گھریلو پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں 50 روپئے
اور کمرشیل سیلنڈر کی قیمت میں 350 روپئے کا اضافہ
نئی دہلی: 01۔مارچ
(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
جاریہ امرت کال سے فیضیاب ہونےوالے،تمام اشیائے ضروریہ سےلیکر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کی آسمان چھوتی مہنگائی،بیروزگاری، ملازمتوں سے محرومی، آمدنی میں کمی، اخراجات میں اضافہ اور دیگر مسائل سےپہلے ہی سے پریشان مڈل کلاس اور غریب طبقہ کو آج ملک کی آئیل کمپنیوں نے ایک اور جھٹکا دیتے ہوئے 14.2 کلو کےحامل گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں فی سیلنڈر 50 روپئے کا اضافہ کرد یا ہے۔ اضافہ شدہ قیمت کا آج یکم مارچ سے ہی پورے ملک میںاطلاق ہوگا۔
قبل ازیں گذشتہ سال 6 جولائی کو گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں 50 روپئے کا اضافہ کیا گیا تھا۔وہیں حیرت انگیز طورپر آج آئیل کمپنیوں نے 19 کلو کے حامل کمرشیل گیس سیلنڈر کی قیمت میں فی سیلنڈر 50۔350 روپئے کا اضافہ کیا ہے۔جبکہ اسی سال کے آغاز میں تحفہ کےطور پر یکم جنوری کو کمرشیل پکوان گیس کی قیمت میں فی سیلنڈر 25 روپئے کا اضافہ کیاگیاتھا۔اب کمرشیل پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں 350 روپئے کے اضافہ سے ریسٹورنٹ اور ہوٹلوں میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔اور دیگر شعبہ جات پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔
اب اضافہ شدہ قیمت کے بعد کمرشیل پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت 50-2،119 روپئے ہوگئی ہے۔جبکہ ملک کےمختلف شہروں میں اضافہ شدہ رقم کے بعد گھریلو پکوان گیس سیلنڈر کی قیمتیں اس طرح ہوں گی۔
نئی دہلی میں : 1,103 روپئے
حیدرآباد میں : 1,155 روپئے
ممبئی میں : 50-1،102 روپئے
بنگلورو میں : 50-1،105 روپئے
کولکاتا میں : 1,129 روپئے
پٹنہ میں : 1,202 روپئے
چنئی میں : 1,118 روپئے
لکھنؤ میں : 1,140 روپئے
گرگاؤں میں : 1,111 روپئے
نوئیڈہ میں : 1,100 روپئے
جئے پور میں: 1,106 روپئے
بھوبنیشور میں : 1,129 روپئے
مہنگائی میں کمی،بیروزگاری کا خاتمہ،سال میں دو کروڑ ملازمتوں کی فراہمی،سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اچھے دن کے وعدوں کے ساتھ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جہاں مہنگائی،بیروزگاری آسمان چھورہی ہے۔وہیں پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ نے بالخصوص مڈل کلاس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
گذشتہ 6 سال کے دؤران گیس کی قیمتوں میں 59 مرتبہ اضافہ اور کمی کی گئی ہے۔مرکزی محکمہ پٹرولیم کے گذشتہ سال ماہ ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل 2017سے 6 جولائی 2022ء تک 58 مرتبہ گیس کی قیمتوں میں کمی بیشی کی گئی ہے۔جس کے دوران گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اپریل 2017 میں پکوان گیس فی سیلنڈر 723 روپئے تھی تو جولائی 2022 تک یہ قیمت بڑھ کر 1,053 روپئے تک پہنچ گئی تھی۔
وزارت پٹرولیم کے ڈیٹا کے مطابق یکم جولائی 2021ء سے 6 جولائی 2022ء تک ایک سال کےدؤران پکوان گیس کی قیمت میں 26 فیصد اضافہ کیا گیاہے۔جولائی 2021 میں جہاں گھریلو پکوان گیس کی قیمت فی سیلنڈر 834 روپئےتھی جو جولائی 2022ء تک اسی گیس سیلنڈر کی قیمت 1.053 روپئے تک پہنچ گئی۔دوسری جانب ریاستی ٹیکسوں اور ٹرانسپورٹ کے ذریعہ منتقلی کےباعث ملک کےمختلف شہروں میں پکوان گیس سیلنڈرس کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے۔
اس طرح آج یکم مارچ کو پکوان گیس سیلنڈر کی قیمت میں مزید 50 روپئے کا اضافہ عمل میں لایا گیاہے۔یاد رہے کہ سالانہ فی صارف کو سبسڈی پرمشتمل پکوان گیس فراہم کیے جاتے ہیں۔

