کوویڈ کی تیسری لہر نہیں آئی تو بہت جلد تمام ٹرینوں کا حسب معمول دوبارہ آغاز
دوسری لہر کے کمزور پڑنے کے بعد 90 فیصد ایکسپریس اور 40 فیصد پاسنجر ٹرینوں کا آغاز کیا گیا
جنرل مینجئر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹر گجانن مالیہ کا دؤرہ تانڈور،پریس کانفرنس سے خطاب
وقارآباد/تانڈور:08۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
جنرل مینجئر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹر گجانن مالیہ نے کہا ہے کہ اگر کوویڈ کی تیسری لہر نہیں آتی ہے تو اندرون دو تا تین ماہ سابق کی طرح تمام ٹرینوں کے دوبارہ آغاز کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ ریلوے کے زیر التوا کاموں اور گزشتہ دنوں منعقدہ اجلاس میں ریاست کے ارکان پارلیمان کی جانب سے کی گئیں نمائندگیوں پر غور کے بعد جدید پراجکٹس کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔
جنرل مینجئرساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹر گجانن مالیہ آج وقارآباد ضلع کے تانڈور ریلوے اسٹیشن کے اپنے دؤرہ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
قبل ازیں خصوصی ٹرین کے ذریعہ تانڈور پہنچے جنرل مینجئر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹر گجانن مالیہ نے پڑوسی ریاست کرناٹک کے ملکوڈ اور سیڑم کے لیے تانڈور کی کلبرگی،سی سی آئی اور دیگر سمنٹ فیکٹریز کے لیے جاری ریلوے ٹریک بچھانے کے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔

بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مینجئر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹرگجانن مالیہ نے کہا کہ کوویڈ کی دوسری لہر کے کمزور پڑنے کے بعد ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے حدود میں 90 فیصد ایکسپریس اور 40 فیصد پاسنجر ٹرینیں چلائی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اندرون دو تین ماہ تمام ٹرینوں کی حسب معمول بحالی کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ عوام کی جانب سے تمام ٹرینوں کی بحالی کے لیے متعدد نمائندگیاں موصول ہورہی ہیں۔
جنرل مینجئر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹرگجانن مالیہ نے کہا کہ ساتھ ہی ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے حدود میں موجود تمام ریلوے اسٹیشنوں کی ترقی کے اقدامات بھی کیے جائیں گے اور اس کے لیے منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ اجلاس میں ریاست کے ارکان پارلیمان کی نمائندگیوں پر بھی غور کیا جارہا ہے جس میں مختلف ٹرینوں کی توسیع اور ریلوے اسٹیشنوں پر ٹرینوں کا توقف بھی شامل ہے اور اس کے لیے ریاستی حکومت سے بہتر تال میل کے ذریعہ ان کاموں کو انجام دیا جائے گا۔

جنرل مینجئر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹرگجانن مالیہ نے کہا کہ ریلوے اسٹیشنوں میں جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کی غرض سے سی سی کیمروں کی تنصیب پر غور کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بڑے ریلوے اسٹیشنوں میں پہلے ہی سی سی کیمرے نصب کردئیے ہیں اور بہت جلد چھوٹے ریلوے اسٹیشنوں پر بھی سی سی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
جنرل مینجئر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹر گجانن مالیہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ” ٹی۔کاس" (ٹرین کولیژن اوائیڈنس سسٹم) کا تجربہ ہنوز جاری ہے اور اب تک 540 کلومیٹر فاصلہ کے درمیان اس تجربہ کو مکمل کرلیا گیا ہے۔
اور سکندرآباد۔وقارآباد۔پرلی۔پربھنی۔سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے درمیان یہ تجربہ کامیاب ہوا ہے اور جلد ہی 1200 کلومیٹر کے فاصلہ پر اس کا تجربہ کیا جائے گا۔بعدازاں ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے دائرہ میں دیگر مقامات پر بھی اس کا تجربہ کیا جائے گا۔

