وقارآباد ضلع: سابق صدر بلدیہ تانڈور لکشماریڈی نے زعفرانی کھنڈوا پہن لیا
ریاستی صدر کشن ریڈی کی قیادت میں دہلی میں بی جے پی میں شمولیت
وقارآباد/تانڈور: 29۔جولائی
(سحرنیوزڈاٹ کام/نمائندہ)
جاریہ سال کے اواخر یا آئندہ سال کے اوائل میں تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ریاست میں سیاسی حالات اور وفاداریاں تیزی کے ساتھ بدل رہی ہیں۔ یہی حال وقارآباد ضلع کا بھی ہے۔
سابق صدرنشین بلدیہ تانڈور و سابق صدرنشین ڈسٹرکٹ کوآپریٹیوسنٹرل بینک (ڈی سی سی بی) پی۔لکشما ریڈی نے آج 29 جولائی کو صدر تلنگانہ بی جے پی و مرکزی وزیر سیاحت جی۔کشن ریڈی کی قیادت میں دہلی پہنچ کر باقاعدہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔گذشتہ دو چار دن سے ایسی اطلاعات زیر گشت تھیں کہ پی۔لکشما ریڈی بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں جو آج سچ ثابت ہوئیں۔
آج دہلی میں بی جے پی پارٹی کےدفتر میں پی۔لکشماریڈی تلنگانہ کے بی جے پی قائدین و قومی نائب صدر ڈی کے ارونا اور رکن اسمبلی حضور آباد و بی جے پی الیکشن مینجمنٹ کمیٹی ایٹالہ راجندر کی موجودگی میں بی جے پی میں شامل ہوگئے۔اس موقع پر قومی سیکریٹری و انچارج تلنگانہ بی جے پی ترون چگ نے پارٹی کھنڈوا پہناکر گلدستہ پیش کرتے ہوئے پی۔لکشما ریڈی کا بی جے پی میں استقبال کیا۔
پی۔لکشماریڈی متحدہ ضلع رنگاریڈی میں کانگریس پارٹی کے سینئر قائد تھے۔بعد ازاں انہوں نے 2005 تا 2010 صدرنشین بلدیہ تانڈور کے عہدہ کی ذمہ داری نبھائی۔پھر وہ صدرنشین ڈسٹرکٹ کوآپریٹیوسنٹرل بینک(ڈی سی سی بی) ضلع رنگاریڈی منتخب ہوئے۔تاہم تحریک عدم اعتماد میں شکست سے دوچار ہوگئے۔
پی۔لکشما ریڈی،آنجہانی وزیر اعلیٰ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھرریڈی کی قیادت میں 2009 میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں تانڈور سے مقابلہ کرنے کے مضبوط دعویدار تھے تاہم کانگریس پارٹی نے رمیش مہاراج کو تکٹ دیا تھا جنہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔
بعدازاں کانگریس کے سابق رکن اسمبلی تانڈور ایم۔ نارائن راؤسمیت کئی سینئر کانگریسی قائدین نے 2018 کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر اس وقت کے وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندریڈی کی قیادت میں اس وقت کی ٹی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی،جن میں پی۔لکشماریڈی بھی شامل تھے۔
تاہم 2018 کے اسمبلی انتخابات میں اس وقت کے وزیر ٹرانسپورٹ و رکن اسمبلی ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی کو کانگریسی امیدوار پائلٹ روہت ریڈی کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا۔بعدازاں پائلٹ روہت ریڈی منتخب ہونےکے چند ماہ بعد ہی کانگریس چھوڑکر ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے تھے۔ پی۔لکشماریڈی ہنوز بی آر ایس پارٹی میں ہی موجود تھے لیکن خود کو پارٹی سرگرمیوں سے دور ہی رکھا تھا۔
جبکہ گذشتہ سال رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی کے بااعتماد رفیق مانےجانےوالے مرلی کرشنا گوڑ بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے تانڈور کے سیاسی حالات بھی دن بہ دن تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔تانڈور اور وقارآباد ضلع میں اس بات پر بحث چھڑی ہوئی ہے کہ جاریہ سال کے اواخر میں منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی تانڈور کے لیے بی آر ایس پارٹی کا امیدوار کون ہوگا۔؟
وہیں سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہیندرریڈی تمام مواقع پر کہتے آ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی خدمات کو دیکھتے ہوئے پارٹی انہیں ہی ٹکٹ دے گی اوران کی ماضی کی فلاحی خدمات اور تانڈور کو دی گئی ترقی کے پیش نظرعوام ان کےساتھ ہے اور انہیں ووٹ دےکر کامیاب بنائے گی۔
دوسری جانب رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی اور ان کے حامیوں کابھی دعویٰ ہےکہ پارٹی انہیں ہی ٹکٹ دے گی اور وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ منتخب ہونگے کیوںکہ انہوں نے تانڈور کی ترقی کے لیے کروڑہا روپئے کے فنڈس حکومت سے حاصل کیے ہیں۔فی الحال تانڈورمیں بی آر ایس پارٹی دو گروپوں میں منقسم ہے۔ کانگریس کی جانب سے نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی و انچارج کانگریس حلقہ اسمبلی تانڈور رمیش مہاراج ٹکٹ کے مضبوط دعویدار ہیں۔
جبکہ جاریہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا امیدوار کون ہوگا؟ یہ بھی ایک مخمصہ ہے۔ایسی اطلاعات زیرگشت ہیں کہ سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈا وشویشورریڈی جنہوں نے گذشتہ سال کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی وہ حلقہ اسمبلی تانڈور سے مقابلہ کے خواہاں ہیں۔
وہیں مرلی کرشنا گوڑ اور یو۔رمیش سیکریٹری وقارآباد ضلع بی جے پی بھی مضبوط دعویدار مانے جارہے ہیں۔ ان کے علاوہ 2018 کے بی جے پی کے شکست خوردہ امیدوار روی شنکر پٹیل کا نام بھی زیر گشت ہے۔!!اب مانا جا رہا ہے کہ پی۔لکشما ریڈی حلقہ اسمبلی تانڈور کے لیے بی جے پی امیدوار کےطور پر مضبوط دعویٰ پیش کرسکتے ہیں۔!! بہر حال بی آر ایس اور بی جے پی میں ایک انار اور کئی بیمار ولا معاملہ نظر آتا ہے۔!!


