کسانوں اور گاؤں والوں نے سینکڑوں بندروں کو گوداوری ندی میں کود جانے پرمجبورکردیا
سوشل میڈیا پر ویڈیوس ہوئے وائرل،ہر طرف سے مذمت،کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد؍نرمل:09۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
تلنگانہ کے اضلاع نظام آباد اور نرمل میں بندروں سے پریشان کسانوں اور گاؤں والوں نے لاٹھیوں کے ذریعہ ان سینکڑوں بے زبان جانوروں کو ایک بریج پر لگاکر دونوں طرف سے ایسے گھیرلیا کہ یہ بے زبان اپنی جان بچانے کے لیے بریج پر سے گوداوری ندی میں بہہ رہے سیلابی پانی میں کود کر بہہ گئے۔
اس واقعہ کے ویڈیوس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جانوروں سے محبت اور ہمدردی رکھنے والے اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ان گاؤں والوں اور کسانوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی حرکت قرار دے رہے ہیں۔

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق اضلاع نرمل اور نظام آباد کے درمیان بہنے والی گوداوری ندی پر ان دونوں اضلاع کو جوڑنے کی غرض سے کمل کوٹ کے قریب چند سال قبل ایک بریج تعمیر کیا گیا تھا۔
سینکڑوں بندر اس بریج کے ذریعہ نرمل ضلع سے نظام آباد ضلع کے موضع گمریال موضع میں پہنچنے لگے دیہاتیوں کو پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کے کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ بندر نرمل ضلع سے داخل ہوکر ان کی فصلوں کو برباد کررہے ہیں۔
کل ان بندروں سے پریشان گمریال کے لوگوں اور کسانوں کی بڑی تعداد لاٹھیوں اور لکڑیوں کی مدد سے ان بندروں مارکر علاقے سے بھگانے کےلیے جمع ہوئی اور الگ الگ علاقوں سے بندروں کو تلاش کرکے بھگانا شروع کردیا۔
” واقعہ کا ویڈیو ( 16 سیکنڈ) ”
انسانوں کی جانب سے اس اچانک حملوں سے گھبرائے ہوئے یہ بے زبان سینکڑوں جانور اپنی جان بچانے کی غرض سے بھاگتے ہوئے گوداوری ندی پر موجود بریج کے ذریعہ نرمل کے کمل کوٹ کی جانب بھاگنے لگے اسی دؤران اس بریج کی دوسری جانب نرمل ضلع کے کسان اور دیہی عوام بھی ان بندروں کو مارنے کی غرض سے لاٹھیوں کے ساتھ بریج کا داخلہ بند کرکے کھڑے ہوگئے تھے۔

جب بریج پر سینکڑوں بندر پہنچ گئے اور اس پریشانی میں تھے کہ بریج کی دونوں جانب انسان لاٹھیوں کے ساتھ انہیں مارنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تو اپنی جان بچانے کی کوشش میں یہ بے زبان سینکڑوں بندر اس بریج کے اوپر سے پانی میں کودگئے۔
دوسری جانب گزشتہ دو ہفتوں سے دونوں اضلاع نرمل اور نظام آباد میں ہونے والی شدید بارش کے باعث گوداوری میں سیلابی پانی کی سطح بڑھی ہوئی ہے سینکڑوں بندر اس سیلابی پانی میں بریج سے کودتے ہوئے اپنی جان بچانے کی کوشش میں بہہ گئے۔
اس بریج پر سے بھاگتے ہوئے بندروں کے غول پر مشتمل ویڈیوس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہر کوئی دونوں جانب کے گاؤں والوں اور کسانوں کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ دونوں جانب کے گاؤں والوں اور کسانوں نے مل کر بنایا ہوگا اور ایک جانب سے ان بندروں کو گھیر کر گوداوری ندی کے بریج پر لے آئے دوسری جانب کے لوگوں نے ان بندروں کا راستہ روک دیا اس طرح سینکڑوں بے زبان جانور اپنی جان بچانے کی کوشش میں ندی میں کود کر پانی کی نذر ہوگئے۔
جانوروں سے ہمدردی رکھنے والے اور ان کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی کسانوں کی اس حرکت کی مذمت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بندروں کو علاقہ سے بھگانے اور جنگلات میں پہنچانے کے کئی طریقے ہیں یہ غیر انسانی طریقہ کسی بھی حال درست نہیں ہے۔
جبکہ نرمل ضلع مستقرکے قریب ہی سارنگاپور کے چنچولی (بی) میں بندروں کے تحفظ اور ان کی آباد کاری کے لیے قائم مرکز کا ریاستی وزیر جنگلات و ماحولیات حکومت تلنگانہ اے۔اندرا کرن ریڈی نے گزشتہ سال ہی افتتاح کیا تھا کہ کسانوں کی فصلوں کو برباد کرنے اور دیہاتوں میں عوام کو پریشان کرنے والے بندروں کو وہاں منتقل کیا جائے۔

سوشل میڈیا پر جانوروں سے ہمدردی اور محبت رکھنے والوں اور ان کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ذمہ داران کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث دونوں جانب کے گاؤں والوں اور کسانوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
جبکہ دیہاتیوں اور کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں محکمہ جنگلات کے عہدیداروں سے کئی مرتبہ شکایت کرچکے ہیں کہ بندر ان کی فصلوں کو برباد کررہے ہیں اور ان کے گھروں میں داخل ہوکر کھانے کی اشیاء کو تباہ کررہے ہیں انہیں پکڑکر جنگلات میں چھوڑا جائے تاہم کوئی اقدامات نہیں کیے گئے!!
(نوٹ: ویڈیوس سوشل میڈیا پر وائرل شدہ ہیں اور تصاویر ان کے اسکرین شاٹس ہیں)

