کانگریس اکثریتی طبقہ کی نجی دولت زیادہ بچے پیدا کرنے والے مسلمانوں میں تقسیم کرے گی : وزیراعظم نریندر مودی کا انتخابی جلسہ سے خطاب

کانگریس اکثریتی طبقہ کی نجی دولت زیادہ بچے پیدا کرنے والے مسلمانوں میں تقسیم کرے گی
وزیراعظم نریندر مودی کا راجستھان میں انتخابی جلسہ سے خطاب
کھرگے، بیرسٹر اویسی، راہول گاندھی، رویش کمار، پرکاش راج اور دیگر نے کی مذمت

جئے پور/نئی دہلی: 22۔اپریل
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

کل شام سےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص ایکس X (سابقہ ٹوئٹر)،انسٹاگرام اور فیس بک پر وزیراعظم نریندرمودی کا ایک ویڈیو وائرل ہے۔ جس میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ 140 کروڑ بھارتی عوام کے وزیراعظم نریندر مودی کانگریس کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف رکیک خطاب کر رہے ہیں۔آزاد و غیر جانبدارصحافیوں اورسیاسی ماہرین کےمطابق نریندرمودی نےسابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کےحوالے سے مسلمانوں اور کانگریس پر جو الزامات عائد کیے ہیں وہ جھوٹ پر مبنی ہیں۔!!

وزیراعظم کے اس بیان کے فوری بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہوگیا اور ایکس پر وزیراعظم کے بیان کی مذمت میں ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگ گئے جو ٹاپ پر پہنچ گئے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی جو گزشتہ دس سال سے سب کا ساتھ،سب کا وکاس اور سب کا وشواس کا نعرہ لگاتے آ رہے ہیں کی جانب سے دیا گیا یہ بیان اس ملک کےمسلمانوں کی توہین اور دو فرقوں کے درمیان ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔اپوزیشن قائدین اورسوشل میڈیاصارفین کا الزام ہےکہ لوک سبھا کےپہلے مرحلہ کے انتخابات کا رحجان دیکھ کر ایک ذمہ دارعہدہ پر فائز وزیراعظم نریندر مودی کی اس اشتعال انگیزی سے ان کی مایوسی جھلک رہی ہے۔!!

دراصل وزیراعظم نریندرمودی نے کل اتوار کو راجستھان کےبانسواڑہ میں بی جے پی امیدواروں کی انتخابی مہم کےدوران جلسہ سےخطاب کرتے ہوئےلوک سبھا انتخابات کے لیے اپنے منشور میں دولت اور آمدنی کی عدم مساوات کو دور کرنے کے کانگریس کے وعدے پر طنز کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ کانگریس اگر مرکز میں برسراقتدار آتی ہے تو وہ لوگوں(اکثریتی طبقہ) کی زمین اور جائیدادمسلمانوں میں تقسیم کرے گی۔

نریندرمودی نے جلسہ میں شریک خواتین کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو آپ کا منگل سوتر تک نہیں بچے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے پہلے جب ان کی حکومت تھی تو وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ اس ملک کے وسائل پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے۔!!

وزیراعظم نریندر مودی نے اس انتخابی جلسہ سے اپنے خطاب میں کہاکہ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں اعلان کیا ہے کہ ملک کا پیسہ وہ اس ملک کی خواتین کی ملکیت میں موجود سونا اور چاندی کا حساب کریں گے،جانکاری لیں گے اور اس کو مسلمانوں، زیادہ بچے پیدا کرنےوالوں اور گھس پیٹیوں(دراندازوں) کو بانٹیں گے۔یہ کانگریس کا مینی فیسٹو کہہ رہاہے۔انہوں نے مجمع سے پوچھا کہ” کیا آپ یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ آپ کی محنت کی کمائی اور جائیداد چھین لے؟ انہوں نے کہا کہ یہ اربن نکسل سوچ ہے کیا یہ آپ کو قبول ہے؟”

دوسری ہی سانس میں نریندر مودی نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ بی جے پی پسماندہ طبقات کی ترقی کےلیے انتہائی خلوص اور عزم کےساتھ کام کررہی ہے،جب کہ کانگریس” خوف، بھوک اور بدعنوانی” کی تجارت کر رہی ہے۔انہوں نے لوگوں سے بی جے پی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کانگریس کی دلتوں، قبائلیوں اور اقلیتوں کو ڈرانے اور خوف اور جبر کے کلچر کو برقرار رکھنے کی تاریخ رہی ہے۔”

وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کے اس حصہ کے ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے تو ہر طرف سے اس بیان کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ بی جے پی اور وزیراعظم نے جو کچھ کہاہے وہ جھوٹ پر مبنی ہے اور منموہن سنگھ کا جو حوالہ دیا گیا ہے اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کی اس تقریر پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کی خاموشی پر سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ مہاراشٹرا میں انتخابی مہم کےدؤران جئےبھوانی کا نعرہ لگانے پر شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کو نوٹس جاری کرنے والا الیکشن کمیشن اب کیوں خاموش ہے۔؟  

