پاسباں مِل گئے کعبے کو صنَم خانے سے
صدیق کپن کی جیل سے رہائی کے لیے 79 سالہ لکھنؤ یونیورسٹی کی
سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما نے دی ضمانت،کہاں ہیں دردمندانِ قوم؟
نئی دہلی: 22۔ستمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
ملک کی ہر ریاست،ہر شہر،ہر ٹاؤن،ہرگاؤں اور ہرمحلہ میں نام نہاد قیادت کے لاکھوں اور کروڑوں دعویدار مل جائیں گے۔لیکن قوم کو ہمیشہ ان سے شکایت رہی ہےکہ اسے جب کسی کی ضرورت پڑتی ہے توان میں سے کوئی ایک نظر نہیں آتے۔جب عدالتوں سے انہیں ضمانت دی جاتی ہے یا بے گناہ مان کر بری کردیا جاتا ہے تو اس کے بعد بھی ان کی ضمانتیں دے کر انہیں جیلوں سے باہر نکالنے سے بھی قوم اور ان کی قیادت کے دعویدار انجان ہی بن جاتےہیں!؟۔
اس کی زندہ مثال کیرالا کےصحافی صدیق کپن ہیں۔صدیق کپن کو سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کی دفعات کے تحت درج معاملات میں 9 ستمبر کو مختلف شرائط کے ساتھ ضمانت منظور کی تھی۔جو دو سال سے اترپردیش کی جیل میں قیدتھے۔جیل سے رہائی کے لیے سپریم کورٹ نے شرط رکھی تھی کہ مقامی شخص کی ضمانت پر صدیق کپن کو جیل سے رہا کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ کی جانب سےضمانت کی منظوری کےدس دن بعد تک بھی اس شرط کی تکمیل کے لیےمقامی سطح پر کوئی بھی مسلم قیادت یا تنظیم صدیق کپن کی ضمانت دینے کے لیے آگے نہیں آئی۔اور نہ ہی اترپردیش کےصحافی ہی صدیق کپن کی ضمانت کے لیے آگے آئے۔
لیکن پاسباں مل گئے کعبہ کوصنم خانے سےکے مصداق 79 سالہ محترمہ روپ ریکھا ورما،جولکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر ہیں جوکہ صدیق کپن کو جانتی تک نہیں ہیں۔لیکن منگل کی شام کوصدیق کپن کی رہائی کو یقینی بنانے کےلیے انہوں نے اپنی کارکے کاغذات ایک مقامی عدالت میں ضمانتی مچلکے کےطور پر جمع کروائے ہیں۔دی ٹیلیگراف سے بات کرتے ہوئے اس باہمت،حوصلہ مند اور انسانیت کا درد رکھنے والی بزرگ خاتون محترمہ روپ ریکھا ورما نے کہا کہ”میرے ضمیر نے کہا کہ اسے جیل سے باہر ہونا چاہئے اور خود کو بے قصور ثابت کرنا چاہئے”۔
یاد رہے کہ صدیق کپن،دہلی میں خدمات انجام دینے والے اور کیرالہ سےتعلق رکھنے والے صحافی کو اکتوبر 2020 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ایک دلت نوجوان لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کی رپورٹنگ کرنے کی غرض سے اترپردیش کے ہاتھرس جارہے تھے۔ان پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کےالزام کےتحت یو اے پی اے لگایا گیا تھا۔ساتھ ہی دہشت گرد تنظیموں سے ان کے روابط اور منی لانڈرنگ کے بھی ان پر الزامات ہیں۔صدیق کپن کو 10 ستمبر کو سپریم کورٹ نے شہریوں کے” آزادی اظہار”کے حق پر زور دیتے ہوئے ضمانت دی تھی۔
محترمہ روپ ریکھا ورما نے دی ٹیلیگراف سے کہا کہ کیرالہ سے ان کے ایک دوست نے انہیں فون کیا اور ان سےدرخواست کی کہ وہ دو افراد کو ضمانت دینے کے لیے راضی کروائیں۔”لیکن میرے پاس کوئی نہیں تھے۔میں صرف اپنے آپ کوجانتی ہوں اور اس لیےاپنی سیلریو کار کے کاغذات بطور ضمانت جمع کروائے جس کی قیمت 4 لاکھ روپے سے زیادہ ہے”۔انہوں نے بتایا کہ بعد میں،میں نےسنا کہ لکھنؤ کے ایک اور شخص نے دوسرے سیکورٹی بانڈ کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن میں نہیں جانتی کہ وہ شخص کون ہے؟۔
لکھنؤ یونیورسٹی میں تین دہائیوں سےزائد عرصے تک فلسفہ پڑھاچکیں اور 1998 سے 1999 کے درمیان وائس چانسلر کی خدمات انجام دے چکیں بزرگ سماجی کارکن محترمہ روپ ریکھا ورمانے دی ٹیلیگراف کے نمائندے سے بات چیت کے دوران کئی بار واضح کیاکہ”انہوں نےمحض ایک شہری ہونے کے طور پر اپنا فرض ادا کیا ہے یہ کوئی خاص بات نہیں ہے”۔
انسانیت کی علمبردار سابق وائس چانسلر لکھنؤ یونیورسٹی کی تنہا زندگی بسر کررہیں بزرگ سماجی کارکن محترمہ روپ ریکھا ورما کو تقریباً ہر روز لکھنؤ کے مرکزی بازار حضرت گنج اور اس کے آس پاس میں صنفی مساوات کےحق اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف بطور احتجاج پمفلٹ تقسیم ہوئے دیکھا جاتاہے۔اطلاعات کے مطابق گجرات کی بلقیس بانو کے جن 11 مجرموں کو جیل سے رہا کیا گیا ہے اس کے خلاف دائر کردہ درخواست کے درخواست گزاروں میں محترمہ روپ ریکھا ورما بھی شامل ہیں۔
محترمہ روپ ریکھا ورما کی جانب سے صحافی صدیق کپن کی رہائی کے لیے ضمانت دئیے جانے کی اطلاعات پرسوشل میڈیا پر قوم کے ذمہ داران اور خودساختہ خادمین ملت پر تنقید کی جارہی ہے کہ اس موقع پرصدیق کپن کی ضمانت کے لیے مختلف القاب والی مسلم شخصیتیں اور تنظیمیں کیوں سامنے نہیں آئیں؟

"انہیں الله سلامت رکھے،ان کے لیے دل سے اس وقت دعائیں نکل رہی ہیں۔گریٹ! ایک بات مزید،روپ ریکھا ورمانے کہاہےکہ انہوں نے کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا ہے۔کیا یہ جملہ ان مسلم قائدین کو شرمندہ کرنے کےلیے کافی نہیں ہے جو ہسپتال جاکر اگر ایک مریض کو ایک کیلا بھی دیتے ہیں تو ایسی تشہیر کرواتے ہیں جیسے کہ ہمالیہ کی چوٹی سر کرلی ہے۔!! "


