شعبہ اردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد میں،ممتاز شاعر و ادیب رفیق جعفر سے ایک ملاقات

ممتاز شاعر و ادیب رفیق جعفر سے ایک ملاقات
شعبہ اردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد میں تقریب کا انعقاد
ڈاکٹر عابدمعز، پروفیسرشمس الہدیٰ دریابادی اور ڈاکٹر عمر بن حسن کی شرکت

رپورتاژ : اسماء امروز 

شعبہ اردو، یونیورسٹی آف حیدرآباد میں بتاریخ 21 نومبر کو ایک تقریب بعنوان”شاعر سے ایک ملاقات”منعقد ہوئی۔جس میں اردو کے ممتاز شاعر و ادیب جناب رفیق جعفر (پونے) نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

صدر شعبہ اردو پروفیسر سیدفضل اللہ مکرم نے رفیق جعفر کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ رفیق جعفر حیدر آباد کے ہی ہیں لیکن یہ پونہ میں رہتے ہیں۔اس سے پہلے 30 برس تک ممبئی میں تھے۔وہاں انہوں نےصحافت کا پیشہ اختیار کیا،پھر فلم کو ذریعہ معاش بنایا۔اوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے رفیق جعفر نے اردو زبان میں میڑک تک تعلیم حاصل کی،زبان سے محبت اور ادب سے لگاو بچپن ہی سے رہا۔حیدر آباد میں انہوں نے اردو اخبارات کےلیے رپورٹنگ بھی کی۔ہفتہ وار "ونگس”کے نام سے اخبار نکالا۔شاعری بھی کرتےرہے لیکن 1972ء میں یہ تلاش معاش کے سلسلہ میں ممبئی چلے گئے۔جدوجہد یہاں بھی تھی اور وہاں بھی روداد زندگی طویل ہے۔میں تو انہیں صرف چند برس سے جانتا ہوں مگر یہاں صحافتی اور ادبی حلقے کی تقریبا تمام مشہور ہستیوں سے ان کے تعلقات رہے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم ان کی جدو جہد کی روداد ان ہی کی زبان میں سنیں،ہمارے ساتھ تین اورمہمانان خصوصی پروفیسرشمس الہدی دریابادی،صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،نامور طبیب و مزاح نگار ڈاکٹر عابدمعز اور نامور سرجن ڈاکٹر عمر بن حسن(سابق اسسٹنٹ پروفیسر دکن کالج آف میڈیکل سائنس حیدرآباد) کا بھی استقبال کرتے ہیں۔

پروفیسرشمس الہدی دریابادی نےپہلے صدرشعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدر آباد کاشکریہ ادا کیا اور مبارکبادی کہ انھوں نے رفیق جعفر جیسی شخصیت کو اعزاز بخشا پھر انہوں نے تعلیمی مسائل پر موثر خطاب کیا۔

ان کے بعد ڈاکٹر عابد معز نے رفیق جعفر کی ادبی صلاحیتوں پرتفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئےکہا کہ ان کی تین کتابیں یادگار اس لیے بھی ہیں کہ انہوں نے ممبئی اور پونہ میں رہ کر حیدر آباد کے ادیبوں پر کام کیا۔ایک کتاب”اردو ادب کے تین بھائی”(محبوب حسین جگر،ابراہیم جلیس،مجتبی حسین)”،دوسری کتاب” طنز و مزاح کے تین ستون” اور تیسری کتاب”عابد معز کی ادبی شناخت۔”،یہ نہ صرف نقاد ومحقق ہیں بلکہ شاعربھی بہت اچھے ہیں۔آج برسوں بعد ان کو سننے کا موقع مل رہا ہے۔اس کے بعد رفیق جعفر کی شال پوشی کی گئی۔اور پروفیسرسیدفضل اللہ مکرم نے رفیق جعفر سے گزارش کی کہ وہ اپنی زندگی کی جدوجہد کے بارے میں کچھ بتائیں۔

رفیق جعفر نے اپنے مخصوص پر اثر انداز میں محسن بھوپالی کے شعر سے گفتگو کا آغاز کیا؎
نہ جہد مسلسل نئی ہے نہ جبر وقت نیا
تمام عمر گزاری ہے امتحان کی طرح
انہوں نے سب سے پہلے شعبہء اردو،یونیورسٹی آف حیدرآباد کا شکریہ ادا کرتے ہوئےعاجزانہ انداز میں کہاکہ شعبہ کےذمہ داران نےاس کم علم شخص کو ایک ایسی جگہ بلایا جو حیدر آباد ہی نہیں بلکہ ملک کی ایک بڑی دانش گاہ ہے۔جہاں یہ شخص آنے کے لیے برسوں ترستا رہا ہے۔اس وقت بھی میری ہمت نہیں ہورہی تھی یہاں آنے کی،جب میں حیدر آباد میں صحافتی اور ادبی حلقوں میں فعال تھا۔خیر یہ موقع پانچ دہائیوں بعد ہی سہی اللہ نے دیا۔شکر ہے رب کا کہ تقریبا نصف صدی سے صرف اردو کی روٹی کھا رہا ہوں اور بال بچوں کو کھلا رہا ہوں۔

