ملین مارچ حیدرآباد کی گلیوں میں نہیں دَم ہے تو دہلی میں بلین مارچ کریں، بی جے پی پر ریاستی وزیر صحت ہریش راؤ کی شدید تنقید

ملین مارچ حیدرآباد کی گلیوں میں نہیں دَم ہے تو دہلی میں بلین مارچ کریں
مرکزی حکومت،صدر تلنگانہ بی جے پی اور دیگر بی جے پی قائدین پر
ریاستی وزیرصحت ہریش راؤ کی شدید تنقید

حیدرآباد: 30۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام)

وزیرصحت و فینانس تلنگانہ ٹی۔ہریش راؤ نے صدر بی جے پی تلنگانہ و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار کو مشورہ دیا ہے کہ حیدرآباد کی گلیوں میں ملین مارچ کے بجائے اگر ان میں دم ہے تو وہ دہلی میں بلین مارچ کرتے ہوئے ریاست کی ترقی کے لیے فنڈز لائیں۔

ریاستی وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ کل بھدرادری کوتہ گوڑم میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔جنہوں نے مکمل اعداد وشمار کےساتھ تلنگانہ کی ترقی اور مرکزی حکومت کی ناکامیوں کو واضح کرتے ہوئے ریاست کے بی جے پی قائدین پر شدید تنقید کی۔

یاد رہے کہ ریاستی صدر بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے ریاست میں بی جے پی اقتدار پر آئی تومسلم اکثریتی حیدرآباد میں ملین مارچ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔جس کے خلاف وزیرصحت ہریش راؤ نے یہ ریمارک کرتے ہوئے کہ بنڈی سنجے کمار بیروزگاروں کو ملازمتوں کی فراہمی کے نام پر مگرمچھ کے آنسو بہارہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ اصل میں ملازمتیں کس نے فراہم کیں اور کس نے نہیں کیں؟۔

ریاستی وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ نے بی جے پی صدر سے سوال کیا کہ ریاست میں بیروزگاری زیادہ ہے یا ملک میں؟انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر بنڈی سنجے اور ان کی گینگ میں دم ہے تو وہ اس کا جواب دیں۔ٹی۔ہریش راؤ نے شدید برہمی ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی قائدین صرف ہوا میں باتیں کرنا اور جھوٹ پھیلانا چھوڑدیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے آج تک کتنی ملازمتیں دی ہیں اس پر ایک وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔

انہوں نے بنڈی سنجے کمار کو مشورہ دیا کہ بی جے پی حکومت میں ملک میں بیروزگاری کتنی بڑھی ہے اور بیروزگار نوجوان کتنے پریشان ہیں اس سے واقفیت حاصل کریں۔

اس پریس کانفرنس میں ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے حکومت نے ریاست میں روزگار کی فراہمی کو اولین ترجیح دی ہے اور ٹی ایس پی ایس سی،محکمہ پولیس،سنگارینی کالریز،گروکلس، محکمہ برقی اور میڈیکل ہیلتھ کے شعبہ میں جملہ ایک لاکھ 32 ہزار 899 ملازمتیں فراہم کی جاچکی ہیں۔

ہریش راؤ نے اس کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ٹی ایس پی ایس سی کے ذریعہ ہی 30،954 مخلوعہ جائیدادیں پُر کی گئی ہیں۔جبکہ تلنگانہ اسٹیٹ لیول پولیس رکروٹمنٹ بورڈ کے ذریعہ 31،972 پوسٹوں پر،جونیئر پنچایت سیکریٹری کے پوسٹس پر 9،355,سنگارینی کالریز کمپنی لمیٹیڈ میں 12،500، شعبہ برقی میں 6،648، ڈی سی سی بی میں 1،571،ٹی آر ٹی کے ذریعہ 8،792،گروکلس میں 11،500 ٹیچرس کے پوسٹس پر بھرتی شامل ہیں۔

وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت مزید 50،000 تا 60،000 ملازمتوں پر تقررات کے اقدامات کرنے میں مصروف ہے۔اور حکومت کی جانب سے متحدہ ریاست آندھراپردیش میں موجود نان لوکل کے عمل کو ختم کرکے تلنگانہ کے بیروزگاروں کو ہی صد فیصد ملازمتیں فراہم کی جارہی ہیں۔

