میں ربر اسٹامپ گورنر نہیں ہوں،دیگر ریاست کو منتقل کیے جانے کی اطلاعات غلط
کسی بھی عہدہ پر رہ کر عوامی خدمت کی جاسکتی ہے،پروٹوکول لازمی نہیں
وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد گورنر تلنگانہ تملسائی سندرراجن کا بیان
حیدرآباد: 19۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام)
گزشتہ چند دنوں سے گورنر تلنگانہ محترمہ تملسائی سؤندرراجن اورحکومت تلنگانہ کے درمیان سرد جنگ جیسے حالات ہیں۔!اسی دؤران اندرون دو ہفتے ریاستی گورنر محترمہ تملسائی سؤندرراجن دہلی کا دؤرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقات کرچکی ہیں۔مانا جارہاہے کہ ریاستی گورنرنے ریاست تلنگانہ کے موجودہ سیاسی حالات اور دیگر امور سے وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو واقف کرواچکی ہیں۔
گورنر تلنگانہ محترمہ تملسائی سؤندرراجن جو کہ پانڈیچری کی لیفٹنٹ گورنر بھی ہیں نے آج ایک اہم ریمارک کرتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کے ساتھ مل کر کام کرنا ان کے لیے ایک سوال بن گیا ہے۔ساتھ ہی ریاستی گورنر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہنے پر فوری دستخط کرنے کے لیے وہ "ربر اسٹامپ گورنر” نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں مخالفین پر تنقید اور الزامات عائد کیے جاتے ہیں لیکن وہ ایک ریاست کی گورنر ہیں پھربھی ان پر الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔تلگومیڈیا کے مطابق آج دہلی دؤرہ کے دؤران وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے یہ باتیں کہی ہیں۔
گورنر تلنگانہ محترمہ تملسائی سؤندرراجن نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دہلی روانہ ہونےکے بعدان پر غیرضروری اور غلط تشہیر شروع کردی گئی۔گورنر تلنگانہ محترمہ تملسائی سؤندرراجن نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ انہیں تلنگانہ سے کسی اور ریاست کو منتقل کیا جائے گا۔
ریاستی گورنر نے کہا کہ چیف منسٹر اور گورنر بہتر تال میل کے ساتھ اگر مل کر کام نہ کریں تو حالات کیسے ہوتے ہیں اس کی مثال ریاست تلنگانہ ہے۔ریاستی گورنر نے گزشتہ دنوں عہدیداروں کے اپنے دوروں کے مواقع پر نہ آنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور راج بھون کے پروگراموں پر حکومت کی جانب سے ناکافی ردعمل کا بھی الزام عائد کیا تھا۔
یاد رہے کہ چند دن قبل ریاستی گورنرنے ان کے عہدیداروں کے دؤروں اور دیگر مسائل کے دوران پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا،جس پر ریاستی بی جے پی قائدین استفسار کیا تھا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ اس مسئلہ پر کیوں جواب نہیں دے رہے ہیں۔
جس پر ریاستی وزیر انڈومنٹ اے۔اندراکرن ریڈی نے کہا تھا کہ یادادری کے مندر میں ریاستی گورنر کے دورہ کےمتعلق اطلاع عین وقت پر دی گئی تھی۔جس کی وجہ سے پروٹوکول کا انتظام کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ریاستی وزیر نے کہا تھا کہ گورنر محترمہ تملسائی سوندرراجن کو آئینی اصولوں کے مطابق احترام ملے گا۔اور انہیں بھی چاہئے کہ خود احترام کے ساتھ برتاؤ کریں۔
وہیں ریاستی وزیر ایس ٹی،خواتین و بہبود اطفال محترمہ ستیہ وتی راتھوڑ نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ جب گورنر سؤندرا راجن نے ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کی تھی تو ان کا لہجہ ایک بی جے پی لیڈر کی طرح تھا۔
اب جبکہ ریاستی حکومت اور راج بھون کے درمیان خلیج گہری ہوتی جارہی ہے تو ایسے میں ان وزرا کے بیانات کے بعد گورنر تلنگانہ محترمہ تملسائی سؤندرراجن نے کہا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی ریاستی حکومت پر کوئی تنقید نہیں کی اور غیرضروری ان پر الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی خدمت کے لیے ان کے درمیان رہنا پسند کرتی ہیں اور پروٹوکول کو اتنی اہمیت نہیں دیتیں۔ریاستی گورنر نے کہا کہ ان کی جانب سے عوام سے ملاقات کو غلط سمجھا جارہا ہے۔جبکہ کسی بھی عہدہ پر رہوں عوام کی خدمت ہی میرا مقصد ہے۔
ریاستی گورنر نے کہا کہ پروٹوکول کا مسئلہ مرکزی حکومت دیکھ لے گی۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے اس کی شکایت انہوں نے مرکزی حکومت سے کی ہے اور قطعی فیصلہ مرکزی حکومت ہی کرے گی۔
گورنر تلنگانہ محترمہ تملسائی سؤندرراجن نے کہا کہ وہ ریاست کی گورنر ہیں اور اپنی ذمہ داری بخوبی نبھارہی ہیں۔کوئی بھی کچھ بھی کہے اس میں کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دستوری عہدوں کا احترام ہرکسی کے لیے لازمی ہے۔گورنر تلنگانہ محترمہ تملسائی سؤندرراجن نے وضاحت کی کہ انہوں نے کبھی بھی ایسا نہیں کہا کہ وہ ریاستی حکومت کوتحلیل کردیں گی۔انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں ان پر بیجا الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔

