کرناٹک کے سلے ہلی میں مال گاڑی کے ڈبے پٹری سے اتر گئے، حیدرآباد سے براہ وقار آباد۔تانڈور گزرنے والی چند ٹرینوں کا رخ تبدیل

کرناٹک کے سلے ہلی میں مال گاڑی کے ڈبے پٹری سے اتر گئے
حیدرآباد سے براہ وقار آباد۔تانڈور گزرنے والی چندٹرینوں کا رخ تبدیل

حیدرآباد/وقارآباد :14۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام)

ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے حدود میں موجود کرناٹک کےضلع گلبرگہ اور چیتاپور کے درمیان سلے ہلی ریلوے اسٹیشن کے قریب آج سہء پہر ایک مال گاڑی کے کئی ڈبوں کے پٹری سے اتر جانےکے باعث حیدرآباد اور سکندرآباد سے براہ وقار آباد اور تانڈورگزرنے والی چند ایکسپریس ٹرینوں کا رخ تبدیل کردیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں ساؤتھ سنٹرل ریلوے کی جانب سےجاری کردہ بلٹین میں بتایا گیا ہے کہ آج سہء پہر براہ وقارآباد۔تانڈور،کرناٹک سے ہوکر گزرنے والی ایک مال گاڑی کےچند ڈبے چیتاپور رہلوے اسٹیشن سے گزرکر سلے ہلی ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئے۔جوکہ واڑی ریلوے اسٹیشن کےقریب ہے۔جہاں یہ حادثہ ہواہے اس کا فاصلہ تانڈور ریلوے اسٹیشن سے 89 کلومیٹر ہے۔اس حادثہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔تاہم مال گاڑی کے کئی ڈبے اور ریل کی پٹریاں تباہ ہوئی ہیں۔

اس حادثہ کی مکمل تفصیلات اور وجوہات آج رات دیرگئے تک واضح نہیں ہوپائی ہیں۔اس مال گاڑی کےڈبوں کےپٹری سےاترجانےکے باعث اس روٹ پر ریل خدمات متاثر ہوئی ہیں۔اورر یلوے انتظامیہ جنگی سطح پر ان پٹری سے اترجانے والے ڈبوں کو اٹھاکر اور پٹریوں کی مرمت کے کاموں میں مصروف ہے۔اور جلد ہی اس روٹ پر ٹرینوں کی آمدورفت کے آغاز کا امکان ہے۔

اس حادثہ کے باعث حیدرآباد،سکندرآباد سے براہ وقار آباد اور تانڈور گزرنے والی مختلف ایکسپریس اور پاسنجر ٹرینوں کی آمدورفت پر اثر پڑا ہے۔

ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے بلٹین میں بتایا گیا ہے کہ اس حادثہ کے باعث نظام آباد سے تروپتی جانے والی رائلسیما ایکسپریس،حیدرآباد سے ممبئی جانےوالی حسین ساگرایکسپریس،یشونت پور ایکسپریس اوربیجاپورایکسپریس کا رخ موڑ دیا گیاہے اب یہ ٹرینیں ریل کی پٹریوں کی مرمت اور خدمات کی بحالی تک دوسرے رخ پر چلائی جائیں گی۔جبکہ اس روٹ پر چلنے والی چند پاسنجر ٹرینوں کو منسوخ کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس مال گاڑی حادثہ کے بعد مذکورہ بالا ایکسپریس ٹرینوں کا رخ موڑ دئیے جانے کے باعث وقارآباد جنکشن ریلوے اسٹیشن سے ان ٹرینوں میں سوار ہونے والے ایسے مسافرین اور ان کے ساتھ موجود افراد خاندان کو وقارآباد ریلوے اسٹیشن پر شدید پریشان دیکھا گیا جو مہاراشٹرا کے قریبی مقامات،کرناٹک کے بیدر،ہمناآباد کے علاوہ دیگر مقامات کے بشمول ظہیر آباد اور سنگاریڈی سے بسوں اورخانگی گاڑیوں یا پھر لنک ٹرینوں سے آکر وقارآباد ریلوے اسٹیشن پہنچے تھے۔

جنہیں رائلسیما ایکسپریس کےذریعہ تروپتی،حیدرآباد سےممبئی جانے والی حسین ساگر ایکسپریس کے ذریعہ شولا پور، پونے اورممبئی،یشونت پورایکسپریس کے ذریعہ بنگلورو کے علاوہ دیگر دور دراز کے شہروں کو روانہ ہونا تھا۔مذکورہ ٹرینوں کےرخ کی تبدیلی کی اطلاع کے بعد انہیں مایوس اور پریشان دیکھا گیا۔زیادہ تر مسافر اپنے اپنے مقامات کو واپس لؤٹ گئے۔

اسی طرح وقارآباد اور تانڈور کے علاوہ کوڑنگل،کوسگی،کرناٹک کےچنچولی کے علاوہ دیگر مقامات سے ممبئی،بنگلورو، تروپتی اور دیگر مقامات کو روانہ ہونے والے مسافرین کو بھی شدید دشواریاں پیش آئیں،جنہوں نے اپنا ریزرویشن کروایا تھا۔جبکہ مزدورطبقہ کام کی غرض سےاسٹیشن پہنچ کر ہی ٹکٹ حاصل کرکے زیادہ تر ممبئی کا رخ کیاکرتا ہے۔اس پر تلسنکرانتی کے موقع پر اپنے اپنے مکانات پہنچنے والے مسافرین کو بھی مشکلات پیش آئیں۔