ہمیں پاگل کتے نے کاٹا ہے جو ڈوبتی ہوئی ناؤ این ڈی اے میں شامل ہوجائیں؟ نریندر مودی سفید جھوٹ کی یونیورسٹی کے چانسلر

ہمیں پاگل کتے نے کاٹا ہے جو ڈوبتی ہوئی ناؤ این ڈی اے میں شامل ہوجائیں؟
نریندر مودی سفید جھوٹ کی یونیورسٹی کے چانسلر، بہترین اسٹوری رائٹر
وزیراعظم کے دعویٰ پر کارگزار صدر بی آر ایس و منسٹر تلنگانہ کے ٹی آر شدید برہم

حیدرآباد : 04۔اکتوبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

کارگزار صدر بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) و وزیر آئی ٹی،بلدی نظم نسق حکومت تلنگانہ کے۔تارک راماراؤ (کے ٹی آر )نے وزیراعظم نریندر مودی کے ان دعوؤں کو شدت کے ساتھ مستر د کردیا ہے کہ وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤنے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی)کے انتخابات کے بعد ان سے دہلی میں ملاقات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک ان کی قیادت میں ترقی کررہا ہے اور خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ بی جے پی قیادت والے این ڈی اے اتحاد میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔جسے وزیر اعظم نے مسترد کر دیا تھا۔

کل 3 اکتوبر کو تلنگانہ کے نظام آبادضلع میں منعقدہ بی جے پی کے جناگرجنا سبھا میں خطاب کرتےہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے مخصوص انداز میں کہاتھا کہ آج وہ سچ بتا دیں گے جو پہلے کبھی نہیں بتائے۔انہوں نے کہا کہ وہ صد فیصد سچ آج بتا رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ این ڈی اے میں شمولیت کی خواہش پر انہوں نے وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ سے کہاتھا کہ آپ کے کارنامے ایسے ہیں کہ کوئی بھی آپ کے ساتھ جڑ نہیں سکتا ہے۔اور انہوں نے وزیراعلیٰ کے سی آر کی پارٹی کو جی ایچ ایم سی میں تائید سے انکار کر دیا اور این ڈی اے میں شامل کرنےسے بھی انکار کر دیا تھا۔

وزیراعظم نریندرمودی کے ان دعوؤں کے بعد کارگزار صدر بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس ) و وزیر آئی ٹی، بلدی نظم نسق تلنگانہ کے۔تارک راما راؤ (کے ٹی آر) نے قومی اور ریاستی میڈیا سے بات کرتےہوئے بی جے پی کو سب سے بڑی جھوٹی اور جملہ فیکٹری قرار دیا اور وزیراعظم کے اس بیان کوسفید جھوٹ سے تعبیر کرتےہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جھوٹ کی اس فیکٹری واٹس ایپ یونیورسٹی کے چانسلر ہیں۔

کے ٹی آر نےمضحکہ اڑاتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم مودی ایک بہترین اسٹوری رائٹر ہیں اور کہانیاں لکھنے میں بہت مہارت رکھتے ہیں انہوں نے مشورہ دیا کہ وزیراعظم کوشش کریں توان کی کہانیوں،اسکرپٹ اور ایکٹنگ کے لیے انہیں آسکر ایوارڈ بھی مل سکتا ہے۔

کارگزار صدر بی آر ایس و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم خود تذبذب کے شکار ہیں۔وہ خود کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں این ڈی اے میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔کے ٹی آر نے دو قدم آکر بڑھ کر پوچھا کہ کیا ہمیں پاگل کتے نے کاٹ لیا ہے جو ہم این ڈی اے میں شامل ہونگے؟

کے ٹی آر نے کہاکہ آج این ڈی اے کو چھوڑ کر کئی پارٹیاں خود باہر جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شیوسینا، جے ڈی یو ، تلگودیشم اور شرومنی اکالی دل جیسی پارٹیاں این ڈی اے چھوڑ کر باہرگئی ہیں۔انہوں نے وزیراعظم مودی سےسوال کیا کہ آپ کے ساتھ ہیں کون؟ساتھ ہی ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ اب صرف ای ڈی، آئی ٹی اور سی بی آئی کے علاوہ کون ہیں این ڈی اے میں؟