ٹی۔ہریش راؤ نے کہا کہ 95 فیصد ملازمتیں مقامی ملازمین کو حاصل ہونے کی غرض سے جدید زونل سسٹم رائج کیا گیا اور اس کے لیے جی او 317 جاری کیا گیا اس پر مکمل عمل آوری کے بعد ہی جدید تقررات کے عمل کو یقینی بنانے نوٹیفکیشن جاری کرنا حکومت کا مقصد ہے۔

ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے نے کہا کہ صدرجمہوریہ کی منظوری کے بعد ہی جی او 317 جاری کیا گیا ہے۔اور اس کے خلاف بی جے پی قائدین کا مخالف پروپگنڈہ مرکزی حکومت اور صدر جمہوریہ کے خلاف ہی مانا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام بیروزگار نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی وزیراعلیٰ کے سی آر کا منصوبہ ہے۔اور اس کے خلاف بی جے پی قائدین ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں مخالفت اور جھوٹے پروپگنڈہ میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین اگر یہ سوچتے ہیں کہ اس طرح کی حرکتوں سے سیاسی فائدہ حاصل ہوگا تو یہ ان کی صد فیصد غلط فہمی ہے اور بنڈی سنجے کے ” گوبلس پروپگنڈہ ” پر کوئی یقین نہیں کریں گے۔ٹی۔ہریش راؤ نے سوال کیا کہ ریاستی بی جے پی قائدین کو ملازمتوں اور نوٹیفکیشن پر بات کرنے کا حق کیسے حاصل ہے؟انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت بیروزگاروں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے اور ملک کو بیروزگاروں کا ملک بناکر رکھ دیا گیا ہے۔

ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے کہاکہ "سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی” CMIE# نے 20 جنوری کو ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں کروڑوں افراد بیروزگار ہیں۔اس تنظیم نے بتایا کہ گزشتہ سال ڈسمبر تک ملک میں 5 کروڑ 30 افراد کے پاس نہ ملازمیتیں ہیں اور نہ ہی روزگار کے ذرائع ہیں۔اور”سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی” CMIE# نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بیروزگاری کی شرح کم کرنا ہو تو ملک میں 18 کروڑ 75 لاکھ افراد کو ملازمتیں اور روزگار فراہم کرنا ضروری ہے۔

ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے کہاکہ "سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی” CMIE# نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ تلنگانہ میں بیروزگاری کی سطح ملک کی بیروزگاری سے تین گنا کم ہے۔ملک میں بیروزگاری کی شرح 7.91 فیصد ہے تو ریاست تلنگانہ میں یہ شرح صرف 2.2 فیصد ہے اس طرح ریاستوں میں بیروزگاری کے معاملہ میں تلنگانہ چوتھے نمبر پر ہے۔

ٹی۔ہریش راؤ نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ خود مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے تحت ہی ملک میں 15 لاکھ 62 ہزار 962 ملازمتیں مخلوعہ ہیں۔انڈین آرمی میں دو لاکھ جائیدادیں، ریلوے میں تین لاکھ جائیدادیں اور قومیائے ہوئے بینکوں میں 41،177 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔

ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے ریاستی بی جے پی قائدین کو چینلج کیا کہ اگر ان میں دم ہے تو وہ ان مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے وزیراعظم نریندرمودی کی رہائش گاہ پر دھرنا منظم کریں،ملک کے بیروزگار نوجوانوں کے حق کی لڑائی لڑتے ہوئے دہلی میں بلین مارچ کریں۔ہریش راؤ نے مطالبہ کیا کہ سالانہ دو کروڑ افراد کو ملازمتیں دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے والی بی جے پی حکومت گزشتہ سال دؤران 14 کروڑ ملازمتوں کا حساب دے۔

