پیغمبر اسلامﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے
حیدرآباد کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ گرفتار،بی جے پی سےمعطل
تلنگانہ بھر میں مسلمانوں کا شدید احتجاج جاری،ہائی الرٹ
تجارتی ادارے بند،بی جے پی امن نہیں چاہتی،بیرسٹر اویسی کا بیان
حیدرآباد :23۔اگست (سحرنیوزڈاٹ کام )
جنوبی ہند کی ریاست تلنگانہ کو ایک پرامن ریاست کے طورپر جانا جاتا ہے۔دارالحکومت حیدرآباد منی انڈیا کے نام سے مشہور ہے جہاں مختلف ممالک کے علاوہ ملک کی تمام ریاستوں کے عوام حیدرآباد کو اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں۔گنگاجمنی تہذیب اور آپسی بھائی چارہ تلنگانہ کی پہچان اور روایت ہے۔ تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ سیاسی فائدہ کے لیے چند ناپاک طاقتوں کی جانب سے تلنگانہ/حیدرآباد کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کی ناپاک سازش کی جارہی ہے!!۔
اس معاملہ میں شرپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ جو ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے سرخیوں میں رہنے اور اپنے وجود کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے مسلمانوں اور اسلام کو نشانہ بناتے رہتے ہیں اور جن کا اکاونٹ نفرت پھیلانے کی وجہ سے سوشل میڈیا کے مشہور پلیٹ فارم فیس بک نے بلاک کرتے ہوئے ان پر پابندی عائد کردی ہے۔
نے گزشتہ رات دیر گئے اسٹانڈ اپ کامیڈی کی طرز پر ایک ویڈیو بناتے ہوئے منور فاروقی کے پروگرام کی آڑ میں جہاں ان کی اور ان کی مرحوم والدہ کی اہانت کی وہیں راجہ سنگھ نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان اقدس میں بھی اہانت آمیز ریمارکس کیے اور اس ویڈیو کو ایک یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردیا۔جہاں سے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔(تاہم اس ویڈیو کو یوٹیوب چینل سے ہٹادیا گیا ہے)۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ منور فاروقی کے پروگرام کے انعقاد یا مخالفت سے تلنگانہ کے مسلمانوں کا کوئی واسطہ نہیں تھااور نہ ہی مسلمانوں نے منور فاروقی کی تائید کی تھی۔لیکن پھر بھی مسلمانوں کی دلآزاری کرنے،امن و امان کو نقصان پہنچانے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے راجہ سنگھ نے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں اسی طرز کی گستاخی کی”جس طرح ایک انگریزی نیوز چینل کے لائیو شو کے دؤران چند ماہ قبل اس وقت کی بی جے پی کی قومی ترجمان گستاخ رسول ﷺ نوپور شرما نے کی تھی”۔
نوپور شرما کی گستاخی کے بعد بین الاقوامی اور قومی سطح پر مسلم ممالک اور مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔اور باقاعدہ حکومت ہند سے اپنا احتجاج درج کروایا تھا۔بعدازاں حالات کو بھانپتے ہوئے بی جے پی نے 6 سال کے لیے نوپور شرما کو پارٹی سے خارج کردیا تھا وہیں اسی طرز کے ٹوئٹ پر بی جے پی نے اپنے ایک اور ترجمان جندال کو پارٹی سے خارج کردیا تھا۔نوپور شرما کے خلاف ملک کی کئی ریاستوں میں ایف آئی درج کروائی گئی ہیں تاہم اس کی آج تک گرفتاری نہیں ہوئی۔
اسی دؤران گزشتہ رات بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے بھی یہی حرکت کی جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور گزشتہ رات سے ہی حیدرآباد کےعلاوہ ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں راجہ سنگھ کے خلاف شدید احتجاج شروع ہوگیا ہےمسلمان سڑکوں پر اترآئے ہیں۔گزشتہ رات مسلمانان کی بڑی تعدادنے پولیس کمشنر آفس بشیر باغ پر احتجاج منظم کیا۔بھوانی نگر،دبیر پورہ،نامپلی کے بشمول کئی ایک پولیس اسٹیشنوں پر بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے راجہ سنگھ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا اور راجہ سنگھ کے خلاف تلنگانہ کے مختلف مقامات پر مسلمانوں کا احتجاج ہنوز جاری ہے۔
