عادل آباد ضلع کے اوٹنور ڈپو میں مہیب آگ
100 کروڑ روپئے سے زائد کی شراب آگ کی نذر
چار فائرانجنوں نے 8 گھنٹوں تک آگ بجھائی
حیدرآباد/عادل آباد: 28۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
عادل آباد ضلع کے اوٹنور میں انڈین میڈ انڈین لکیور (آئی ایم آئی ایل) Indian Made Indian Liquor (IMIL) شراب ڈپو میں آگ لگ جانے کے باعث 100 کروڑ روپئے سے زائد مالیتی شراب ضائع اور آگ کی نذر ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق متحدہ ضلع عادل آباد کے اضلاع عادل آباد، نرمل اور آصف آباد کو شراب سربراہ کرنے کی غرض سے اوٹنور میں ایک شراب ڈپو قائم کیا گیا تھا اور اس ڈپو سے متحدہ ضلع عادل آباد میں موجود 114 شراب کی دکانات اور بار و ریسٹورنٹس کو شراب سربراہ کی جاتی ہے۔

چہارشنبہ کی صبح اوٹنور کے اس وسیع و عریض شراب ڈپو میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی جس کی اطلاع وہاں خدمات انجام دینے والے مزدوروں نے عہدیداروں کو دی تاہم فوری طور پر فائر بریگیڈ کو اطلاع نہ دئیے جانے کے باعث یہ آگ مزید پھیلتی چلی گئی!!
” اوٹنور شراب ڈپو کی دیواروں کو آگ بجھانے کی غرض سے جے سی بی مشینوں کے ذریعہ توڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ” (ویڈیو)
اوٹنور کے اس شراب ڈپو میں لگنے والی آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس آگ کو بجھانے کی غرض سے عادل آباد، ایچوڑہ، جنارم سے چار فائر انجن پہنچ گئے اور 8 گھنٹوں تک اس شراب ڈپو کی دیواروں کو جے سی بی مشینوں کی مدد سے توڑ کر اندر لگی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کی تاہم آگ کو فوری بجھانے میں ناکامی ہوئی اور 100 کروڑ روپئے سے زائد کی شراب اس آگ کی نذر ہوگئی۔
اس واقعہ کی اطلاع پر رکن اسمبلی خانہ پور ریکھا شیام نائک آگ سے متاثرہ اس شراب ڈپو پہنچ گئیں اور عہدیداروں سے مکمل تفصیلات حاصل کیں بعدازاں انہوں نے وزیرآبکاری سرینواس گوڑ کو اوٹنور کے شراب ڈپو میں لگی آگ اور اس سے ہوئے بھاری نقصان سے واقف کروایا۔

دوسری جانب اوٹنور شراب ڈپو کے مینجئر پربھو داس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صبح برقی شارٹ سرکٹ کے باعث جونہی شراب ڈپو میں آگ لگنے کی اطلاع ملی تو فوری محکمہ فائر سرویس کو اطلاع دی گئی تھی لیکن اس پر محکمہ فائر سرویس کی جانب سے فوری مدد فراہم نہیں کی گئی!جس کے باعث اتنا شدید نقصان ہوا ہے۔
” اوٹنور شراب ڈپو میں لگی مہیب آگ بجھائے جانے کا منظر ” (ویڈیو)
اس سلسلہ میں اوٹنور پولیس ایک کیس درج رجسٹر کرکے مصروف تحقیقات ہے۔آگ لگنے کی وجوہات، شراب ڈپو کے عہدیداروں کی چوکسی اور محکمہ فائر سرویس کے خلاف عائد الزام کی تحقیقات کے بعد پولیس کی جانب سے اس کی تفصیلی رپورٹ حکومت تلنگانہ کو دی جائے گی۔