ہریش راؤ نے سوال کیا کہ تلنگانہ میں بیروزگاروں کے لیے بھوک ہڑتال کا ناٹک کرنے والے بی جے پی قائدین میں مرکزی حکومت سے سوال کرنے کے لیے دم ہے؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر کی قیادت میں ریاست تلنگانہ تمام شعبہ جات میں ترقی کی منازل طئے کررہی ہے اور یہ سب بی جے پی قائدین سے دیکھا نہیں جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بئ جے پی نے ملک کو بیروزگاروں کا ملک بناکر رکھ دیا ہے۔

ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے کہا کہ ریاستوں کے آبادی اور سرکاری ملازمتوں کے تناسب سے دیکھا جائے تو ریاست تلنگانہ اول نمبر پر ہے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 3 فیصد سرکاری ملازمین ہیں جبکہ اترپردیش میں صرف ایک فیصد،بہار میں 0.3 فیصد،بنگال اور گجرات میں 1.1 فیصد،کرناٹک میں 1.2 فیصد اور تمل ناڈو میں آبادی کے تناسب سے 2 فیصد سرکاری ملازمین ہیں۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ تلنگانہ دیگر ریاستوں کی بہ نسبت تمام شعبہ جات میں آگے ہے۔

ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو دیگر ریاستوں کی بہ نسبت تلنگانہ میں زیادہ تنخؤاہیں دی جاتی ہیں۔وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اب تک کئی سرکاری ادارے خانگی اداروں کو فروخت کردئیے ہیں جس سے ہزاروں ملازمین بیروزگار ہوگئے ہیں۔اب بشمول دیگر کئی سرکاری کمپنیوں کے حصوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔ایر انڈیا ٹاٹا کمپنی کو فروخت کردی گئی،آئی ڈی بی آئی کے علاوہ دیگر دو قومیائے ہوئے بینکوں کو خانگیایا جارہا ہے جس سے ہزاروں ملازمین بیروزگار ہو کر سڑک پر آجائیں گے۔

وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ نے کہا کہ سرکاری اداروں کو خانگی کمپنیوں کو فروخت کردئیے جانے سے ڈھائی لاکھ ملازمین ملازمتوں سے محروم ہوگئے ہیں انہوں نے بی جے پی قائدین سے پوچھا کہ کیا وہ اس کا جواب دے سکتے ہیں؟انہوں نے کہا اس طرح سرکاری اداروں کو خانگیانے سے ایس سی،ایس ٹی،او بی سی اور دیگر طبقات ریزرویشن کے ساتھ ساتھ ملازمتوں سے بھی محروم ہورہے ہیں۔

ٹی۔ہریش راؤ نے ان سب حوالوں کے ساتھ کہا کہ اب بھی ریاستی بی جے پی قائدین جھوٹ کے سہارے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس پر عوام ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے بی جے پی قائدین نے کبھی بھی ریاست کے لیے فنڈس لانے کی کوشش نہیں کی جبکہ مرکز کی بی جے پی حکومت تلنگانہ کے طلبہ،بیروزگاروں اور عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔

ریاستی وزیرصحت و فینانس ٹی۔ہریش راؤ نے کہا کہ گزشتہ سات سال کے دؤران مرکزی حکومت نے ملک میں 7 آئی آئی آئی ایم قائم کرنے کا اعلان کیا لیکن تلنگانہ کے حصہ میں صرف صفر آیا ہے۔ جبکہ 7 آئی آئی ٹی میں ایک بھی تلنگانہ کو نہیں دیا گیا،16 ٹریپل آئی ٹی میں ایک بھی تلنگانہ کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔اسی طرح ملک میں 157 میڈیکل کالجس قائم کرنے کا اعلان کیا گیا اس میں بھی تلنگانہ کو مکمل نظرانداز کردیا گیا۔اسی طرح 87 نوودیا اسکولس قائم کیے گئے ان میں ایک اسکول بھی تلنگانہ کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔

ہریش راؤ نے کہا کہ ان تمام معاملات میں ریاستی بی جے پی قائدین کا رول بھی صفر ہی رہا ہے۔ٹی۔ہریش راؤ نے ریاست کے عوام کو مشورہ دیا کہ بی جے پی قائدین کے جھوٹے پروپگنڈہ اور ” واٹس ایپ ” کے جھوٹ پر ہرگز یقین نہ کریں۔