تلنگانہ میں تعلیمی ادارے کل سے نہ کھولنے ہائی کورٹ کی ہدایت؟ سوشل میڈیا پر میسیج وائرل، طلبہ اور سرپرست پریشان

تلنگانہ میں تعلیمی ادارے کل سے نہ کھولنے ہائی کورٹ کی ہدایت؟
سوشل میڈیا پرفیک میسیج وائرل،طلبہ اور سرپرست پریشان

حیدرآباد: 31۔جنوری(سحر نیوزڈاٹ کام)

اب جبکہ حکومت تلنگانہ نے ریاست میں کل یکم فروری سے تمام سرکاری اور خانگی اسکولوں اور کالجس کو دوبارہ کھول دینے کا اعلان کرتے ہوئے سرکاری احکام بھی جاری کردئیے ہیں اور کل سے ریاست میں تعلیمی نظام کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

ایسے میں آج شام سے سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پر ایک ایسا میسیج وائرل کردیا گیا ہے جسے پڑھ کر طلبہ اور ان کے سرپرست مخمصے کا شکار اور پریشان ہورہے ہیں۔

انگریزی میں وائرل شدہ اس میسیج میں لکھا گیا ہے کہ” بریکنگ: ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں کل سے اسکول شروع کرنے کے حکم پر روک لگا دی ہے۔عدالت نے کورونا کے پیش نظر براہ راست تعلیم کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی،اسکول کھولنے پر ایک ہفتہ کے لیے روک لگا دی اور حکم دیا ہے کہ طلباء کو براہ راست تدریس کے لیے آنے پر مجبور نہ کریں،گروکلوں اور تعلیمی اداروں اور ہاسٹل نہ کھولیں۔کلاسز میں شرکت نہ کرنے والے طلباء کے خلاف کارروائی نہ کریں”۔

” واٹس ایپ پر وائرل کیا گیا میسیج یہاں پڑھا جاسکتا ہے "

جبکہ اس سلسلہ میں اس خبر کے لکھے جانے تک یعنی آج 31 جنوری کی رات 30-9 بجے تک سرکاری طور پرحکومت کی جانب سے یا پھر ریاستی ہائی کورٹ کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے۔

دراصل آج وائرل شدہ جھوٹ پر مبنی یہ میسیج گزشتہ سال اگست کا ہے جسے اب دوبارہ وائرل کرتے ہوئے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔

28 اگست 2021 کو ماہرین کی جانب سے کوویڈ وباء کی تیسری لہر کے انتباہ اور اندیشوں کے دؤران یکم ستمبر سے اسکولوں اور کالجس کے آغاز کے خلاف ایک خانگی ٹیچر بالا کرشنا نے مفاد عامہ کے تحت ایک درخواست ریاستی ہائی کورٹ میں داخل کی تھی اور اسکولس کے آغاز کو روکنے کے لیے حکومت کو ہدایت دینے کی اپیل کی تھی۔

اس درخواست پر 31 اگست 2021 ریاستی ہائی کورٹ میں سماعت کے دؤران کارگزار چیف جسٹس ایم۔ایس رام چندرا راؤ کی قیادت میں جسٹس ٹی۔ونودکمار پر مشتمل بینچ نے ایک ہفتہ کے لیے حکومت کے جی او پر روک لگاتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ اسکولس کی کشادگی کے بعد طلبہ کی حاضری کو لازمی قرار نہ دیا جائے۔

ساتھ ہی ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت جاری کی تھی کہ جو خانگی اسکولس خصوصی کلاسیس کا نظم نہ کریں ان کے خلاف اور جو طلبہ اسکولس نہ آئیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے اور نہ ہی طلبہ پر اسکولس آنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔اسی طرح معزز ہائی کورٹ نے یہ ہدایت بھی جاری کی تھی کہ ریاست میں موجود ہاسٹلس اور گروکل اسکولس بند ہی رکھے جائیں۔