بنگلور منشیات معاملہ میں سنسنی خیز انکشافات
تلنگانہ کے تین ارکان اسمبلی اور دیگر چند افراد شک کے دائرہ میں
حیدرآباد: 3۔اپریل
(سحر نیوزڈیسک/خصوصی رپورٹ)
کرناٹک میں سنسنی پیدا کردینے والے منشیات معاملہ کا دائرہ اب تلنگانہ تک پہنچ گیا ہے اس معاملہ میں بنگلورو پولیس ریاست تلنگانہ کے چند ارکان اسمبلی اور فلموں اور بیوپاریوں کے رول کی تحقیقات میں مصروف ہے!
اس سلسلہ میں تلنگانہ ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی کے رول اور مزید دو ارکان اسمبلی کے بھی اس معاملہ سے جڑے ہونے کا بنگلورو پولیس کو شبہ ہے۔
حیدرآباد میں منعقدہ ایک پارٹی جس میں خود کو تلنگانہ جہد کار کہنے والے ایک شخص کی جانب سے منشیات سربراہ کی گئی تھیں جس میں ان ارکان اسمبلی کی شرکت کی بھی پولیس کو اطلاعات ملی ہیں اور انہیں منشیات سربراہ کرنے والے شخص کی بھی پولیس نے شناخت کرلی ہے!
ساتھ ہی ایک کنڑا فلموں کے اداکار کی جانب سے بنگلورو میں دی جانے والی پارٹی میں ان کی شرکت کا بھی بنگلور پولیس نے پتہ چلایا ہے!!اسی سلسلہ میں پولیس نے تلگو فلموں کے ایک چھوٹے اداکار سے دو دنوں تک تفتیش کرتے ہوئے اہم معلومات حاصل کی ہیں امکان جتایا جارہا ہے کہ تمام تفصیلات حاصل ہونے کے بعدپولیس کی جانب سے تلنگانہ کے ان مشتبہ ارکان اسمبلی سے بھی تفتیش کی جانے والی ہے!
دراصل یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب 26 فروری کو مغربی بنگلورو پولیس نے نواگرہا سرویس روڈ میں چندفلم اداکاروں کو منشیات فراہم کرنے پہنچنے والے نائجیریا کے متوطن ہیری سن اور جان نانسو کو پکڑلیا تھا اور ان کے قبضہ سے چار کروڑ روپئے مالیتی 350 گرام ایم ڈی ایم اے کی کیپسول ، ، چار گرام کوکین اور 42 ایکسٹاسی کی گولیاں ضبط کرلی تھیں۔
پولیس کی تفتیش کے دؤران ان دونوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ساتھ اس منشیات کے کاروبار میں نائیجیریا کے ہی متوطن عثمان اور لوکونڈو بھی شامل ہیں اس کے بعد پولیس کی تلاشی مہم کے دؤران لوکونڈا کو پکڑلیا گیا جسکے پاس سے بنگلورو پولیس نے 526 ایل ایس ڈی اسٹرپس ، 200 گرام کوکین ، 2 کلو 700 گرام ایم ڈی ایم اے اور 1,930 ایکس ٹسی کی گولیاں ضبط کی گئیں۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں جان نانسو نے اپنے گاہک چند اہم لوگوں کے ناموں کا انکشاف کیا۔جس میں مستان چندرا نامی ایک شخص کا نام بھی شامل ہے۔
بنگلور و پولیس نے اس سلسلہ میں کنڑا فلم انڈسٹری سے وابستہ اور ٹی وی شو بگ باس 4 میں حصہ لینے والے مستان چندرا سے تفتیش کی تو اس نے بتایا کہ وہ اور کیشو نامی ایک اور شخص ریسارٹس ، پب ،ہوٹلوں اور اپارٹمنٹس میں منشیات کی پارٹیاں کرتے ہیں۔
پولیس کے بموجب مستان چندرا نے بنگلورو میں شنکر گوڑا نامی فلم پروڈیوسر اور رئیل اسٹیٹ کے کاروباری کی جانب سے دی گئیں پارٹیوں میں منشیات سربراہ کی ہیں جسکے بعد پولیس نے شنکر گوڑا کے مکان کی تلاشی لی بعد ازاں شنکر گوڑا کو پولیس نے گرفتار بھی کرلیا۔
پولیس کی تحقیقات کے دؤران انکشاف ہوا کہ رئیل اسٹیٹ کے کاروباری اور کنڑا فلموں کے پروڈیوسر شنکر گوڑا کی جانب سے بنگلورو میں دی گئی منشیات کی پارٹی میں تلنگانہ کے چند ارکان اسمبلی اور دیگر افراد نے بھی شرکت کی تھی ساتھ ہی یہ انکشاف بھی ہوا کہ اسی پہچان کے تحت حیدرآباد میں منائی گئیں پارٹیوں میں شنکر گوڑا کی جانب سے منشیات سربراہ کی گئی تھی۔ذرائع کے بموجب اس سلسلہ میں بنگلورو پولیس نے اس معاملہ سے متعلق ویڈیو فوٹیج بھی حاصل کیے ہیں ۔
