” رزق ظالم کی تجوری میں چھپا بیٹھا ہے!! "
ہاتھی نے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گودام کا شٹر توڑ کر!
اناج کا تھیلا نکال لیا اور وہیں کھڑے ہوکر اپنی بھوک مٹائی!!
تھرو اننت پورم : 03۔مارچ
(سحر نیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
گرماء کی شدت اپنے عروج پر ہے۔اپنے اطراف موجود جانوروں کو بھوک اور پیاس کی شدت سے بچانے کے لیے انہیں غذاء اور پانی فراہم کرنا انسانی میراث ہے۔اپنے مکانات کے باہر خالی حصوں اور بالکونی میں مٹی کے برتن میں پانی کے علاوہ علحدہ چند اناج کے دانے بھی رکھ دیا کریں۔اور گلی میں گھومنے والے آوارہ جانوروں کے لیے بھی اپنے مکانات کے باہر مٹی کے بڑے برتن رکھ دیں اور ان میں غذاء اور پانی ڈال دیا کریں۔
اس ہولناک گرمی میں سڑکوں پر گھومنے والے لوگوں، مسافروں اور محنت کش افراد کے لیے بھی جب بھی اپنے گھر سے نکلیں دو ، تین پانی کی بوتلیں ضرور ساتھ رکھیں اور ایسے لوگوں کو دے دیا کریں۔اس کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس سے مفت پانی کی خالی بوتلیں با آسانی مل جاتی ہیں۔
رات گھر آتے وقت انہیں اپنے ساتھ لالیا کریں اور صبح گھر سےنکلتے وقت ان میں پانی بھر کر اپنے ساتھ لے جائیں اور ایسے لوگوں کو کی مدد کر دیا کریں۔ بلاء لحاظ مذہب ایسی کام حقوق العباد کے دائرہ میں آتا ہے۔یہ بھی ایک قسم کا صدقہ ہی ہوگا۔
گزشتہ مانسون میں ملک میں کم بارش کے باعث جہاں گرمی کی شدت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، وہیں جنگلات میں جانوروں کو غذاء اور پانی کی قلت سے پریشان بتایا جا رہا ہے۔ایسے میں ریاست کیرالہ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک جنگلی ہاتھی عوام کی موجودگی کے درمیان ہی فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے مقفل گودام پہنچتا ہے اور اس گودام کا شٹر اپنی سونڈ سے توڑ کر اس میں سے اناج کی ایک تھیلی سونڈ سے اٹھاکر نکال لیتاہے اور پھر وہیں سڑک پر اس اناج کی تھیلی کو اپنے پیر سے مارکر اس کی پیاکنگ توڑ کر اناج کھانا شروع کر دیتا ہے۔
مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس ” X ” (سابقہ ٹوئٹر ) پر نریش نمبی سن Naresh Nambisan@ نے اس واقعہ کا ویڈیو ٹوئٹ کیاہے۔جس کے ساتھ انہوں نے لکھاہےکہ” ہاتھی جانتاہےکہ اگر جنگل میں کھانا نہیں ہے تو اسے کھانا لینےکےلیے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گودام جانا پڑے گا۔
2 اپریل کو ٹوئٹ کیے گئے اس ایک منٹ 17 سیکنڈ کے اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہےکہ ایک قوی ہیکل ہاتھی اچانک آبادی میں پہنچ جاتا ہے ایک ہجوم چیخ و پکار کرنے لگتاہے لیکن ان سب سے بے پرواہ یہ ہاتھی فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گودام کی جانب بڑھتا چلا جاتا ہے جہاں سرکاری اناج کا ذخیرہ کیا جاتا ہے۔وہ بناء کسی رکاوٹ اس گودام کےمقفل شٹر کے سامنے بنے ہوئے چبوترہ پر اپنے دونوں پیر رکھ کر شٹر کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایک ہی جھٹکہ میں اپنی سونڈ سے مار کر اس شٹر کو کاغذ کے ٹکڑے کی طرح توڑ دیتا ہے۔
پھر اسی حالت میں وہیں کھڑے ہوکر اپنی سونڈ گودام کے اندر ڈال کر ایک تھیلی اٹھا لیتا ہے پھر وہاں سے واپس سڑک پر آ کر اس تھیلی کو سڑک پر ڈال کر اس پر اپنا ایک پیر رکھ کر دوسرے پیر سے اس تھیلی کابند منہ توڑ دیتا ہے اس کے بعد اس میں موجود اناج(ایک اطلاع میں چاول بتایا جا رہاہے) نکال کر اپنی سونڈ سے کھانا شروع کر دیتا ہے، وہاں موجود ہجوم کی چیخ و پکار کے دوران اس تھیلی کو اپنی سونڈ میں اٹھا کر سکون کے ساتھ نکل جاتا ہے۔سب اس بات پر حیران ہیں کہ اس جنگلی ہاتھی کو کیسے معلوم تھا کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے گودام میں اناج محفوظ رکھا جاتا ہے۔!! یہ ویڈیو کرناٹک اور کیرالہ کے سرحدی مقام کا بتایا گیا ہے۔!؟
اس ویڈیو لنک کے کے ساتھ بشمول انگریزی مختلف زبانوں کی ویب سائٹس پر نیوز اسٹوریز لکھی گئی ہیں تاہم سحر نیوز ڈاٹ کام کی جانب سے اس کی ویڈیو کی مکمل طور پر تصدیق نہیں جاتی کیونکہ اس کے ساتھ یہ نہیں لکھا گیا ہے کہ یہ واقعہ کس مقام پر اور کب پیش آیا ہے؟؟
میڈیا اطلاعات کےمطابق کیرالہ-کرناٹک کی سرحد پر موجود گنڈلوپیٹ جنگل میں رہنے والا یہ جنگلی ہاتھی ہے۔جس نے بستی میں داخل ہوکر اناج کے گودام پراس طرح چھاپہ مارکر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ایکس پر اس ویڈیو اب تک 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد سوشل میڈیا صارفین نے دیکھا ہے۔
کسی شاعر نے کہا ہے کہ؎
بھوک پھرتی ہے میرے ملک میں ننگے پاؤں
رزق ظالم کی تجوری میں چھپا بیٹھا ہے
٭٭٭٭*٭٭٭٭
" یہ بھی پڑھیں "
تلنگانہ میں مزید دو دن تک شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت 44 سنٹی گریڈ تک پہنچنے کا ا نتباہ
تانڈور میں مثالی ضابطہ اخلاق کا نفاذ, گاڑیوں کی تلاشی کے مہم کے دوران 9 لاکھ 36 ہزار روپئے ضبط

