کرناٹک کے اقتدار پر 136 سیٹوں پر کامیابی کے ساتھ کانگریس کا قبضہ، جنوبی ہند میں بی جے پی کا واحد قلعہ ڈھے گیا

کرناٹک کے اقتدار پر 136 سیٹوں پر کامیابی کے ساتھ کانگریس کا قبضہ
 جنوبی ہند میں بی جے پی کا واحد قلعہ ڈھے گیا
کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوا اورمحبت کی دکانیں کھلی ہیں : راہول گاندھی
کانگریس کے 9 مسلم ارکان اسمبلی بھی منتخب، زبردست جوش وخروش

بنگلورو: 13۔مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

کرناٹک جو کہ بی جے پی اقتدار والی واحد جنوبی ہند کی ریاست تھی میں آج اس کے اقتدار کا یہ قلعہ ریت کے مانند اس وقت ڈھیر ہوگیا جب کانگریس پارٹی نے حکومت بنانے کے لیے درکار 113 کے جادوئی ہندسہ کو پار کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات سے قبل اور بعد میں کی جانے والی پیشن گوئیوں کوسچ ثابت کر دکھایاہے۔جبکہ برسر اقتدار بی جے پی کو کرناٹک میں ناقابل یقین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

سیاسی ماہرین کے مطابق کرناٹک کے یہ نتائج جاریہ سال مدھیہ پردیش،راجستھان،چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات پربھی مرتب ہونگے اور 2024ء میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کا رخ بھی طئے کریں گے۔ساتھ ہی کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کےبعد جہاں کانگریس میں ایک نیا جوش اور حوصلہ پیدا ہوگیا ہے وہیں مخالف بی جے پی اپوزیشن جماعتوں میں بھی ایک امید پیدا ہوگئی ہے کہ بی جے پی کو شکست دینا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا کہ سمجھا جاتا ہے۔!

کرناٹک میں بی جے پی حکومت پر 40 فیصد کمیشن کے لیبل کے ساتھ فرقہ وارانہ اور ذات پات کی سیاست،تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، مہنگائی، حلال گوشت کے خلاف مہم اور بجرنگ دل کی غنڈہ گردی کو بی جے پی کی شکست کی اہم وجوہات مانی جارہی ہیں۔!!

کرناٹک اسمبلی کی 224 سیٹوں کے لیے 10 مئی کو رائے دہی ہوئی تھی۔الیکشن کمیشن نےجمعرات کو بتایاکہ کرناٹک میں 10 مئی کو منعقدہ اسمبلی انتخابات میں 73.19 فیصدرائے دہی ہوئی ہے جوکہ جنوبی ہند کی کسی بھی ریاست میں اب تک کاسب سےزیادہ ووٹنگ فیصدہے۔چیف الیکٹورل آفیسر کرناٹک نے کہاکہ کرناٹک نے اپنے لیے ایک نیا ریکارڈ بنالیا ہے۔کیونکہ 2018ء کے اسمبلی انتخابات میں 72.36 فیصد اور 2013 میں 71.83 فیصد رائے دہی ہوئی تھی۔

آج صبح جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو کانگریس پارٹی سے آغاز ہی سے اپنی سبقت بنائی ہوئی تھی۔ آج رات 10 بجے تک جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کے مطابق کانگریس پارٹی 136 نشستوں پر اپنی کامیابی کا پرچم لہرا چکی ہے۔اس طرح کانگریس 224 رکنی کرناٹک اسمبلی میں 136 سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہے۔ 2018ءکے اسمبلی نتائج کےساتھ موازنہ کیاجائے تو کانگریس پارٹی کو اس مرتبہ 56 اسمبلی نشستوں کا فائدہ ہواہے۔

کانگریس کے 9 مسلم امیدواروں نے بھی اپنی شاندار کامیابی درج کروائی ہے۔ان میں 7 موجودہ ارکان اسمبلی ہیں جنہوں نے دوبارہ کامیابی حاصل کی ہے۔جبکہ 2018ء میں منعقدہ انتخابات میں یہی 7 ارکان اسمبلی کرناٹک اسمبلی میں داخل ہوئےتھے۔اس مرتبہ دو ارکان اسمبلی کااضافہ ہوا ہے۔