دوسری جانب حیدرآباد کے ایک بیوپاری سندیپ ریڈی سے بنگلورو پولیس نے تفتیش کی تھی۔اس سلسلہ میں تلگوکے مشہور روزنامہ ” ایناڈو " نے آج 3 اپریل کے اپنے اخبار کے صفحہ اول پر ” ولاسالا ویرا بھدرم کی ایک چونکا دینے والی سنسنی خیز رپورٹ شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ
پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کی روئداد اخبار نے حاصل کرلی ہے جس کے تحت انکشاف ہواہے کہ سندیپ ریڈی سکندرآباد کے ساکن ایک اور بیوپاری کلاہار ریڈی کا دوست ہے۔
اخبار کے بموجب کلاہارریڈی کے کنڑا فلم انڈسٹری کے چند افراد سے اچھے تعلقات ہیں اسی کے ذریعہ اس نے سندیپ ریڈی کی شنکر گوڑا سے ملاقات کروائی تھی جسکے بعد شنکر گوڑا نے سندیپ ریڈی سے کہا کہ بنگلورو میں چند اراضیات فروخت کرنی ہے اگر تلنگانہ میں کوئی خریدار مل جائے تو انہیں لے آئے جس کے بعد اپنی پہچان والے چند ایم ایل ایز اوردیگر افراد کو سندیپ ریڈی بنگلورو لیکر گیا تھاجہاں وکی ملہوترا ، ڈانئیل اورمستان چندرا نے ایک پارٹی ترتیب دی تھی جس میں منشیات سربراہ کی گئیں۔
اخبار کے بموجب اگست 2019 ء میں شنکر گوڑا کی بیٹی کی بنگلورو میں منعقدہ برتھ ڈے پارٹی میں بھی سندیپ ریڈی ، ایک چھوٹے درجہ کا تلگوفلموں کا ہیرو ، ایم ایل ایز کیساتھ خود کو تلنگانہ جہد کار کہنے والا شخص بھی شریک ہوئے تھے حیدرآباد واپسی کے دؤران اس تلنگانہ جہد کار نے اپنے ساتھ کوکین لائی تھی۔
بنگلور و پولیس کو شبہ ہے کہ یہی وہ شخص ہے جو حیدرآباد کے مضافات میں موجود فارم ہاؤزس میں ہونے والی پارٹیوں میں بنگلورو سے لاکر منشیات سربراہ کرتا ہے اور ایسی پارٹیوں میں مذکوہ ایم ایل ایز بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ایناڈو کی اس سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق بنگلورو پولیس کی جانب سے مشتبہ افراد کو تحویل میں لیکر کی جارہی تفتیش کے دؤران جن ناموں کا انکشاف ہوا ہے ان ایم ایل ایز سے بھی بہت جلد پوچھ تاچھ کی جانے والی ہے۔
اور اطلاع ہے کہ تمام ثبوتوں کی دستیابی کے بعد اب اندرون دو یوم پولیس کی جانب سے ان ایم ایل ایز کو نوٹس بھی جاری کی جانے والی ہے اور مستان چند پولیس کا گواہ بننے کیلئے تیار ہوگیا ہے۔
اخبار کے بموجب اس منشیات معاملہ میں ملوث تلنگانہ کے تمام افراد کی کسی بھی وقت گرفتاری ممکن ہے اور ایک ہفتہ قبل بنگلورو سے حیدرآباد پہنچی پولیس کی ٹیم نے کلاہار ریڈی اور خود کو تلنگانہ جہد کار کہنے والے شخص کو پوچھ تاچھ کیلئے حاضر ہونے کی نوٹس بھی جاری کی تھی تاہم پولیس کو انکے خون کی جانچ کے ذریعہ انکے منشیات لینے کے ثبوت ملنے کے خوف سے وہ جان بوجھ کر حاضر نہیں ہوئے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خون میں سے منشیات کی نشانی مٹانے کیلئے علاج کروانے میں مصروف ہیں۔
اخبار کے مطابق اب ان دونوں کی باقاعدہ گرفتاری کیلئے بنگلورو سے پولیس ٹیم حیدرآباد پہنچنے والی ہے۔ایناڈو میں شائع اس سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق خود کو تلنگانہ جہد کار بتانے والے اس شخص کا حیدرآباد میں کیاب کا کاروبار ہے اور یہ کلاہارریڈی کیساتھ مل کر تلگو فلموں کو فینانس بھی کیاکرتا ہے۔
پولیس کا اس سے متعلق کہنا ہے کہ کیاب کے ذریعہ ہی یہ شخص بنگلورو سے حیدرآباد منشیات منتقل کرتا ہے اور بنگلورو میں منعقد ہونے والی پارٹیوں میں شرکت کیلئے یہاں سے اہم لوگوں کو بنگلورو بھی لے جاتا ہے!
اس سلسلہ میں بنگلورو پولیس کی جانب سے کھلے عام اس منشیات کے استعمال کرنے والوں، منشیات کے کاروبار اور پارٹیوں میں شرکت کرنے والوں کے ناموں کے اعلان کے بعد ممکن ہے کہ گرما کی شدت کے ساتھ ساتھ ریاست کی سیاست بھی گرم ہوجائے!!

نوٹ : اس رپورٹ کی تیاری میں تلگو روزنامہ ایناڈو میں شائع خصوصی رپورٹ سے مدد لی گئی ہے۔