یہ احسان ہے اس شہر حیدرآباد کا کہ مجھ کم تر کو خوب تر بنایا۔حیدر آباد کا ادبی ماحول میرا استاد ہے۔برسوں پہلے کی وہ تربیت ممبئی کی جدوجہد میں بھی کام آئی اور وہاں کے حیدر آبادیوں نے میرا ساتھ بھی دیا۔یہ اردو ہی ہے جو ذریعہ عزت بنی اور ذریعہ شہرت بھی۔دولت جو قسمت میں تھی اس کو ملنا ہی تھا ملی۔یہ اردو ہی تھی جس کی وجہہ سے میں ریڈیو سیلون کے مشہور اناونسر” امین سیانی” کے گروپ آف رائیٹرز میں شامل ہوا۔اور اردو زبان اور شعر و ادب نے ہی مجھے فلم انڈسٹری میں پہنچایا۔

اسسٹنٹ ڈائرکٹر بنایا، اسسٹنٹ رائٹر بنایا، ڈائیلاگ رائٹربنایا۔ہاں یہ ہواکہ مسلسل کام نہیں ہوتا تھا میں بار بار بیروزگار ہوجاتا،لیکن ہر حال میں زندگی کی دھوپ میں اردو ادب ہی میرا سائبان بنا۔خیر 50 برس کی جدوجہد پندرہ منٹ میں سنائی نہیں جاسکتی۔خدا کا فضل ہے کہ مجھے میرے حصہ کی شہرت ملی ہے،سمیناروں میں بلایا جاتا ہوں۔ادبی نشستوں میں کبھی صدارت کے لیے توکبھی بطور شاعر شرکت کرتا ہوں۔

آل انڈیامشاعرے چار پانچ بڑے ملکوں میں بھی پڑھا ہوں۔شاعری کا ایک مجموعہ اور ایک تحقیق اور ایک تنقید کا مجموعہ شائع ہوا ہے۔ای۔ ٹی وی اردو کامشہورسیرئیل”ہماری زینت”کے مکالمے(ڈائیلاگس)لکھے ہیں، جسے غالباً2001ء میں دی بیسٹ سیرئیل کا ایوارڈممبئی کےمشہور ادارے ” راپا ” کی طرف سے ملا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں جو قلم کو ذریعہ معاش بنایا،کامیاب نہیں تو ناکام بھی نہیں ہوں۔اور طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے رفیق جعفر نے کہا کہ ہر حال میں جیناسیکھیں،تعلیم حاصل کرکے مہذب زندگی گزاریں،نا انصافیوں کو ناکامی نہ سمجھیں،سوال کرتے رہیں۔اپنے اساتذہ سے علم حاصل کرنے جتن کرتے رہیں۔بقول امجد حیدر آبادی ؎ کام کرنا ہی کامیابی ہے۔

صدر شعبہ اردو پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے رفیق جعفر سے کلام سنانے کی فرمائش کی تو انہوں نے اپنی نظمیں اور غزلیں سنائی۔سامعین میں طلباو طالبات،ریسرچ اسکالرز کی کثیر تعداد کےعلاوہ شعبہ کے اساتذہ میں پروفیسر حبیب نثار،ڈاکٹر عرشیہ جبین،ڈاکٹر اے آرمنظر، ڈاکٹر محمد کاشف، ڈاکٹر نشاط احمد اور ڈاکٹر رفعیہ بیگم موجود تھیں۔

جو رفیق جعفرکے اشعار سے محظوظ بھی ہوئے اور داد سے بھی نوازا۔ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
پھر زندگی کی فلم ادھوری ہی رہ گئی
وہ سین کٹ گئے جو کہانی کی جان تھے
**

جب بھی ہوتے ہیں شہر میں دنگے
زندگی زندگی سے ڈرتی ہے
**
گھر بیٹھ کے ہم کو تو مقدر نہیں ملتا
ہیرا تو بڑی چیز ہے پتھر نہیں ملتا
**
دوست بازو ہیں مرے اور میرے پیچھے بھی
پیٹھ پر ہو نہ کہیں وار خدا خیر کرے
**
اپنی دھرتی سونا چاندی ہیرے موتی والی ہے
ایسی دھرتی چھوڑ کے یارو دور وطن سے جائے کون
٭٭٭

ممتاز شاعر و ادیب رفیق جعفر کے تفصیلی تعارف پرمشمل نامور صحافی و ادیب جناب ایف ایم سلیم کی فروری 2016 میں قلمبند کی گئی تحریر اس لنک کو کلک کرکے پڑھی جاسکتی ہے۔

https://yourstory.com/urdu/b2265167b8-sales-at-the-main-was-jafar-pen-traveling-companion-saaruadyb