نامور صحافتی ادارہ للن ٹاپ کا ایک فیاکٹ چیک ویڈیو اور اس وقت کے وزیراعظم  منموہن سنگھ کی جانب سے پریس کانفرنس میں دئیے گئے بیان کے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے۔جس میں دیکھا جاسکتاہےکہ 9 ڈسمبر 2006 کو اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے کہا تھا کہ اس ملک کے وسائل پر ایس سی، ایس ٹی، آدیواسی اور بالخصوص اقلیتوں کا بھی مساوی حق ہے۔


" 9 ڈسمبر 2006 کو اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کیا کہا تھا؟ "

وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کیے گئے رکیک حملوں کے بعد راہول گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”ووٹنگ کے پہلے مرحلہ میں مایوسی ہاتھ لگنے کے بعد نریندر مودی کے جھوٹ کی سطح اتنی گر گئی ہےکہ خوف گھبرا کر اب وہ عوام کو مسائل سے بھٹکانا چاہتے ہیں۔کانگریس کے ‘انقلابی منشور’ کے لیے حاصل ہونے والی زبردست حمایت کے رحجان آنے شروع ہوگئے ہیں۔ملک اب اپنے مسائل پر ووٹ دے گا۔اپنے روزگار، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کے لیے ووٹ دے گا۔بھارت گمراہ نہیں ہوگا۔”

وہیں صدر کل ہند کانگریس کمیٹی ملک ارجن کھرگےنے اپنے ایک طویل ٹوئٹ میں لکھاہے کہ” آج مودی جی کی غصے میں بھری تقریر نےظاہر کیا کہ پہلے مرحلے کے نتائج میں انڈیا (انڈیا اتحاد) جیت رہا ہے۔مودی جی نے جو کچھ کہا وہ یقیناً نفرت انگیز تقریر ہے،یہ توجہ ہٹانے کی دانستہ چال ہے۔

کھرگے نے اپنے اس ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ آج وزیراعظم نے وہی کیاجو انہیں سنگھ کے اقدار میں ملا ہے۔اقتدار کےلیے جھوٹ بولنا، چیزوں کا جھوٹا حوالہ دینا اور مخالفین پر جھوٹے الزامات لگانا سنگھ اور بی جے پی کی تربیت کا خاصہ ہے۔ملک کے 140 کروڑ عوام اب اس جھوٹ کا شکار نہیں ہوں گے۔

ملک ارجن کھرگے نے اپنے اس ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ہمارا منشور ہر ہندوستانی کےلیے ہے جو سب کے لیے برابری کی بات کرتا ہے۔ سب کے لیے انصاف کی بات کرتا ہے۔ہمارا منشور ہر ہندوستانی کے لیےہے جو سب کے لیے برابری کی بات کرتا ہے۔سب کے لیے انصاف کی بات کرتا ہے۔کانگریس کا نیا پترا (انتخابی منشور) سچ کی بنیاد پر ہے لیکن لگتا ہے گوئبلز جیسے آمر کی کرسی اب ہل رہی ہے۔ہندوستان کی تاریخ میں کسی وزیر اعظم نے اپنے عہدہ کے وقار کو اتنا کم نہیں کیا جتنا مودی جی نے کیا ہے۔”

جبکہ صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”مودی نے آج مسلمانوں کو درانداز (گھس پیٹئے ) قرار دیا اور کہا کہ ان کے زیادہ بچے ہوتے ہیں۔2002 سے اب تک مودی کے پاس صرف ایک گیارنٹی تھی، ہندوستان کے مسلمانوں کو گالی دینا اور ووٹ حاصل کرنا۔”

"اگر ہم ملک کی دولت کی بات کریں تومودی حکومت میں ملک کی دولت پر پہلاحق ان کے ارب پتی دوستوں کا ہے۔آج ہندوستان کے 1% لوگ ملک کی 40% دولت کھا چکے ہیں۔عام ہندوؤں کو مسلمانوں کا خوف دکھایا جا رہا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ آپ کے پیسے سے کوئی اور امیر ہو رہا ہے۔”

وہیں آج کشن گنج بہار میں انتخابی جلسہ سےخطاب کرتےہوئے بیرسٹر اویسی نے کہاکہ آج ہم نریندرمودی جی کے بھاشن کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتےہوئےبھارت میں مسلمانوں میں شرح پیدائش کی تفصیلات پیش کیں اور کہاکہ مودی جی 6 بھائی بہن ہیں، امت شاہ کی 6 بہنیں ہیں اور بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد 7 بھائی بہن ہیں۔تو زیادہ بچوں کا الزام مسلمانوں پر کیوں؟

