کوئی غلط کام نہیں کیا تو ڈر کیوں رہے ہیں۔؟

بی جے پی کےقومی ترجمان گورو بھاٹیہ نےیہ بھی کہاکہ بی بی سی کوہندوستان میں کام کرتےہوئے” زہر نہیں اگلنا چاہئے”۔بھاٹیہ نے میڈیا کو بتایا کہ ” BBC بھارت مخالف پروپیگنڈے میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو ہرتنظیم کو موقع دیتا ہے۔ جب تک آپ زہر نہیں اگلتے۔

گورو بھاٹیہ نے آئی ٹی کےسروے پر تنقید کرنے پر کانگریس کوبھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کو یاد دلایا کہ اسے ” یاد رکھناچاہئے کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بی بی سی پر پابندی لگا دی تھی”۔

وہیں صدر کل ہند کانگریس کمیٹی ملک ارجن کھرگے نے بی بی سی کے دفاتر پر آئی ٹی چھاپوں کے بعد اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ مودی سرکار کے دور میں آزادی صحافت پر بار بار حملہ ہوتا رہاہے۔دور دراز سے تنقیدی آوازوں کا گلا گھونٹنے کےلیے یہ ڈھٹائی اورغیرمعذرت خواہانہ انتقام کے ساتھ کیاجاتا ہے۔اگر اداروں کو اپوزیشن اورمیڈیا پرحملہ کرنے کےلیے استعمال کیاجائے تو جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی۔عوام اس کی مزاحمت کریں گے۔

 

بی بی سی کے دفاتر پر آئی ٹی کے دھاؤوں پر کانگریس کے رکن راجیہ سبھا و کمیونیکیشن ہیڈ جے رام رمیش نے کہا کہ یہاں ہم اڈانی کے معاملہ میں جوائنٹ پارلیمینٹری کمیٹی(جے پی سی) کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وہاں حکومت بی بی سی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔

کانگریس کےقومی جنرل سیکریٹری و رکن راجیہ سبھا کےسی وینو گوپال نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ”بی بی سی کے دفاتر پر آئی ٹی کے چھاپوں نے مایوسی پیدا کی اور یہ ظاہر ہواہے کہ مودی حکومت تنقید سے خوفزدہ ہے۔ہم ان دھمکیوں کے ہتھکنڈوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔یہ غیر جمہوری اور آمرانہ رویہ مزید نہیں چل سکتا۔”

ریاست تلنگانہ میں برسر اقتدار بھارت راشٹرا سمیتی ( بی آر ایس ) کے کاگزار صدر و ریاستی وزیر آئی ٹی،بلدی نظم ونسق و صنعت کے۔تارک راما راؤ (کے ٹی آر) نے بی بی سی کےدفاتر پر انکم ٹیکس کےدھاؤوں کا ٹوئٹر پرمضحکہ اڑاتےہوئےلکھا ہے کہ” کیا حیران کن بات ہے۔!! 😁مودی پر دستاویزی فلم نشر کرنے کے چند ہفتوں بعد،بی بی سی انڈیا پر اب آئی ٹی کے ذریعے چھاپہ مارا۔ آئی ٹی،سی بی آئی اور ای ڈی جیسی ایجنسیاں بی جے پی کی سب سے بڑی کٹھ پتلیوں میں تبدیل ہونے کے لیے ہنسی کا سامان بن گئی ہیں۔ آگے کیا ؟ہنڈن برگ پر ای ڈی کے چھاپے یا قبضے کی مخالفانہ کوشش۔؟”

سابق چیف منسٹر اتر پردیش و سماج وادی پارٹی رہنما اکھلیش یادو نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ”بی بی سی کےچھاپے کی خبر’ نظریاتی ایمرجنسی’ کا اعلان ہے۔”

دوسری جانب ترنمول کاگریس کی فائر برانڈ مانی جانے والی رکن لوک سبھا مہوا موئترا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ”بی بی سی کے دہلی دفتر پر انکم ٹیکس کےچھاپے کی اطلاعات، واہ واقعی؟ کتنا غیر متوقع۔اس دوران اڈانی کےلیےفرسان سیواجب وہ سیبی کی چیئرمین کے دفتر بات چیت کے لیے آتے ہیں۔
اپنے ایک اور ٹوئٹ میں مہوا موئترا نےمحکمہ انکم ٹیکس،سیبی انڈیا اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی ) کو ٹیگ کرتےہوئےلکھا ہے کہ”چونکہ یہ ایجنسیاں ‘ سروے ‘ کے ذریعہ ویلنٹائن ڈے منا رہی ہیں تو حکومت کے سب سے قابل قدر پیارے ‘ مسٹر اے ‘کے ساتھ کیا سلوک کریں؟

سی پی ایم اور بی ایس پی نےبھی حکومت پرتنقید کی کہ آئی ٹی،ای ڈی اور سی بی آئی اڈانی کے دفتر نہیں پہنچے،لیکن آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کی ایک ٹیم بی بی سی کے دہلی دفتر کی تلاشی لے رہی ہے۔یہ ہندوستان میں آزادی صحافت کا جو کچھ بھی بچا ہے اس پر حملہ ہے۔