مسلمانوں کے شدید احتجاج کے دؤران آج صبح حیدرآباد سٹی پولیس نے بی جے پی کے شرپسند وملعون رکن اسمبلی راجہ سنگھ کواپنی تحویل میں لیتے ہوئے کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔
مجلس اتحادالمسلمین کے رکن اسمبلی حلقہ ملک پیٹ ا حمد بن عبداللہ بلالہ نے دبیر پورہ پولیس اسٹیشن پہنچ کرراجہ سنگھ کےخلاف شکایت درج کروائی جس کے بعد گستاخ رسول ﷺراجہ سنگھ کے خلاف دبیر پورہ پولیس نے تعزیراتی ہند کی دفعات 153، 153 اے، 188، 121، 295 اے، 298، 505 (1) (بی) (سی)، 505 (2) اور 506 کے تحت مقدمہ درج رجسٹر کرلیا۔
حیدرآباد سمیت سارے تلنگانہ میں حالات کو دیکھتےہوئے پولیس چوکس ہوگئی ہے اور حساس علاقوں میں پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔
اسی دوران آج سہء پہر بی جے پی کی سنٹرل تادیبی کمیٹی نے کارروائی کرتے ہوئے رکن اسمبلی گوشہ محل حیدرآباد راجہ سنگھ کو بی جے پی سے معطل کرتے ہوئےانہیں وجہ نمائی نوٹس جاری کی ہے۔قومی بی جے پی کی تادیبی کمیٹی کے سیکریٹری اوم پاٹھک نےاس سلسلہ میں ایک مکتوب جاری کیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے راجہ سنگھ کی فوری طور پر بی جے پی سے معطلی پرعمل آوری ہوگی۔اور راجہ سنگھ سے جواز طلب کیا گیا ہے کہ کیوں نہ انہیں پارٹی سے خارج کیا جائے؟اس سلسلہ میں راجہ سنگھ سے اندرون دس یوم یعنی 2 ستمبر تک وضاحت طلب کی گئی ہے۔

اسی دؤران آج حیدرآباد کےپرانے شہر میں بطوراحتجاج تمام تجارتی اور کاروباری ادارے بند رکھے گئے ہیں۔جبکہ کئی اسکولوں نے طلبہ کو اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔تلنگانہ اور حیدرآباد میں حالات قابو میں ہیں۔کہیں سے کوئی پرتشدد احتجاج کی اطلاع نہیں ہے۔
صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے خبررساں ادارہ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے راجہ سنگھ کی جانب سے پیغمبراسلامﷺ کی شان میں گستاخی،راجہ سنگھ کی گرفتاری اور ریاست بھر میں مسلمانوں کےاحتجاج و غم و غصہ کے حالات پیدا کیے جانے پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔بیرسٹر اویسی نے کہا کہ”بی جے پی حیدرآباد میں امن نہیں دیکھنا چاہتی۔بی جے پی پیغمبر اسلامﷺ اورمسلمانوں سے نفرت کرتی ہے۔وہ ہندوستان کے سماجی تانے بانے کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔”
صدرمجلس و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اویسی نے کہاکہ”ہم سے سیاسی طور پر لڑیں لیکن اس طرح نہیں۔اگر وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی ان تبصروں کی حمایت نہیں کرتے ہیں تو انہیں ردعمل کا اظہار کرنا چاہئے۔”ساتھ ہی بیرسٹر اویسی نے کہا کہ میں ان سرتن جدا جیسے نعروں کی بھی مذمت کرتا ہوں۔جو احتجاج کے دؤران لگائے گئے اوران لوگوں سے کہوں گا کہ وہ لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ہفتہ کے دن اسٹانڈ اپ کامیڈین منور فاروقی جن پر ماضی میں ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام ہے کا تین دن قبل حیدرآباد میں ایک شو منعقد ہوا۔اس شو کی سے قبل بی جے پی رکن اسمبلی حلقہ گوشہ محل،حیدرآبادراجہ سنگھ شدید مخالفت کرتے ہوئے دھمکیاں دے رہے تھے کہ وہ اس شو کا اسٹیج جلادیں گے۔شو سے قبل احتیاطی طورپر پولیس نے راجہ سنگھ کو ان کے گھر پر نظر بندکرتے ہوئے شو سے قبل احتجاج کرنے والے چند زعفرانیوں کو گرفتار کیا تھا اس طرح منورفاروقی کا شو کامیاب رہا۔

