سیلزمین نے کی بے عزتی، کسان نصف گھنٹہ میں دس لاکھ روپیوں کے ساتھ شوروم پہنچ گیا،کرناٹک کے ٹمکور میں واقعہ

سیلزمین نے کی بے عزتی،کسان نصف گھنٹہ میں دس لاکھ روپیوں کے ساتھ شوروم پہنچ گیا
"ایس یو وی”گاڑی حوالے کرنے کا مطالبہ،سیلزایگزیکٹیو نے کسان سے معافی مانگ لی
کرناٹک کے ٹمکور میں فلمی طرز کا واقعہ،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

بنگلورو: 26۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کہتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی اس کے حلیہ یا لباس سے پہچان نہیں کرنا چاہئے۔اور نہ ہی کسی کو اپنی صلاحیتوں کے زعم کے ساتھ نظروں سے ہی تولا جائے۔

کیونکہ بعض شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جو ظاہری طور پر کچھ بھی نظر نہیں آتیں لیکن مختلف شعبوں میں ان کا اپنا ایک وزن ہوتا ہے اور وہ بھی طاقت،دولت اور صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔لیکن زیادہ تر ایسے لوگ خود کو ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے اورایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنا ان کی پسند ہوتی ہے۔

شاعراعجاز رحمانی نے کبھی کہا تھا کہ
تالاب تو برسات میں ہوجاتے ہیں کم ظرف
باہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا "

کرناٹک کے ٹمکور میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔جو کہ ایک کار شوروم کے سیلزمین اور ایک کسان کے درمیان ہونے والی بحث پرمشتمل ہے۔ٹوئٹر پر اس ویڈیو کو بہت زیادہ تعداد میں شیئر کرتے ہوئے گاڑیاں تیار کرنے والی مشہور مہندرا کمپنی کے صدرنشین آنند مہندرا کو بھی اس ویڈیو سے ٹیاگ کیا گیا ہے۔ 

دراصل ایک کسان کیمپے گوڑا ” بولیرو پِک ویان” خریدنے کی غرض سے اس شوروم کو گیا تھا جہاں کے ایک سیلزمین نے اس کسان کی تذلیل کرتے ہوئے کہا کہ جیب میں دس روپئے نہیں ہوں گے آیا ہے گاڑی خریدنے فوری باہر نکل!

اپنے بے عزتی پر برہم کسان شوروم سے تو چلا گیا لیکن نصف گھنٹہ کے اندر دس لاکھ روپئے کی نقد رقم لے کر دوبارہ اسی کار شوروم میں پہنچا اور اسی سیلزمین سے کہا کہ یہ لے رقم اور مجھے ابھی اسی وقت "ایس یو وی SUV” گاڑی حوالے کر۔

رقم اور مطالبہ دیکھ کر سیلزمین کے ہوش اڑگئے اور اس نے اس کسان سے معذرت چاہتے ہوئے کہا کہ شوروم میں SUV گاڑی فروخت کے لیے اس وقت دستیاب نہیں ہے!! یہ واقعہ کرناٹک کے ٹمکور میں موجود مہندرا کمپنی کے شوروم میں پیش آیا ہے۔

” اس واقعہ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے ” (ویڈیو بشکریہ: این ڈی ٹی وی "ٹوئٹر” )

 کسان کیمپے گوڑا اور اس کے دوستوں کا الزام ہے کہ اس نے کیمپے گوڑا کو اس کی ظاہری شکل کی وجہ سے ذلیل کیا ہے۔اس بحث و تکرار نے دؤران کسان کیمپے گوڑا نے سیلزمین کوچیلنج کیا کہ وہ ایک گھنٹہ کے اندر رقم لے کر آرہا ہے اور وہ اسی دن ایک SUV گاڑی کی ڈیلیوری کا بندوبست کرے۔

فلمی انداز میں کسان کیمپے گوڑا اندرون نصف گھنٹہ دس لاکھ روپئے نقد رقم لے کر دوبارہ شوروم پہنچ گیا جسے دیکھ کرسیلزمین دنگ رہ گیا۔سیلزمین فوری طور پر SUV گاڑی کی ڈیلیوری کا انتظام نہیں کرسکا۔کیونکہ اس گاڑی کی بکنگ طویل ہوتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ گاڑی حوالے کرنے میں چار دن کا وقت لگتا ہے۔

اس مسئلہ پر ناراض اور برہم کیمپے گوڑا اور اس کے دوستوں نے سیلزمین سے معافی کا مطالبہ کیا اس موقع پر بحث و تکرار جاری تھی اطلاع پر پولیس نے شوروم پہنچ کر مداخلت کی اور اس معاملہ کوختم کروایا۔

شوروم کے سیلز ایگزیکٹیو نے سیلزمین کی اس غلط حرکت پر کسان کیمپے گوڑا سے معافی مانگ لی۔جاتے جاتے کسان نے ان سے کہا کہ وہ اس شوروم سے گاڑی نہیں خریدیں گے اور اپنے ساتھ لائے ہوئے دس لاکھ روپئے لے کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔

اس واقعہ کے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سی ای او مہندرا اینڈ مہندرا وجے نکرا Veejay Nakra@ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”ڈیلرز،کسٹمرز تک گاڑیاں پہنچانے کا ایک بہتر اور لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ہم اپنے تمام صارفین کی عزت اور وقار کو یقینی بناتے ہیں۔ہم اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں مناسب کارروائی کریں گے۔فرنٹ لائن عملے کو کونسلنگ دیں گے اور ان کو مزید بہتر تربیت فراہم کریں گے۔”

سی ای او وجے نکرا کے اس ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے مہندرا اینڈ مہندرا کمپنی کے صدرنشین آنند مہندرا نے اپنے جوابی ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” MahindraRise@ کا بنیادی مقصد ہماری کمیونٹیز اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ابھرنے کے قابل بنانا ہے۔اور ایک اہم بنیادی قدر فرد کے وقار کو برقرار رکھنا ہے۔اس فلسفہ سے کسی بھی قسم کی خرابی کو بڑی عجلت کے ساتھ حل کیا جائے گا۔”