وزیر آئی ٹی و بلدی نظم ونسق تلنگانہ کے۔تارک راماراؤ (کے ٹی آر) نے میڈیا سے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے آپ کو یہ مانتے ہیں کہ وہ بہت صاف شبیہ کے انسان ہیں اور ساری دنیا کرپٹ ہے۔انہوں نےکہا کہ میں وزیر اعظم کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کیا ہوا ہیمنت بسوا شرما کا؟ جن پر کرپشن کا کیس تھا آپ کی پارٹی میں شامل ہوتے ہی کیس غائب!! ارکان پارلیمان سی ایم رمیش اور سجانا ریڈی پر بھی کرپشن کے الزامات تھے،کیس بھی درج کیے سی بی آئی اور ای ڈی بھی آئی اس کیس کا کیا ہوا؟ نارائن رانے پر بھی کیس درج ہوا تھا اس کا کیا ہوا؟

کے ٹی آر نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے خاندانی سیاست پر تنقید پر پوچھا کہ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کون ہیں؟ سندھیا کون ہیں۔؟ وہیں کے ٹی آر نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے فرزند جئے شاہ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ جئے شاہ ہیں کون؟ کرکٹر ہیں یا بہت بڑے کوچ ہیں؟ جنہیں آپ نے بی سی سی آئی کا جنرل سیکریٹری بنا دیا۔انہوں نےمشورہ دیا کہ وزیراعظم کوئی بھی بات کرنے سے قبل سوچ سمجھ کر بولیں۔

وزیر آئی ٹی وبلدی نظم ونسق تلنگانہ کے۔تارک راماراؤنےسخت لہجہ میں کہا کہ کے سی آر ایک فائٹر Fighter# ہیں چیٹر Cheater# نہیں اور وہ چیٹرزکے ساتھ کام نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر کبھی بھی آپ جیسے لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرتے۔ اور نہ ہی ہم کوئی سمجھوتہ کریں گے۔انہوں نےکہاکہ ہم کوئی دہلی یا گجرات کےغلام نہیں ہیں۔اور تلنگانہ کےعوام کےآشیرواد سےدو بارانتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کے ٹی آر نے واضح کیاکہ آپ کے چلانے،ڈرانے اور گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانے سے یہاں کے عوام بہکنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کے ٹی آر کو اقتدار کی منتقلی کے لیے آشیرواد حاصل کرنے کے وزیراعظم کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ لینا ہو تو ہماری پارٹی کے ارکان اسمبلی اور پولیٹ بیورو کے ارکان لیں گے آپ سے نو ابجکشن سرٹیفکیٹ لینے کی ہمیں کیا نوبت آ پڑی ہے۔؟کے ٹی آرنے کہا کہ تلنگانہ کےعوام کے سی آر کو تیسری مرتبہ وزیراعلیٰ بنانے کے لیے تیار ہے۔آپ چاہیں کتنے بھی سفید جھوٹ بول لیں اور کتنا ہی اپنا گلا پھاڑ لیں، کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔

ریاستی وزیر کے ٹی آر نےکہا کہ 2018 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کے 105 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئی تھیں،انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ اگر وزیراعظم،امیت شاہ ، بی جے پی صدر جے پی نڈا اور دیگر بی جے پی قائدین میں میں دم ہے تو تلنگانہ کو آئیں، گلا پھاڑ پھاڑ کر چلائیں اور عوام کو بتائیں کہ انہوں نے تلنگانہ کے لیے کیا کیا ہے۔؟ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عوام آپ کو ووٹ دینا بھی چاہیں تو کیوں دیں۔؟

