مرکزی حکومت بالآخر جاگی! پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کاکیااعلان،پٹرول 5 روپئے اور ڈیزل 10 روپئے سستا ہوجائے گا

مرکزی حکومت بالآخر جاگی!پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا کیا اعلان
پٹرول 5 روپئے اور ڈیزل 10 روپئے سستا ہوجائے گا!،عوام کو راحت

نئی دہلی : 03۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگی آگ اور اس کی تپش سے بی جے پی کو ہونے والے نقصان کا اندازہ مرکزی حکومت کو کل ملک کی مختلف ریاستوں میں آنے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سے ہوگیا ہے!!

گزشتہ چند ماہ سے ملک میں پٹرول،ڈیزل کی قیمتوں سے شدید پریشان عوام کو تھوڑی راحت فراہم کرنے کا مرکزی حکومت نے آج فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی جائے گی۔

جس سے ملک میں پٹرول کی قیمت میں فی لیتر 5 روپئے اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیتر 10 روپئے کی کمی ہوگی۔اور اس پر جمعرات 4 نومبر سے عمل آوری ہوگی۔

مرکزی حکومت کے آج شام دیر گئے کیے گئے اس اعلان سے عوام کو ایک حدتک راحت ملنے کا امکان ہے جو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سے پریشان اور مرکزی حکومت پر برہم تھے کہ صارفین کو آئیل کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔

حکومت نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی پٹرول سے دوگنی ہو جائے گی اور آئندہ ربیع کے موسم میں کسانوں کو اس سے فائدہ حاصل ہوگا۔

ساتھ ہی مرکزی حکومت نے دیرآئید درست آئید کے مصداق ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ صارفین کو راحت دینے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کو کم کریں۔ مرکز میں زیر اقتدار بی جے پی کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتیں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکومت پرمسلسل حملے کر نے میں مصروف ہے۔

یکم نومبر کو سابق صدر کل ہند کانگریس و رکن پارلیمان راہول گاندھی نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا کہ ” جیب کتروں سے ہوشیار ” TaxExtortion#

اس ٹوئٹ کے ساتھ راہول گاندھی نے ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ ریاستوں میں پٹرول کی قیمتیں 120 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے اور مرکز نے 2018-19 میں 2.3 لاکھ کروڑ روپے اور 2017-18 میں 2.58 لاکھ کروڑ روپے ایندھن کے ذریعے جمع کیے ہیں۔

دریں اثنا، مرکزی حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب تک کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں چار میٹرو شہروں سمیت ملک کے تمام بڑے شہروں میں ان کی قیمتوں کا ہندسہ 100 روپئے کو عبور کر رہا ہے۔!!

درحقیقت عالمی سطح پر کچے تیل کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں زبردست اضافہ کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں دو سالوں میں تقریباً 34 روپئے فی لیٹر اور ایک سال میں 26 روپئے فی لیتر کااضافہ ہوا ہے۔وہیں ڈیزل کی قیمتوں میں دو سالوں میں 29.5 روپے فی لیٹر اور ایک سال میں 25 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے باؤجود صارفین کا احساس ہے کہ اس سے انہیں کوئی زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا!! اور ان کی قیمتوں میں مزید کمی کرنا ضروری ہے۔

آج چہارشنبہ کو دہلی میں پٹرول کی قیمت 110.04 روپے فی لیتر تھی جبکہ ڈیزل 98.42 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔وہیں ممبئی میں پٹرول کی قیمت 115.85 روپے تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت 106.62 روپے فی لیتر تھی۔

پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی گزشتہ سال 19.98 روپئے فی لیتر سے بڑھا کر 32.9 روپئے کر دی گئی تھی تاکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کئی سال کی کم ترین سطح پر گرنے سے پیدا ہونے والے فائدہ کو پورا کیا جاسکے کیونکہ کوویڈ وباء کے باعث ان کی مانگ میں کمی آئی تھی۔

مرکزی حکومت کے آج کے اس فیصلے کو پٹرول ڈیزل کا بوجھ اٹھانے والے صارفین کے لیے دیوالی کا تحفہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔حالانکہ اسی ہفتے کے آغاز میں کمرشیل پکوان گیس کے سیلنڈر کی قیمت میں تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے 266 روپے کا اضافہ کیا تھا جس سے عام آدمی کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔جس سے ہوٹلوں سمیت دیگر مقامات پر ان کمرشیل گیس سیلنڈروں کے استعمال کے بعد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ بھی عوام پر ہی پڑے گا!!