وقار آبادضلع : یالال منڈل میں نوجوان پرحملہ کا معاملہ، سابق صدرضلع لائبرریز و بی جے پی لیڈر مرلی کرشنا گوڑ گرفتار: ڈی ایس پی کا بیان

وقار آباد ضلع : یالال منڈل میں نوجوان پرحملہ کا معاملہ
سابق صدر ضلع لائبرریز و بی جے پی لیڈر مرلی کرشنا گوڑ گرفتار
دیگر پانچ نوجوانوں کو بھی پرگی جیل بھیج دیا گیا: ڈی ایس پی تانڈور کا بیان

وقارآباد: 03۔فروری (سحر نیوز ڈاٹ کام)

تین دن قبل ریاست تلنگانہ کےضلع وقار آباد کےحلقہ اسمبلی تانڈور میں موجود یالال منڈل کے دیونورموضع کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر وائرل ہوا تھا۔جس میں دیکھا گیا تھا کہ شیوا سوامیوں کا ایک گروپ ایک نوجوان کے ساتھ مار پیٹ کر رہا ہے۔اور وہاں موجود پولیس عہدیدار اس نوجوان کو ہجوم سےبچانے کی کوشش کررہے ہیں۔اس سلسلہ میں کلا ووکشا پوراٹاسمیتی (کے وی پی ایس)کےعہدیداروں نے الزام عائد کیا تھا کہ دلت نوجوان کو مجسمہ امبیڈکر کی تنصیب کے معاملہ میں اس طرح حملہ کرتے ہوئے پیٹا گیا ہے۔!!

اس معاملہ نےساری ریاست اور ضلع وقار آباد میں سنسنی پھیلادی تھی۔کل ہی ایس پی ضلع وقار آبادمسٹر این۔کوٹی ریڈی نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے سخت انتباہ دیاتھا کہ ضلع میں مذہب اور ذات پات کے نام پر فرقوں اور مختلف طبقات کے درمیان نفرت پھیلاتےہوئے امن و امان کونقص پہنچانےوالوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے افراد کوبخشا نہیں جائے گا۔ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس معاملہ میں آج پولیس نے سابق صدر ضلع لائبرریز و بی جے پی لیڈر مرلی کرشنا گوڑ کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا۔جہاں سے انہیں پرگی جیل روانہ کردیا گیا۔ان کے ساتھ اس معاملہ میں مزید پانچ نوجوانوں کو بھی پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں دے دیا جبکہ شیوا سوامیوں کے حملہ کا شکار نوجوان بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں آج رات دیر گئے ڈی ایس پی تانڈورمسٹر جی۔شیکھر گوڑ نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یالال منڈل کے موضع دیونور میں 30 جنوری کی رات ایس سی اور بی سی طبقہ کے نوجوانوں کے گروپ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔اس واقعہ کی شکایت بوڈکے نریندر نے 31 جنوری کو یالال پولیس اسٹیشن میں درج کروائی تھی،جس پر ایک کیس درج رجسٹر کرتےہوئے پولیس مصروف تحقیقات تھی۔

شکایت درج کروانے کےاندرون 12 گھنٹے موضع دیونور کے چند افراد نے موضع کے چند معصوم افراد،شیوا مالا پہنے ہوئے سوامیوں،نوجوانوں کو ورغلاتے ہوئےلکشمی نارائن پور چوراہا پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا۔ڈی ایس پی تانڈور مسٹر شیکھر گوڑ کےمطابق مرلی کرشنا گوڑ اس احتجاج کے دوران جائے احتجاج پر پہنچے اورموضع دیونور کے احتجاجی نوجوانوں کو اس معاملہ میں اکسایا۔اور انہی کی شہہ پر یالال پولیس اسٹیشن پہنچنے والے میٹلا نریش نامی نوجوان پر حملہ کیا گیا۔

میٹلا نریش اپنی جان بچانے کی غرض سے جب بھاگتا ہوا یالال پولیس اسٹیشن پہنچا تو اس کا تعاقب کرتے ہوئے یالال پولیس اسٹیشن کے ریکارڈ روم کا دروازہ توڑ کر پولیس کی موجودگی میں ہی میٹلا نریش کے قتل کی کوشش میں ملوث نوجوانوں کے خلاف بھی کیس درج رجسٹر کیاگیا۔

ڈی ایس پی تانڈور مسٹر جی۔شیکھر گوڑ نے بتایا کہ اس کیس کے سلسلہ میں آج 3 فروری کو موضع دیونورکے بوڈکے نریندر،نریندر گوڑ،اروند گوڑ، شیوا کمار اور گنیش کو مرلی کرشنا گوڑ کے مکان کے قریب سے تحویل میں لیا گیا۔ڈی ایس پی کے مطابق جب ان نوجوانوں سے تفتیش کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ اس سارے واقعہ کے پس پشت مرلی کرشنا گوڑ ہیں۔

جس کےبعد مرلی کرشنا گوڑ کو گرفتار کرتے ہوئے معزز منصف مجسٹریٹ تانڈور کے روبرو پیش کیا گیا ان کے ساتھ مذکورہ بالا پانچ نوجوانوں کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔جنہیں معزز منصف مجسٹریٹ کی جانب سے عدالتی تحویل میں روانہ کیے جانے کے حکم کے بعد ان تمام گرفتار شدگان کو پرگی جیل روانہ کر دیا گیا۔

ڈی ایس پی تانڈورمسٹر جی۔شیکھرگوڑ نے اپنے صحافتی بیان میں کہاہے کہ پولیس کو موصولہ اطلاعات کے مطابق اس معاملہ میں چند افراد اپنے ذاتی مفاد کے لیے مذہب اور ذات پات کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر پُرامن ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ڈی ایس پی نے موضع کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے لوگوں سے چوکس رہیں اور ان کے بہکاوے میں آکر مذاہب اور ذات پات کے جھگڑوں میں الجھ کر قانونی کشاکش کا شکار نہ ہوں۔

ڈی ایس پی نے کہا کہ ایک شخص کی جانب سے اپنے مفاد کے لیے پھیلائی جانے والی اس طرح کی منافرت سے عوام چوکس رہیں۔اور ایسے افراد بھی اپنی ان حرکتوں سے باز آئیں جوعوام کو مذاہب اور ذات پات کے نام پر لڑوا کر پر امن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

ساتھ ہی ڈی ایس پی تانڈور جی۔شیکھرگوڑ نے انتباہ دیاکہ امن و امان کو مکدر کرنے والوں کےخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے سلسلہ میں کسی کو کوئی شک و شبہ ہو تو وہ پولیس سے رجوع ہوکر تمام تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں۔ڈی ایس پی نے انتباہ دیا کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور ماحول خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

ضلع ایس پئ کا بیان اور واقعہ سے متعلق ویڈیو اور تفصیلات اس لنک پر "

مذہبی اور ذات پات پر مبنی نفرت پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا : ایس پی ضلع وقار آباد کا انتباہ