کے ٹی آر نے میڈیا سےبات کرتےہوئے چیلنج کیاکہ اب 2023 میں ہونےوالے تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کے 110 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوں گی۔اور اس مرتبہ آپ کا ایک ایم پی بھی تلنگانہ سے کامیاب نہیں ہوگا۔کیونکہ آپ اتنےجھوٹ بول چکے ہو،اتنے کارنامے کر چکے ہو۔

https://www.youtube.com/watch?v=tv5DyuPPH60&t=13s

کے ٹی آر نےسوال کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی آپ خود کو صاف شبیہ اور ایماندار مانتے ہو تو آپ ادانی کےمعاملہ میں جے پی سی سے کیوں ڈرتے ہو۔اس معاملہ میں پریس کانفرنس کرکے کیوں نہیں بولتے؟ سری لنکا کی حکومت نے خود کہا کہ حکومت ہند اور خود وزیراعظم نے کہا کہ 6 ہزار کروڑ کا کنٹراکٹ ادانی کو دینا ہے۔اس پر وزیراعظم نے آج تک کیوں صفائی نہیں دی؟ کے ٹی آر نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہر کسی کو ڈرا کر اور دھماکر کام چلانے کا طریقہ جو آپ نے سیکھا ہے وہ تلنگانہ میں نہیں چلے گا۔اور آپ کی جتنی سازشیں اور کوشش ہیں یہاں نہیں چلیں گی۔

کارگزار صدر بی آر ایس کے ٹی آر نے کہا کہ وزیراعظم جملہ بازی کے لیے بہت مشہور ہیں۔لوگوں کو کئی خواب دکھاتے رہتے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ 2022ء تک ہر کسی کو گھر ملے گا،5 ٹریلین کی معیشت ہوجائے گی،کسانوں کی آمدنی دوگنی ہوجائے گی۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا ان پانچ وعدوں میں سے کوئی ایک وعدہ بھی پورا ہوا؟ انہوں نے وزیراعظم کوجھوٹ اور جملہ بازی کی تشہیر کرنے والے قرار دیا۔

کے ٹی آر نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہ وزیراعظم اپنے عہدہ پر رہ کرسفید جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں۔میڈیا کے سوال پر کے ٹی آر نےکہا کہ وزیراعظم میں پریس کانفرنس کرنے کی ہمت نہیں ہے۔انہوں نے واضح طور پر کہاکہ ہم این ڈی اے میں شامل نہیں ہونا چاہتےکیوںکہ وہ ایک ڈوبتی ناؤ ہے۔جس سے کئی لوگ چھٹکارہ پاکر آرام سے خوش ہیں۔

ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ وزیراعظم نے تلنگانہ کے لیے 9 سال میں کچھ نہیں کیا۔ایک میڈیکل کالج نہیں دیا، ایک نرسنگ کالج نہیں دیا، ایک تعلیمی ادارہ نہیں دیا،نہ آبپاشی پراجکٹس کے لیے کچھ دیا اور تلنگانہ کو کوئی مرکزی پراجکٹ نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے متعلق ایک ماں کو مار ڈال کر بیٹی کو جنم دیا جیسا ریمارک کرنے والے وزیر اعظم سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔؟

کے ٹی آر نے مرکزی فنڈز کے غلط استعمال کے وزیراعظم کے بیان کوجھوٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ریزروبینک آف انڈیا کے پاس خود حساب موجود ہے کہ آج آمدنی کے معاملہ میں تلنگانہ چوتھی ریاست ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں سے ایک روپیہ جو بھارت سرکار کو جاتا ہے اس میں سے ہمیں 46 پیسے واپس ملتے ہیں۔تو کون کس کے پیسے سے آج مزے اڑا رہاہے یہ عوام طئے کریں گے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ وزیر اعظم کے عہدہ پر رہتے ہوئے ایسی باتیں کرنا ان کے عہدہ کے شایان شان نہیں ہے۔

" نظام آباد میں وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب، ویڈیو اور تفصیلات اس لنک پر "

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے سی آر این ڈی اے میں شامل ہونا چاہتے تھے ، میں نے انکار کر دیا، نظام آباد کے جلسہ میں وزیراعظم نریندر مودی کا سنسنی خیز انکشاف