کیا اب بھی لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر میں کی جاسکتی ہے؟
شادی کی عمر میں تین سال کے اضافہ پرمشتمل قانون سے متعلق
چند انتہائی اہم نکات
تحریر: مفتی محمد نوید سیف حسامی ایڈوکیٹ
(01۔جنوری:سحرنیوزڈاٹ کام)
مرکزی حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی شادی کی عمر کو 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کرتے ہوئے لوک سبھا میں ایک بِل پیش کیا گیا جس کے خلاف بشمول اپوزیشن جماعتوں عوام کے ایک بڑے طبقے نے بھی اعتراض کیا۔
ایسے میں اس قانون سے متعلق اب زیادہ تر والدین اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ کیا فی الوقت بالخصوص مسلمان اپنی 18 سال کی لڑکیوں کی طئے شدہ یا طئے کی جارہیں شادیاں کرسکتے ہیں یا انہیں کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اس سلسلہ میں مختلف ذمہ داران اور ماہرین سے مشورہ بھی کیا جارہا ہے۔!
30 ڈسمبر کو انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ویب سائٹ پر ایک نیوز اسٹوری شائع کی گئی ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے قانون کے خوف سے حیدرآباد میں 18 تا 20 سال کی مسلم لڑکیوں کی فوری شادی کے لیے تگ دُود شروع ہوگئی ہے اور اس معاملہ میں مسلم والدین پریشان ہیں۔پرانے شہر حیدرآباد کے چند مسلم مقامی قائدین کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں اجتماعی شادیوں کا جلد نظم کیا جانے والا ہے!

اس سلسلہ میں اہم موضوع پر پیش ہے” مفتی محمد نوید سیف حسامی ایڈوکیٹ،کریم نگر،تلنگانہ کا یہ خصوصی مضمون:-
٭٭ یہ قانون جسے The Prohibition of Child Marriage (Amendment) Bill, 2021 کا نام دیا گیا ہے کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا،لیکن لوک سبھا میں اپوزیشن کے احتجاج کی بنا پر اس قانون کو منظوری حاصل نہیں ہوپائی۔جسے مزید جانچ کی غرض سے لوک سبھا کی جانب سے پارلیمنٹری پینل کے سپرد کیا گیا ہے۔جہاں سے یہ دوبارہ لوک سبھا میں آئے گا اور وہاں سے راجیہ سبھا پھر صدرجمہوریہ کی دستخط کے بعد ساتھ ملک بھر میں نافذ ہوگا۔
٭٭ اصل قانون 2006 میں نافذ ہوا تھا جس میں جملہ 21 شقیں تھیں،انہی میں سے کچھ شقوں میں تبدیلی کرکے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔
٭٭ 1978 میں اس وقت کی مرکزی حکومت نے لڑکیوں کی شادی کی عمر پندرہ سال سے بڑھا کر اٹھارہ سال اور لڑکوں کی شادی کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کی تھی۔اب صرف لڑکیوں کی قابل نکاح عمر میں اضافہ کیا گیا ہے۔یعنی لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی قابل نکاح عمر بالفاظِ دیگر بلوغت کی عمر 21 برس طئے کی گئی ہے
٭٭ دلچسپ بات یہ کہ یہ قانون صدر جمہوریہ ہند سے منظوری ملنے کی تاریخ سے دو سال بعد نافذ ہوگا جسے Grace Period کہا جاتا ہے، یعنی یہ معاملہ ایسا ہے جو اچانک تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
کیوں کہ شادیوں کے لیے چند رشتے بہت پہلے ہی طئے ہوئے ہوتے ہیں،جبکہ کئی جگہوں پر شادی کی تاریخ اور اس سے متعلقہ معاملات فائنل ہوچکے ہوتے ہیں۔یا رشتہ کی بات چیت قطعی مراحل میں ہوتی ہے! اس لیے اس میں دو سال کی مدت کی سہولت دی جائے گی بعد ازاں یہ قانون لاگو ہوگا۔یہ بات اس ترمیم شدہ ایکٹ کی شق نمبر ایک کی ذیلی شق نمبر دو میں کہی گئی ہے
…This section and section 2,clause (ii) of section 3,section 5 and the amendment to the enactment mentioned against serial number 5 of the Schedule shall come into force on the date this Act receives the assent of the President; and the other provisions shall come into force on the date of completion of two years from the date of assent
مثلاً اگر اس قانون کے مسودہ پر 15 جنوری 2022 کو صدرجمہوریہ کی دستخط ثبت ہوجائے تب بھی اس قانون کا نفاذ پندرہ جنوری 2024 سے ہوگا۔یعنی ان دو برسوں میں اگر 18 سے 21 کے درمیان والی لڑکی کا نکاح کروانا چاہیں تو بلا جھجک کروا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ دو سال صدر جمہوریہ سے منظوری ملنے کی تاریخ سے شروع ہوں گے اور ابھی یہ بل پینل کے پاس ہی ہے۔
٭٭ یہ قانون تمام مذاہب کے ماننے والوں پر یکساں لاگو ہوگا یعنی اس میں کسی پرسنل لا کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔
٭٭ پرانے قانون کے مطابق جو 2006 میں نافذ ہوا تھا کسی بھی نابالغ کو اپنے بلوغت سے پہلے ہونے والے نکاح پر اعتراض کی گنجائش بلوغت کے دو سال بعد تک تھی.اب اسے بڑھاکر پانچ سال کردیا گیا ہے۔یعنی کسی لڑکی کا نکاح اس قانون کے نفاذ کے بعد 20 سال کی عمر میں ہو تو اس لڑکی کو 21 برس کی ہونے کے بعد مزید پانچ سال تک اپنے نکاح پر مجسٹریٹ کے روبرو شکایت کا حق حاصل رہے گا۔
٭٭ پرانے قانون میں قانوناً نابالغ سے شادی کرنے یا شادی کروانے یا ایسی شادیوں کو فروغ دینے والے افراد یا تنظیموں کو زیادہ سےزیادہ دو سال کی سزا اور ایک لاکھ کا جرمانہ عائد ہوسکتا ہے جو کہ اس نئے قانون میں بھی اسی کو برقرار رکھا گیا ہے۔
اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کے لیےمضمون نگار:
مفتی محمد نوید سیف حسامی ایڈوکیٹ

موبائل نمبر : 9966870275
muftinaveedknr@gmail.com
پر ربط قائم کیا جاسکتا ہے۔