سابق وزیراعلیٰ مدھیہ پردیش و کانگریس کےسینئر قائد ڈگ وجئے سنگھ نے اپنے ٹوئٹ میں باقاعدہ آر ایس ایس، دفتر وزیراعظم اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال کیا ہےکہ موہن بھاگوت جی،کیا ایسی جھوٹی تقریر اس ملک کے وزیراعظم کے شایان شان ہے۔؟ الیکشن کمیشن آف انڈیا کیا یہ اخلاقی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی۔؟ کیا اس قسم کی تقریر آئی پی سی کی دفعہ 153 کے تحت جرم نہیں ہے۔؟

نامور ریمن میگیسے ایوارڈ یافتہ صحافی رویش کمار نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھا ہے کہ” وزیراعظم کے بیان سے ظاہر ہوتاہے کہ ان کی سیاست صرف ترقی کاڈھونگ کرتی ہے۔ان کی سیاست صرف فرقہ وارانہ منافرت کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ دس سال بعد بھی وہ مسلمانوں،مسلم لیگیوں اور مچھلیوں کے بغیر تقریر نہیں کر سکتے۔یہ بھی اکثریتی طبقے کی توہین ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم اکثریت کو بھی اسی لائق سمجھتے ہیں۔اس کےبچے بیروزگاری کی وجہ سےمرتے رہیں گے اور وزیراعظم انہیں مسلمان،مسلمان سناتے رہیں گے افسوس! "

وہیں ایک اور نامور صحافی اجیت انجم نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مودی جی نے مسلم لیگ سے شروعات کی، اب پی ایم مودی مٹن، مچھلی اور مغل کھاتے ہوئے یہاں پہنچ گئے ہیں۔انتخابات کے ابھی 6 راؤنڈ باقی ہیں۔ ابھی ہم کپڑوں سے پہچانے جاتے ہیں اور ہمیں شمشان گھاٹ کے بارے میں بیانات سے آگے بڑھناہے۔یہ حقیقت ہے۔باقی صرف جملے ہیں دس سال تک ملک پرحکومت کرنےوالے مودی جی اگر اپنی میٹنگوں میں یہ سب کہنا شروع کر دیں تو سمجھیں کہ بی جے پی الیکشن جیتنے کے لیے کتنے ہتھکنڈے اپنا سکتی ہے۔”

مشہور فلم اداکار پرکاش راج جو مودی کے سب سے بڑے ناقد مانے جاتےہیں نے اپنےسخت لفظوں پرمشتمل ٹوئٹ میں لکھا ہےکہ”تُف ہے اس خطابت پر … تاریخ اس گھٹیا تقریر کو کبھی نہیں بھولے گی۔اقتدار کی بھوک میں ننگا ہونےوالے اس ”شہنشاہ“ سے تہذیب اور شائستگی کی توقع فضول ہے۔انتخابات کے پہلے مرحلے نے ان کے ہوش اُڑا دیئے ہیں۔تھوڑا انتظار کریں۔لوگ انہیں مزہ چکھا دیں گے۔”

وہیں مشہور کارٹونسٹ ستیش آچاریہ نے بھی نریندر مودی کے اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "پی ایم صاحب،اس ملک نے آپ کو مطلق اقتدار کے دو مواقع دئیے،آپ کو اتنی محبت،عزت اور مقبولیت دی ہے۔ایسی باتیں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟ آپ اپنی تقریروں میں ایک فرقے کے خلاف نفرت پھیلانے پر اتنے مجبور کیوں ہیں جناب! بحیثیت لیڈر ایسا بھی کیا احساسِ عدم تحفظ؟ براہ کرم محبت پھیلائیں، مختلف فرقوں کے مابین بھائی چارگی کو فروغ دیں۔تاریخ آپ کو یاد رکھے گی۔ پلیز! "

ان تمام کے علاوہ دیگر دانشور،صحافی اورمختلف شعبہ حیات سےتعلق رکھنے والی اہم شخصیتیں اور عام سوشل میڈیاصارفین بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔

اسی دؤران آج چھتیس گڑھ کے کانکیر میں ایک جلسہ عام سےخطاب کرتےہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہاہے کہ”وسائل پر پہلا حق ملک کے غریب، قبائلی، دلت اور پسماندہ طبقات کا ہے۔”

یہ بھی پڑھیں "

تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات کے نتائج کی تاریخ کا اعلان

تلنگانہ میں تین دنوں تک گرج چمک اور تیز ہواوں کے ساتھ شدید بارش کی پیش قیاسی، کئی اضلاع کے لیے محکمہ موسمیات کا ایلو الرٹ جاری

طلبہ مثبت سوچ کے ساتھ عصر حاضر کے لیے درکار صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں، گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں سمپوزیم