تلنگانہ میں بھی مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کو ہوا دی جارہی ہے! پولیس کے 8 سالہ قدیم نوٹس بورڈ کو مذہبی رنگ دے کروائرل کردیا گیا

تلنگانہ میں بھی مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کو ہوا دی جارہی ہے!!
8 سالہ قدیم نوٹس بورڈ کو مذہبی رنگ دے کروائرل کردیا گیا
حیدرآباد ٹریفک پولیس کی وضاحت،قانونی کارروائی کا انتباہ

حیدرآباد: 30۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)

گزشتہ چند سال سے بالخصوص سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعہ اسلام،مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کی تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے جھوٹ اور نفرت انگیزمہم چلائی جارہی ہے۔کسی بھی اور کسی بھی ملک کے واقعہ کو جوڑ توڑ کرتے ہوئے اسے ہندو۔مسلم کارنگ دے دیا جاتا ہے۔سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ،ٹوئٹر اور فیس بک پر جھوٹ پر مبنی ویڈیوز،فوٹوز اورتحریری مواد کے ذریعہ غیرمسلم برادران وطن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا کام کیا جارہا ہے۔

اس جھوٹ اور مذہبی منافرت والے سوشل میڈیا وائرل مواد کو چند بھولے بھالے افراد سچ مان لیتے ہیں۔ملک میں اس کام کے لیے لاکھوں کی تعداد میں باقاعدہ واٹس ایپ گروپس کام کررہے ہیں۔جہاں سے یہ نفرت انگیز ویڈیو، فوٹوز اور مواد کو دیگر عام گروپس میں بھی فارورڈ اور شیئر کیا جاتاہے۔!!

اب جبکہ 2023 میں تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات منعقد ہونے والے ہیں تو ایسے میں تلنگانہ میں بھی ایسے کئی واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پیج تیار کردئیے گئے ہیں۔جن کے ذریعہ جھوٹ کو پھیلایا جارہا ہے۔مذہبی منافرت کو ہوا دی جارہی ہے۔اس طرح تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب اور پرامن فرقہ وارانہ ماحول کو مکدر کرنے کے کاموں کا آغاز کردیا گیا ہے!

اسی درمیان آج”حیدرآباد ٹریفک پولیس” کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا اسی کے ایک فلیکسی بورڈ کی تصویر کو باقاعدہ اس کے مصدقہ ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل کیے گئے اس حیدرآباد ٹریفک پولیس کی جانب سے کی گئی رہنمائی پرمشتمل فلیکسی بورڈ پر اردو اور انگریزی زبان میں لکھا گیا ہے کہ”رمضان مبارک،”مصلیوں کی لیے گاڑیوں کی پارکنک”۔

اس رہنمایانہ فلیکسی بورڈ کوسوشل میڈیا پروائرل کرتے ہوئےاس تصویرکے ساتھ تلگو زبان میں لکھاگیا ہے کہ”صرف مسلمانوں کےلیے پارکنگ”۔یہ بورڈ سعودی عرب یا پاکستان میں نہیں ہے”۔”ہمارے حیدرآباد میں اس بورڈ کومسلمانوں نے نہیں پولیس نے لگایا ہے”۔غور کریں اگر ایسا بورڈ ہندوؤں نے لگایا ہوتا توحالات کیا ہوتے اس کا اندازہ لگالیں"۔!

حیدرآباد ٹریفک پولیس نے اس تصویر کو اپنے فیس بک پیج پر بھی پوسٹ کرتے ہوئے تفصیلی طور پر لکھا ہے کہ

https://www.facebook.com/photo?fbid=356246826530953&set=a.353216886833947

"حیدرآباد ٹریفک پولیس دیکھ رہی ہے کہ2014 کی پارکنگ کی رہنمائی سے متعلق ایک پوسٹ/فلیکسی ہر سال رمضان کے موقع پر وائرل ہورہی ہے اورسوشل میڈیا پرگردش کررہی ہے کہ "رمضان مبارک-مسلمانوں کے لیے گاڑیوں کی پارکنگ”۔لفظ”مصلی” کا مطلب ہے عقیدت مند اور پارکنگ کی جگہ صرف نماز کے لیے آنے والے افراد کے لیے مخصوص ہے”۔
حیدرآباد ٹریفک پولیس کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فلیکسی رمضان کی عیدکے پیش نظر سال2014 میں ملے پلی مسجد کے قریب انورالعلوم کالج میں لگائی گئی تھی۔

اپنے اس فیس بک پوسٹ میں حیدرآباد ٹریفک پولیس نے تمام شہریوں سے درخواست کی ہے کہ ایسی پوسٹنگ پر یقین نہ کریں اور نہ اس کو وائرل کریں۔ساتھ ہی انتباہ دیا گیا ہے کہ”مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے والی ایسی پوسٹس کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی”۔

اسی سلسلہ میں مسٹر اے وی رگھوناتھ آئی پی ایس،جوائنٹ کمشنر ٹریفک پولیس حیدرآباد نے ٹوئٹر پر بھی ایک تحریر شدہ اہم نوٹس ٹوئٹ کرتے ہوئے مذکورہ بالا وضاحت جاری کی ہے اور انہوں نے بھی متنبہ کیا ہے کہ اس جھوٹ پر مشتمل نفرت پھیلانے والے پوسٹ کو شیئر/فارورڈ کرتے ہوئے وائرل کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