جے این یو دہلی کے ہاسٹل میں اے بی وی پی کا تشدد، طلبہ پرحملہ!
رام نومی کے دن گوشت کے پکوان پر برہمی،کئی طلبا و طالبات زخمی
نئی دہلی:10۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
پولیس کے مطابق دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے کاویری ہاسٹل میں آج اتوار کو طلباء کے دو گروپوں میں تصادم ہوا ہے۔
جبکہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) نے الزام عائد کیا ہے کہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے اراکین نے طلباء کو ہاسٹل میں نان ویجیٹیرین (گوشت) کھانے سے روکا اور”پرتشدد ماحول پیدا کیا”۔
https://twitter.com/ashoswai/status/1513182328608247810
بشمول ٹوئٹر دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اے بی وی پی کے حملہ میں شدید زخمی کئی طلبا و طالبات کی تصاویر اور اس واقعہ کے ویڈیوز وائرل ہوئے ہیں۔اور اے بی وی پی کے اس تشدد کی مذمت کی جارہی ہے۔
ادھر اے بی وی پی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ”بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے طلبانے رام نومی تہوار پر ہاسٹل میں منعقدہ پوجا پروگرام میں رکاوٹ پیدا کی”۔دونوں گروپس نے ایک دوسرے پر پتھراؤ اور اپنے ارکان کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (جنوب ویسٹ) منوج سی نے خبررساں ادارہ پی ٹی آئی کو بتایا کہ چند طلباء کو چوٹیں آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ "ابھی تک کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ایک احتجاج کیا گیا تھا جوختم ہو گیا ہے۔ہم سب اپنی ٹیم کے ساتھ یہاں موجود ہیں۔ یونیورسٹی کی درخواست پر ہم یہاں آئے ہیں۔ہم امن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تفصیلات بعد میں دی جائیں گی۔
جے این یو ایس یو نے الزام عائد کیا کہ اے بی وی پی جو کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کا طلبہ ونگ ہے نے ہنگامہ کھڑا کرنے کے لیے”جسمانی طاقت” کا استعمال کیا،غنڈہ گردی کی،عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی اور ان سے کہا کہ کوئی بھی نان ویجیٹیرین اشیاء تیار نہ کریں۔
انہوں نے الزام عائد کہ وہ میس کمیٹی کو رات کے کھانے کے مینو کو تبدیل کرنے اور اس میں تمام طلباءکے لیے معمول کی نان ویجیٹیرین اشیاء کو خارج کرنے پر مجبور کرتے ہوئے حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ”جے این یو اور اس کے ہاسٹلز کا مقصد سب کے لیے شامل جگہ ہے نہ کہ کسی ایک طبقے کے لیے۔
تاہم اے بی وی پی نے جے این یو ایس یو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ’’بائیں بازوں‘‘ سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے رام نومی کے موقع پر طلبہ کی طرف سے منعقد کی گئی پوجا اور ہون میں خلل پیدا کیا۔اس پوجا میں جے این یو کے عام طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

