سر تن سے جدا کی دھمکی ملنے کا پروپگنڈہ کرتے ہوئے شہرت حاصل کرنے کا حربہ، اترپردیش کا ڈاکٹر جھوٹا نکلا، کیس درج ہونے کے بعد روپوش

سر تن سے جدا کی دھمکی ملنے کا پروپگنڈہ کرتے ہوئے شہرت حاصل کرنے کا حربہ
میڈیا کی توجہ حاصل کرنے والا اترپردیش کا ڈاکٹر اروند جھوٹا نکلا
کیس درج ہونے کے بعد روپوش ڈاکٹر ایتی نرسنگھا نند کے پاس پہنچا

نئی دہلی: 19۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

اترپردیش پولیس نے فرض شناسی کا بہترین مظاہرہ کرتےہوئے ایک ایسے ڈاکٹر کو بے نقاب کردیا ہے جس نےچند دن قبل ایک پریس کانفرنس میں رو رو کر اور اپنے مگرمچھ کے آنسو پونچھتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اسے واٹس ایپ پر ایک ہی نمبر سے امریکہ سے دھمکی آمیز کال موصول ہورہے ہیں کہ "وہ ہندو تنظیموں کی تائید کرنا چھوڑ دے،ورنہ اس کا سر تن سے جدا کردیا جائے گا”۔

اس نے اپنے واٹس ایپ کال ریکارڈ کے ساتھ واٹس ایپ پر موصولہ راجستھان کے الورضلع میں پیش آئی کنہیا لال درزی کے قتل کی تصاویر اور ویڈیوز بھی میڈیا کو دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس دھمکی سے شدید پریشان ہے اور اپنے ٹھکانے بدل رہا ہے۔

پھر کیا تھا گودی میڈیا کو مواد مل گیا۔گھنٹوں خصوصی پروگرام کیےگئے اور ڈیبیٹس بھی ہوئے جن میں اس ڈاکٹر کوبھی شامل کیا گیا۔

تاہم پولیس تحقیقات میں یہ سچ سامنے آیا کہ اس ڈاکٹر کا دعویٰ اور الزام غلط ہیں۔اس کے جس واٹس ایپ پر دھمکی آمیز کال،فوٹوزاور ویڈیوز آئےتھے وہ خود اسی نے شہرت حاصل کرنے کی غرض سے ایک انٹرنیٹ نمبر سے کیے تھے۔گھنٹوں تک سر تن سےجدا کے نام پر مسلمانوں کے خلاف زہر پھیلانے والے اسی میڈیا کا اب حلق خشک ہوگیا ہے!

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق اترپردیش کے غازی آباد کے امبیڈکر نگر کے ساکن ڈاکٹر اروند وتس اکیلا نے 9 ستمبر کو سیہانی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی کہ اسے نامعلوم نمبر سے جوکہ امریکہ کا نظر آرہا ہے کے ذریعہ دھمکی آمیز واٹس ایپ کال،ویڈیو اور فوٹوز آرہے ہیں کہ اس کا سر تن سے جدا کردیا جائے گا۔جس پر پولیس نے ایف آئی آردرج کرلیا تھا۔

بعدازاں گودی میڈیا کے تقریباً نیوز چینلوں کو مفت میں بٹیر ہاتھ لگ گیا۔اور اس پر گھنٹوں پروگرام چلائے گئے۔ڈیبیٹس بھی کی گئیں جن میں ڈاکٹر اروند وتس اکیلا بھی شامل ہوا تھا۔

پولیس نے جب اس سنگین الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا تو انکشاف ہوا کہ یہ سارا کھیل اسی نےمیڈیا کے ذریعہ شہرت حاصل کرنے کی غرض سے کیا تھا۔

اس سلسلہ میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مسٹر نپن اگروال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر نے جس پیر کی تصویر دکھائی تھی تحقیقات میں پتہ چلا کہ وہ انیش مہاتو،چھپرا بہار کے رہنے والے اور کمپیوٹر کے ماہر ہیں کا ہے۔جنہوں نے پیر کی سوجن پر وہ تصویر اس ڈاکٹر کو بھیجی تھی۔ضلع ایس کے مطابق انہوں نے پولیس کو بتایاکہ گزشتہ ماہ ہی ان کی اس ڈاکٹر سے پہچان ہوئی تھی۔جس کے بعد ان دونوں میں فون کےذریعہ رابطہ قائم تھا۔ضلع ایس پی نے کہاکہ محض شہرت حاصل کرنے کی غرض سےاس ڈاکٹرنے یہ سارامعاملہ کھڑا کیا اور اس موبائل نمبر کو انٹرنیٹ کے ذریعہ بنایا گیا جو کہ امریکہ کا نظر آتا تھا۔

اس معاملہ میں پولیس کی جانب سے اب غازی آباد کے اس ڈاکٹر اروند وتس اکیلا کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 182 کے تحت جھوٹی شکایت درج کروانے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ڈاکٹر اروند وتس اکیلا مفرور ہے،پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے اس ڈاکٹر کے مکان اور کلینک پر دھاوہ منظم کیا لیکن وہ فرار ہے۔

اسی دؤران سوشل میڈیا پر ایتی نرسنگھانند کےساتھ اس ڈاکٹر کا ایک ویڈیو وائرل ہواہے۔جس میں ایتی نرسنگھانندضلع ایس پی کومخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ”دھمکی دی ہو یا نہ دی مسلمان،مسلمان ہے!!ہوسکتا ہے کہ ساری غلطی ڈاکٹر صاحب کی ہو،بھلے ہی ڈاکٹر کے خلاف کیس درج کیجئے،لیکن ایک بات یاد رکھئے ڈاکٹر کا قتل ہوتاہے تو اس کے ذمہ دار صرف آپ ہوں گے۔!!” ساتھ ہی فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمدزبیر نے اس ڈاکٹر کی چند تصاویر ٹوئٹ کی ہیں۔جنہیں اس ڈاکٹر نے اپنے فیس بک پر پوسٹ کیا تھا۔!!