کانگریس سےمنتخب ہونے والے مسلم امیدواروں میں بی زیڈ ضمیر احمد خان( چامراج پیٹ،بنگلورو)،تنویر سیٹھ( حلقہ نرسمہاراجہ)، یوٹی قادر (حلقہ اسمبلی منگلورو)،این اے حارث (حلقہ اسمبلی شانتی نگر،بنگلورو)،رضوان ارشد (حلقہ اسمبلی شیواجی نگر،بنگلورو)،ایچ اے اقبال حسین(حلقہ اسمبلی رام نگرم)،آصف راجو سیٹھ (بیلگام)،محترمہ کنیز فاطمہ (حلقہ اسمبلی گلبرگہ ،شمال)،محمد رحیم خان(حلقہ اسمبلی بیدر)شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی سوشل میڈیا پر زیر گشت ہیں کہ جملہ 13 مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوئے لیکن اس کی مصدقہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی کےکئی موجودہ وزراء کو شکست کو منہ دیکھنا پڑا ہے۔ جن میں کرناٹک کے وزیرتعلیم بی سی ناگیش کی شکست کا چرچا ہے جو ٹپٹور حلقہ سے شکست کھاگئے۔بی سی ناگیش نے کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی نافذ کرتے ہوئے لاکھوں معصوم مسلم بچیوں اور ٹیچروں کو بے حجاب کیا تھا۔جس کے باعث کئی طالبات کو ترک تعلیم پر مجبور ہونا پڑا تھا۔اور ساتھ ہی انہوں نے کرناٹک میں مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ پر بھی زور دیا تھا۔

آج آنے والے نتائج میں ساڑھے تین سال سے کرناٹک میں اقتدار پر موجود بی جے پی 65 سیٹوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے اور بی جے پی کو 2018ء کے نتائج کی بہ نسبت 39 سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔وہیں جنتادل سیکولر(جے ڈی ایس )نے 19 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جسے 2018ء کی بہ نسبت 18 سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔جبکہ چار دیگر ارکان بھی منتخب ہوئے ہیں۔ جے ڈی ایس نے 37 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے 2018ء میں کانگریس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی اور اس کے سربراہ ایچ ڈی کمارا سوامی جو کہ سابق وزیراعظم دیوے گوڑہ کے فرزند ہیں 14 ماہ تک کرناٹک کے چیف منسٹر رہے بعد ازاں ان کی حکومت آپریشن کنول کا شکار ہوگئی تھی۔!!

کرناٹک میں انتخابی مہم کی اگر بات کی جائے تو وزیراعظم نریندر مودی،مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ،قومی صدر بی جے پی جے پی نڈا کے بشمول تقریباً بی جے پی کے مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرز، مرکزی اور ریاستی وزراء، دلی سے لے کر گلی تک کے لیڈروں اور کارکنوں نے اکثریتی طبقہ کے ووٹوں کےلیے وہی مذہبی اور نفرتی تقاریر کیں اور رائے دہندوں کو کانگریس اورمسلمانوں کاخوف بھی دلایا گیا۔

باقاعدہ الیکشن مینی فیسٹو میں بی جے پی نے کرناٹک میں یکساں سول کوڈ اور این آر سی کے نفاذ کا وعدہ بھی کیا، جبکہ حجاب پر پابندی، مسلم دکانداروں پر پابندی،چھوٹے مسلم بیوپاریوں کا بائیکاٹ،حلال گوشت پر پابندی،لؤجہاد، فلم کیرالہ اسٹوری کی تشہیر غرض ہر حربہ آزمایا گیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے انتخابی جلسہ سے خطاب میں کہا تھا کہ اگر کانگریس اقتدار پر آئی تو فسادات ہوں گے،مسلمانوں کے تحفظات برخاست کردئیے گئے۔مرکزی وزیرسمرتی ایرانی نے کہا تھا کہ انہوں نے پرینکا گاندھی واڈرا کو 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔آسام اور اترپردیش کےچیف منسٹرز نے بھی اپنے پسندیدہ موضوعات پر ہی جلسوں سے خطاب کیا تھا۔جبکہ تمام انتخابات اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس کی بنیاد پر لڑے اور ووٹ مانگے جاتے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے لگاتار ایک ہفتہ کرناٹک میں گزارا جس پر اپوزیشن نے شدید تنقید کی تھی کہ منی پور جل رہا ہے اور دہشت گردوں کے حملوں میں جموں میں فوجی شہید ہورہے ہیں، دہلی کے جنتر منتر پر کھلاڑی احتجاج کررہے ہیں لیکن وزیراعظم کو عوامی پیسہ سے چلائی جارہی انتخابی مہم اہم ہے۔!وزیراعظم نریندرمودی نےکرناٹک میں 19 ریالیوں اور انتخابی جلسوں سےخطاب کیا۔اور ساتھ ہی 6 روڈ شوز بھی کیے جس میں 26 کلومیٹر طویل روڈ شو بھی شامل ہے۔