سی پی ایم کےسینئر قائد سیتارام یچوری نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاہے کہ پہلے بی بی سی کی دستاویزی فلموں پر پابندی لگائیں۔اڈانی کے افشاء کے متعلق کوئی جے پی سی/انکوائری نہیں ہے۔اب آئی ٹی کے بی بی سی کے دفاتر پر چھاپے! بھارت: ” جمہوریت کی ماں۔؟ ” 

 

بی ایس پی کے رکن لوک سبھا کنور دانش علی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ”اڈانی کے دفتر آئی ٹی،ای ڈی،سی بی آئی ابھی تک کوئی نہیں پہنچا ہے لیکن دہلی کے بی بی سی کےدفتر میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ٹیم چھاپہ ماری کےلیے پہنچ گئی ہے۔ہندوستان میں پریس کی بچھی کچھی آزادی پر یہ تازہ حملہ یقینی ہے کہ عالمی پریس انڈیکس میں ہماری پوزیشن 150 ویں پوزیشن سے بھی نیچے گر جائے گی BBCBreaking@۔ ”

سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور  پی ڈی پی پارٹی رہنمامحبوبہ مفتی نےحکومت پر تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹ کیاکہ "بی بی سی کے دفتر پر چھاپے کی وجہ اور اثر بالکل واضح ہے۔حکومت ہند ڈھٹائی کے ساتھ سچ بولنےوالوں کو ہراساں کررہی ہے۔چاہے وہ اپوزیشن لیڈر ہوں،میڈیا ہو، کارکن ہوں یا اس معاملہ میں کوئی اور ہوں۔”

ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا EGI# نے جاری کردہ اپنے بیان میں کہاہے کہ اسے "سروے”کے متعلق گہری تشویش ہے.اس نےمزید کہا کہ وہ حکمران  اسٹیبلشمنٹ کی تنقید کرنےوالی خبر رساں تنظیموں کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کےلیے سرکاری ایجنسیوں کے استعمال کے مسلسل رجحان سے پریشان ہے۔

 

یاد رہے کہ بی بی سی کی جانب سے 17 جنوری کو دو قسطوں میں ایک ڈاکیومینٹری جاری کی گئی تھی جس میں گجرات 2002ء نسل کشی میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ گجرات نریندر مودی کے رول پر سوال اٹھائے گئے تھے۔جس کے بعد 18 جنوری کو مرکزی حکومت نے بی بی سی کی اس ڈاکیومینٹری رپورٹ پر پابندی عائد کردی تھی۔ٹوئٹر اورسوشل میڈیا پر اس ڈاکیومینٹری کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کردی گئی۔

تاہم بی بی سی کی اس ڈاکیومینٹری کو بڑے پیمانے پرسوشل میڈیا کےمختلف پلیٹ فارمز پر وائرل کیا گیاتھا اور ملک کی کئی یونیورسٹیز میں باقاعدہ اس ڈاکیومینٹری کودیکھا گیا۔جس کے خلاف یکم فروری کوسپریم کورٹ میں ایک درخواست داخل کی گئی تھی جسے 10 فروری کوسپریم کورٹ نے خارج کردیا۔اس ڈاکیومینٹری کے باعث وزیر اعظم نریندر مودی کی بین الاقوامی سطح پر شبیہ متاثر ہوئی ہے۔!!

آج 14 فروری کو بی بی سی کےدہلی اورممبئی کے دفاتر پر محکمہ انکم ٹیکس کے دھاؤوں کے بعد اپوزیشن جماعتیں اور میڈیا کا ایک گوشہ اسے اس ڈاکیو مینٹری کے خلاف مودی حکومت کی انتقامی کارروائی کا الزام عائد کررہے ہیں۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق بی بی سی جو کئی ملکی اور علاقوں زبانوں میں خبریں اور خصوصی رپورٹس،ڈاکیومینٹریز،ڈیجیٹیل نیوز پیش کرتاہے کے ناظرین کی تعداد ہندوستان میں سب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔جہاں اس کے 6 کروڑ سے زائد ناظرین موجود ہیں۔اور یہ برطانیہ کے ٹیکس کی رقم سے اور حکومت کی مدد سے چلایا جاتا ہے۔

بی بی سی کا قیام 1922ء میں عمل میں لایا گیا تھا اور اس کا ہیڈ کوارٹر لندن میں موجودہے۔بی بی سی جو کہ 100سالہ قدیم میڈیا ادارہ ہے پوری دنیا میں اس کے ملازمین کی تعداد 22,000 بتائی جاتی ہے۔جن میں دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے زائد از 19,000 صحافی بھی شامل ہیں۔دنیا کی 28 زبانوں میں بی بی سی ریڈیو،ٹی وی اور آن لائن کے ذریعہ خبریں نشر کرتا ہے۔عوام میں بی بی سی کی خبروں کوبہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اسے مصدقہ بھی مانا جاتا ہے۔