جنرل مینجئر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹرگجانن مالیہ نے کہا کہ اس کے بعد پورے ملک کی ٹرینوں میں اس ٹی۔کاس آلہ کی تنصیب عمل میں لائے جانے کا امکان ہے۔
جنرل مینجئرساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹرگجانن مالیہ کے دور تانڈور کے موقع پر ان کے ساتھ ڈویثرنل ریلوے مینجئرساؤتھ سنٹرل ریلوے اے کے گپتا کے علاوہ محکمہ ریلوے کے دیگر عہدیدارموجود تھے۔
"ٹی۔کاس” (ٹرین کولیژن اوائیڈنس سسٹم) کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتا ہے؟
ملک میں پہلی مرتبہ 11 اکتوبر 2012ء کو اس تجربہ کا آغاز ضلع وقارآباد کے حلقہ اسمبلی تانڈور میں موجود بشیر آباد منڈل کے ناوندگی اور منتٹی ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان کامیابی کے ساتھ انجام دیا گیا تھا پھر دوبارہ 16 اکتوبر 2012ء کو اسی مقام پریہ تجربہ دہرایا گیا تھا۔

پھر 12 جنوری 2014 کو اس کا آخری تجربہ بھی عمل میں لایا گیا تھا اس دؤران ناوندگی،منتٹی اور کرناٹک کے کرگنٹہ ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان جس کا فاصلہ 30 کلومیٹر ہے پر دو مسافر ٹرینوں میں جس میں مسافرین موجود نہیں تھے اور ایک ٹرین میں 3 بوگی اور دوسری ٹرین میں 6 بوگی لگائے گئے تھے ان دونوں ٹرینوں کے انجن میں ‘ ٹرین کولیثرن اوائیڈنس سسٹم ( ٹی سی اے ایس )سسٹم ‘ نا می آلہ نصب کیا گیا تھا اور ان دو ٹرینوں کو ایک ہی ٹریک پر ایک دوسرے کے مخالف دوڑایا گیا اس تجربہ کے دؤران جب رفتار کے ساتھ ایک ہی ٹریک پر دونوں ٹرینیں قریب آتی چلی گئیں تودونوں ٹرینوں میں نصب آلے سے سا ئرن بجنے لگے اور ڈرائیورس چوکس ہوگئے اور 100 میٹر تا 500 میٹر کی دوری پر ہی بناء بریک لگائے یہ دونوں ٹرینیں رُک گئیں۔

یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا جبکہ اسی طرح دو الگ الگ ٹرینوں کو دوسرے ٹریک پر بھی دوڑا کر تجربہ کیا گیا تھا اس کامیاب تجربہ کے بعد اس وقت ریسرچ ڈیزائنس اسٹانڈرڈ آرگنائزیشن لکھنؤ ) آر ڈی ایس او کے ڈائرکٹر جنرل راما چندرن اور ڈویثرنل ریلوے مینیجر ساؤتھ سنٹرل ریلوے سکندرآباد مسٹر ایس کے مشراء نے انکشاف کیا تھا کہ اس تجربہ کی انجام دہی کے لیے اس وقت کی مرکزی وزارت ریلوے کی جانب سے 35 کروڑ روپئے صرف کئے جارہے ہیں۔
یاد رہیکہ ایک ہی ٹریک پر انسانی یا تکنیکی غلطی یا پھر سگنل نظام کے ناکارہ ہوجانے کے باعث آجانے والی دوتیز رفتار ٹرینوں کے ڈرائیورس محسوس نہ بھی کریں تو یہ خود کار آلہ ایسے حادثات کو روکنے کا موجب بنے گا اور دونوں ٹرینیں خود بہ خود رک جائیں گی۔” ٹرین کولیثرن اوائیڈنس سسٹم ( ٹی سی اے ایس )” آلہ لکھنئو میں موجود ریسرچ ڈیزائن اسٹانڈرڈ آرگنائزیشن (آر ڈی ایس او)،کیر نیکس،میدھا اور حیدرآباد میں موجود ہندوستان بیاٹری لمیٹیڈ کی مشترکہ ایجاد ہے۔

واضح رہیکہ ملک میں پہلی بارمحکمہ ریلوے کی جانب سے یہ تجربہ ضلع وقارآباد کے تانڈور اسمبلی حلقہ میں موجود ناوندگی اور منتٹی ریلوے اسٹیشنوں کے درمیا ن کیا گیا تھا اور ساری دنیا میں ہندوستانی ریلوے کو ایسا آلہ ایجاد کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جس سے قیمتی انسانی زندگیوں کی حفاظت ہوگی۔

