وقارآباد ضلع کے تانڈور میں دو گھنٹوں تک شدید گرج و چمک کے ساتھ 7 سنٹی میٹر بارش
شہر جھیل میں تبدیل،کئی کالونیز اور سڑکیں زیر آب،عہدیداروں پر عوام شدید برہم
وقارآباد/تانڈور: 10۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
وقارآبادضلع کے مختلف مقامات پر گزشتہ رات ہونے والی بارش سےعوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ تاہم ضلع کے تانڈور ٹاؤن میں خوفناک گرج وچمک کے ساتھ ہونے والی شدید بارش سے ایسامحسوس ہورہا تھاکہ اس علاقہ میں بادل پھٹ پڑے ہیں۔رات 30-8 بجے سے گرج چمک کے ساتھ اچانک بارش کا آغاز ہوا جس کا سلسلہ رات 30-10 بجے تک جاری رہا۔بعدازاں موسلادھار بارش ہوتی رہی۔
سینئر سائنٹسٹ اگریکلچرل ریسرچ سنٹر تانڈور ڈاکٹرسدھاکر چورات نے بتایا کہ وقارآبادضلع میں گزشتہ رات دو گھنٹوں کے دؤران سب سے زیادہ 7 سنٹی میٹر بارش تانڈور میں ریکارڈ ہوئی ہے۔جبکہ آج صبح 30-8 بجے تک وقارآبادضلع کے کوڑنگل میں 25.3 ملی میٹر،پدیمول میں 26.2 ملی میٹر،دھارور میں 20,8ملی میٹر،نواب پیٹ میں 23.3 ملی میٹر کے علاوہ دیگر مقامات پر بارش ہوئی ہے۔
شاہ آباد پتھر کی صنعت،سمنٹ اور تور دال کی پیداوار کے لیے ملک و ریاست تلنگانہ میں مشہور تانڈور میں بارش کے دؤران سیلابی پانی کے سب سے زیادہ خوفناک نظارے حیدرآباد روڈ پر راجیوگروہا کالونی کے قریب،گوتاپور روڈ،پولیس اسٹیشن سےمنسلک دکانات،متھرا نگر،گرین سٹی، گاندھی نگر، شاہی پور، مل ریڈی پلی،آدرش نگرکے علاوہ دیگر مقامات پر دیکھے گئے۔

حیدرآباد روڈ پر راجیو گروہا کالونی کےقریب سڑک ایک ذخیرہ آب کا منظر پیش کررہی تھی رات ایک بجے تک یہ سارا علاقہ سیلابی پانی میں غرق رہا۔اس روڈ پر موجود روڈ ڈیوائیڈر کسی تالاب کا پشتہ نظرآرہا تھا۔جس کی ایک جانب سے سیلابی پانی ڈیوائیڈر کی اونچائی سے گررہا تھا اور دوسری جانب کی سڑک پانی سے لبریز ہوگئی تھی۔ جس کے باعث کئی گھنٹوں تک حیدرآباد۔تانڈور اہم شاہراہ پرٹریفک نظام مفلوج ہوگیا تھا۔
جاریہ موسم برسات کے دؤران ان مذکورہ بالا علاقوں میں زائد از چار مرتبہ ایسے ہی نظارے دیکھے گئے ہیں۔تاہم اس کے باوجود بھی محکمہ بلدیہ اور محکمہ آر اینڈ بی کے عہدیداروں کے علاوہ منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی اور بے حسی معنی خیز ہے!!۔جس پرعوام کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔ایسے واقعات کے باؤجود ان مقامات پر بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔عوام کا الزام ہے کہ اراضیات پر قبضہ،ذخائر آب کی پامالی،بناکسی منصوبہ بندی کے سڑکوں کو بلند کرتے ہوئے تعمیر کئے جانے،ان سڑکوں کے قریب ڈرینس کی عدم تعمیر یا موجود ڈرینس کی عدم صفائی اور عدم توسیع کے باعث ایسے حالات پیدا ہورہے ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

وہیں تانڈور کے متھرا نگر اور گاندھی نگر کا علاقہ مکمل طورپر ایک تالاب کامنظر پیش کررہا تھا جہاں مکانات میں پانی کے داخل ہوجانے سے گھریلو اور دیگر اشیاء تباہ ہوگئیں۔خوفناک گھن گرج کے ساتھ جاری بارش کے دوران برقی سربراہی مسدود کردی گئی تھی زائد از دیڑھ گھنٹہ تک شہر اندھیرے میں غرق رہا۔جبکہ گوتاپور روڈ پر موجود ڈی سی ایم ایس کامپلیکس اور پولیس اسٹیشن سے منسلک کامپلیکس کی دُکانات کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی بارش کا پانی ان دُکانات میں داخل ہوگیا جس سے ان میں موجود مختلف اشیاء برباد ہوگئیں۔
اس کے علاوہ اندرا چوک،ریلوےاسٹیشن ایریا،امبیڈکر چوک کے بشمول دیگر اہم علاقوں میں بھی پانی کا ذخیرہ جمع ہوگیاتھا جو کہ آج دوپہر تک بھی دیکھا گیا۔گورنمنٹ جونیئر کالج کے گراونڈ کا ایک پورا حصہ تالاب میں تبدیل ہوگیا تھا۔جہاں سے خارج ہونے والا پانی ڈاک بنگلہ کے قریب سڑک کی ایک جانب جمع ہوگیا تھا یہاں بھی روڈ ڈیوائیڈر کی ایک جانب کا حصہ جھیل کا منظر پیش کررہا تھا۔اب جبکہ محکمہ موسمیات نے 14 اکتوبر تک مزید بارش کی پیش قیاسی کی ہے تو عوامی مطالبہ ہے کہ مذکورہ بالا مقامات پر بارش کے پانی کی فوری نکاسی کے کام شروع کیے جائیں۔