نریندر مودی جوکہ ایک سیکولر ملک کے وزیراعظم ہیں لیکن انہوں نے کئی جلسوں سے اپنے خطاب میں کھل کر کہا کہ ووٹنگ مشین کا بٹن جئے بجرنگ بلی کہہ کردبائیں۔خود وزیراعظم نے اپنی انتخابی تقاریرکے آغاز اور اختتام پر کئی بار جئے بجرنگ بلی کے نعرے لگائے اور عوام کو بھی اس میں شامل کیا۔ دراصل کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیاتھا کہ اقتدارحاصل ہونے کے بعد ریاست کرناٹک میں بجرنگ دل اور پی ایف آئی پر امتناع عائد کیاجائے گا۔جس پر وزیراعظم نریندرمودی نے کرناٹک میں ایک جلسہ عام سے اپنے خطاب میں کہاکہ پہلے کانگریس والوں نے رام کو سلاخوں کے پیچھے رکھا اور اب تو کانگریس نے اقتدار میں آنےکے بعد بجرنگ بلی کوسلاخوں کے پیچھے ڈالنے تک کا اعلان کردیاہے۔!جبکہ پی ایف آئی کا کوئی ذکر نہیں چھیڑا گیا۔

سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مضحکہ وزیراعظم نریندرمودی کی ریالی کے ویڈیوز اور ان کے اس خطاب پر اڑایا گیاکہ انہوں نےجلسہ سےخطاب میں کہا کہ کانگریس والوں نے انہیں 91 مختلف گالیاں دی ہیں اورانہوں نے انتخابی تقریر میں فلم کیرالہ اسٹوری کا بھی خاص طور پر ذکر کیا کہ کیرالہ میں یہ سب چل رہا ہے اور فلم بہت اچھی ہے۔!!

آج کرناٹک اسمبلی کے ان انتخابی نتائج نے جنوبی ہند کی واحد ریاست سے بی جے پی کے اقتدارکا صفایا کردیا ہے۔اس طرح کرناٹک کےرائے دہندوں نے بی جے پی کی مذہبی اور نفرتی سیاست پر بریک لگادیاجو تلنگانہ اور آندھراپردیش کی جانب پیشقدمی میں مصروف ہے اور وہی مذہبی اور ذات پات کے داؤ پیچ کھیلے جارہے ہیں۔!!

کرناٹک میں سخت موسم گرما کے دوران منعقدہ انتخابی مہم میں سابق صدر کانگریس شریمتی سونیا گاندھی نے بھی حصہ لیتے ہوئے ایک جلسہ سے خطاب کیا۔جبکہ صدر کانگریس ملک راجن کھرگے،سابق صدر راہول گاندھی،پرینکا گاندھی واڈرا،سابق چیف منسٹر سدارامیا اور صدر کرناٹک پردیش کانگریس ڈی کے شیواکمار نےبے تھکان جدوجہد کی۔ان تمام کاایک ہی مقصدتھاکہ عوام کے سامنے بی جے پی کی کمزوریوں کوواضح کیا جائے۔ نفرتی اور فرقہ وارانہ سیاست سے واقف کروایا جائے اور ساتھ ہی کرناٹک بی جے پی حکومت کی بدعنوانیوں،ملک کی بیروزگاری، مہنگائی پر بات کی جائے۔آج کے انتخابی نتائج یہ بتاتے ہیں کہ ان تمام کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کانگریس نے اپنے مینی فیسٹو میں پانچ اہم وعدے کیے ہیں جو کہ رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔

کرناٹک میں کانگریس کی شاندار کامیابی کے بعد آج راہول گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسے کرناٹک کے عوام کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کرناٹک کے تمام طبقات،پارٹی قائدین اور کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کا شکریہ اداکیا اور تیقن دیا کہ جو وعدے کیے گئے ہیں ان پر عمل کا آغاز کیا جائے گا۔

راہول گاندھی نے کرناٹک میں کانگریس کی فتح اور بی جے پی کی شکست پر کہا کہ” کرناٹک میں آج نفرت کا بازار بندہوا ہے اورمحبت کی دکانیں کھلی ہیں۔”یاد رہے کہ راہول گاندھی نے اپنی چار ہزار کلومیٹر طویل پدیاترا میں اسی پیغام کو عام کیا تھا۔اس وقت کرناٹک میں اس پدیاترا کو بہت زیادہ عوامی تائید بھی حاصل ہوئی تھی۔

” یہ بھی پڑھیں "

کرناٹک اسمبلی انتخابات،انتخابی مہم زوروں پر، 10مئی کو رائے دہی، 13مئی کو نتائج، وزیراعظم پر پرینکا گاندھی کا طنز، ویڈیوز وائرل