افغانستان: قندوز کی شیعہ مسجد میں خودکش حملہ،کم از کم ایک سو ہلاکتیں،متعدد زخمی،داعش پر شبہ

افغانستان: قندوز کی شیعہ مسجد میں خودکش حملہ،کم از کم ایک سو ہلاکتیں،متعدد زخمی

کابل/قندوز: 08۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

افغانستان کے شہر قندوز کی ایک شیعہ مسجد میں جمعہ کی نماز کے دؤران ہونے والے خودکش حملے میں کم ازکم ایک سو افرادجاں بحق ہوگئے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔جبکہ خبررساں ادارہ رائٹرس کی اطلاع میں اس خودکش حملہ میں جاں بحق ہونے کی تعداد 70 تا 80 بتائی ہے اور 140 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

Photo Courtesy: Twitter

اس سلسلہ میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر پشتو زبان میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "آج دوپہر کے وقت،صوبہ قندوز کے دارالحکومت خان آباد بندرگاہ میں ایک شیعہ مسجد میں دھماکہ ہوا،جس میں ہمارے متعدد ہم وطن ہلاک اور زخمی ہوئےہیں،مجاہدین نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کیاہے۔خصوصی دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور تحقیقات کر رہے ہیں”۔

طالبان کے ایک سینئر رہنما اور قندوز پولیس کے نائب سربراہ دوست محمد عبیدہ کا کہنا ہے کہ مسجد کے اندر ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں زیادہ تر افراد کی موت ہو گئی ہے۔ابھی تک کسی گروپ نے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

Photo Courtesy: Twitter

افغانستان میں سے امریکی اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی افواج کے انخلا کے بعد اس حملے کو سب سے ہولناک حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

خود کش حملہ قندوز کے علاقے خان آباد کی شیعہ مسجد غذر سیا آباد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے والے نمازیوں پر کیاگیا  جو نماز جمعہ کی ادائیگی میں مصروف تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد مسجد کا اندرون حصہ خون اور انسانی اعضا سے بھرا ہوا تھا۔ہسپتالوں کے ذرائع نے ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ بہت سے زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

ہلاکتوں کی تصدیق اقوام متحدہ کے مقامی دفتر نے بھی کر دی ہے۔ بڑے دھماکے کے بعد کئی چھوٹے دھماکے بھی سنائی دینے کی اطلاعات ہیں۔

افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ گزشتہ چند ماہ سے افغانستان کی اقلیت شیعہ آبادیوں پر حملے کرتی آرہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگارسکندر کرمانی نے پاکستان سے اطلاع دی ہے کہ ماضی میں بھی یہ گروہ متعدد مرتبہ افغانستان کی شیعہ اقلیت کو نشانہ بنا چکا ہے،جہاں خودکش حملہ آوروں نے مساجد،اسپورٹس کلبوں اورا سکولوں کو نشانہ بنایا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں اسلامک اسٹیٹ نے طالبان کے خلاف حملوں کو بھی تیز کر دیا ہے۔

ٹوئٹر پر وائس آف افغانستان کے ٹوئٹ کے مطابق گورنر کھوست مولوی محمد نبی عمر نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان دھماکوں کے بعد 14 آئی ایس آئی ایس (داعش) کے ارکان کو گرفتارکرلیا گیا ہے جنہوں نے اس دھماکہ کا منصوبہ تیار کیاتھا اور تفتیش کے دؤران انہوں نے اعتراف بھی کرلیا ہے!؟

https://twitter.com/Afghan_Voice_/status/1446490606876962818