وزیرتعلیم تلنگانہ سبیتا ریڈی نے افزائش کے لیے وقارآباد ضلع کے کوٹ پلی پراجکٹ میں ایک لاکھ مچھلی کے بچے چھوڑے

وزیرتعلیم سبیتا ریڈی نے وقارآباد ضلع کے کوٹ پلی پراجکٹ میں ایک لاکھ مچھلی کے بچے چھوڑے

وقارآباد، چیوڑلہ اور تانڈور کے ارکان اسمبلی،ضلع کلکٹر کی شرکت،مچھیروں سے خطاب  

وقارآباد:08۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

حکومت تلنگانہ چیف منسٹرکے۔چندراشیکھرراؤ کی قیادت میں ریاست کے تمام طبقات بشمول مچھیروں اور مدیراج طبقہ کے بھی معاشی حالات کو بہتر اور انہیں خود کفیل بنانے میں مصروف ہے۔

چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے 2016ء میں مفت مچھلی کے بچے فراہم کرنے کی اس اسکیم کا آغاز کیا تھا جن کی افزائش کے بعد مچھیرے اور مدیراج طبقہ کے افراد ان مچھلیوں کو فروخت کرکے مالی فوائد حاصل کررہے ہیں۔

اور یہ بات سارے ملک کیلئے باعث فخر ہیکہ حکومت تلنگانہ گزشتہ پانچ سال سے مچھلیوں کے بچے خرید کر ریاست کے پراجکٹس اور تالابوں میں مفت چھوڑتے ہوئے مچھیروں کو صد فیصد فائدہ پہنچارہی ہے جس سے انکی طرز زندگی میں تبدیلی آرہی ہے۔ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے کیا۔

وزیرتعلیم نے آج ضلع وقارآباد کے سب سے بڑے آبپاشی کے کوٹ پلی پراجکٹ میں صدرنشین ضلع پریشد وقارآباد پی۔سنیتامہندرریڈی، ارکان اسمبلی چیوڑلہ،وقارآباد اور تانڈور کالے یادیا،ڈاکٹر میتکو آنند اور پائلٹ روہت ریڈی کے علاوہ ضلع کلکٹر وقارآباد کے۔نکھیلاکے ساتھ پانچویں مرحلہ کے تحت ایک لاکھ مچھلی کے بچے افزائش کی غرض سے چھوڑے اور کہا کہ اس پراجکٹ میں مزید 9 لاکھ مچھلی کے بچے مرحلہ وارسطح پر چھوڑے جائیں گے۔

" کوٹ پلی پراجکٹ پر وزیر تعلیم، صدرنشین ضلع پریشد، ارکان اسمبلی اور ضلع کلکٹر۔ ( ویڈیو 19 سیکنڈ ) ”

اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ جاریہ سال ریاست کے 30 ہزار تالابوں اور پراجکٹس میں 95 کروڑ مچھلی کے بچے چھوڑے جارہے ہیں اور اس کے لیے حکومت 89 کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے۔

اس کے علاوہ 25 کروڑ کے صرفہ سے مرل مچھلی کے 10 کروڑ بچے خریدتے ہوئے ریاست کے 200 آبی ذخائر میں چھوڑے جائیں گے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ پہلے مچھلی کی خریدکے لیے آندھراپردیش پر انحصار کرنا پڑتا تھا لیکن اب تلنگانہ ریاست خود چیف منسٹر کے۔چندرا شیکھرراؤ کے اس پروگرام کے باعث مچھلی کی خرید وفروخت میں خودمکتفی ہوگئی ہے۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ پوری ریاست تلنگانہ میں 500 آؤٹ لیٹ قائم کرتے ہوئے تلنگانہ برانڈ کے طور پر مچھلی کی خرید و فروخت کی جارہی ہے۔انہوں نے ضلع کلکٹر وقارآباد کو ہدایت دی کہ وقارآباد اور تانڈور میں بھی مچھلی کی فروخت کے اسٹالس قائم کیے جائیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ تمام تالابوں اور آبی ذخائر کی جیئو ٹیاگنگ کردی گئی ہے جس کے ذریعہ مچھلی کے بچوں کی تعداد اور ان کی اقسام کا پتہ چل جاتا ہے۔

وزیرتعلیم نے کہا کہ پانچ سالوں کے دؤران 208 کروڑ روپئے صرف کیے گئے تھے جس سے 30 ہزار کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے جملہ 15 لاکھ میٹرک ٹن مچھلی کی پیداوار ہوئی ہے۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضلع وقارآباد میں 775 تالاب اور 105 مچھیروں کی تنظیموں کے 4,429 ارکان موجود ہیں۔انہوں نے مچھیروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تنظیموں کے ذریعہ مواضعات اور ٹاؤنس کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی اپنی مچھلیوں کی فروخت کو یقینی بناتے ہوئے مزید مالی فائدہ حاصل کریں اور اسکے لیے عہدیدار مچھیروں کی رہنمائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے صد فیصد سبسڈی پر مچھلی کے بچے فراہم کیے جارہے ہیں۔وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے کہاکہ جاریہ سال ضلع وقارآباد کے 775 تالابوں میں ایک کروڑ 14 لاکھ چھوٹی سائز کی اور 25 لاکھ بڑی سائز کے مچھلی کے بچے چھوڑے جائیں گے۔