تلنگانہ کے گروپ۔ون امتحانات میں اردو کی شمولیت پر بی جے پی آگ بگولہ کیوں؟ آئین کے 8 ویں شیڈول میں اردو زبان بھی شامل

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

تلنگانہ کے گروپ۔ون امتحانات میں اردو کی شمولیت پر
بی جے پی آگ بگولہ کیوں؟ آئین کے 8 ویں شیڈول میں اردو بھی موجود

حیدرآباد: 22۔مئی
(سحرنیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ)

اردو زبان ملک کی پانچ ریاستوں تلنگانہ،کرناٹک،آندھراپردیش،اترپردیش اور اتراکھنڈ میں دوسری سب سےزیادہ بولی جانےوالی زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔

وکیپیڈیا Wikipedia#کےمطابق دہلی،مہاراشٹرا،بہار،چندی گڑھ،مدھیہ پردیش،ہریانہ،،پنجاب اور راجستھان میں تیسری سب سےزیادہ بولی جانے والی زبان،جبکہ مغربی بنگال،تمل ناڈو،سکم،جھارکھنڈ میں چوتھی،گجرات اور گوا میں پانچویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

اردو زبان دستورہند میں دفتری زبان کی اہمیت کی حامل بھی ہے۔ہندوستانی کرنسی پر جن پندرہ زبانوں میں لکھاجاتا ہے ان میں ایک اردو بھی ہوتی ہے۔ملک کی دیگر چار ریاستوں کے بشمول اردو زبان ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔اردو ایک لشکری زبان ہے۔اور ہندی میں کئی الفاظ اردو کے استعمال کیے جاتے ہیں۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔اردو کے کئی غیرمسلم مشہور شعرا اور ادیب ہوئے ہیں اور اب بھی ہیں،بالی ووڈ کا سارا دارو مدار اردو زبان پر ٹکا ہواہے۔کئی مشہور گیت گار،گلوکار اور موسیقار غیرمسلم رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔

اردو کو مسلمانوں کی زبان کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جنگ آزادی میں اردو زبان کا اہم رول رہا ہے” انقلاب زندہ آباد ” جیسا نعرہ اردو زبان نے ہی دیا ہے۔اور "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” بھی اردو زبان کی ہی دین ہے۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں 90 ہزار سے زائد سرکاری ملازمتوں پر تقررات کے اعلان کے بعدحکومت تلنگانہ نے”تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن TSPSC# "کے گروپ۔ون کے مسابقتی امتحانات کو اردو زبان میں تحریر کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔جس سے اردو ذریعہ میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے اہل طلبا و طالبات کو فائدہ ہوگا۔

لیکن حکومت کی جانب سے اس سہولت کے اعلان کے بعد سے صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار اس پر آگ بگولہ ہیں اور اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومت کو انتباہ دے رہے ہیں کہ گروپ۔ون کے مسابقتی امتحانات میں اردو زبان کی سہولت فراہم نہ کی جائے۔ان کے ساتھ بی جے پی کے رکن پارلیمان نظام آباد دھرماپوری اروند بھی آگے آگے ہیں۔

بنڈی سنجے کمار اور دھرماپوری اروند غیرمسلم نوجوانوں کو یہ کہہ کر اکسانے میں مصروف ہیں کہ گروپ۔ون کے اردو امتحانات کے پرچہءسوال تیار کرنے والے وہی لوگ،لکھنے والے وہی اور ان پرچہ سوالات کی جانچ کرنے والے بھی وہی لوگ ہوں گے۔(ان کا سیدھا اشارہ مسلمانوں کی جانب مانا جاسکتا ہے) کہ ممتحن اردو والوں کو اچھے نمبرات دےکر کامیاب قراردیں گے۔اس طرح گروپ۔ون کے اہم عہدوں پرمسلمانوں کو قبضہ ہوجائے گا۔

گروپ۔ون” کے امتحانات میں اردو کی شمولیت کے خلاف رکن پارلیمان نظام آباد دھرماپوری اروند کے خیالات:- ”
Video Link Courtesy: Sri.Dharmapuri Arvind Facebook Page

https://www.facebook.com/watch/?ref=saved&v=1170149686859024

 

اس طرح بی جے پی قائدین پرچہ سوالات جانچنے والے پروفیسرس،لیکچرارس اور اساتذہ کی ایمانداری،صلاحیتوں اور ان کی غیر جانبداری پر بھی سوال کھڑا کررہے ہیں!!۔جبکہ یہی ممتحن تمام امتحانات کے دیگر زبانوں کے پرچوں کی بھی جانچ کرتے ہیں۔لیکن آج تک کبھی ایسی شکایت نہیں کی گئی کہ انہوں نے طلبہ کا مذہب یا ذات پات دیکھ کر نشانات دئیے ہوں!

اردو سے متعلق بی جے پی کایہ پروپگنڈہ آئی ٹی سیل کی جانب سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھی جاری ہے۔

ریاستی بی جے پی صدر بنڈی سنجے کمار نے 5 مئی کو محبوب نگر میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دو قدم آگے بڑھ کر کہاکہ ریاست تلنگانہ میں جب بی جے پی اقتدار میں آئے گی تو تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے گروپ۔ون کے ذریعہ اردوزبان میں امتحانات لکھ کر ملازمتیں حاصل کرنے والے تمام سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے برخاست کردیا جائے گا۔

ریاستی بی جے پی قائدین اردو کومسلمانوں کی زبان ظاہر کرتے ہوئے غیر مسلم افراد بالخصوص گروپ۔ون کے امتحانات میں شرکت کرنے والے بیروزگار نوجوانوں کومسلم امیدواروں کے متعلق یہ کہتے ہوئے خوفزدہ کرنے میں مصروف ہیں اہم سرکاری عہدوں پرمسلمانوں کا قبضہ ہوجائے گا اور ان کے حصہ میں صرف چوتھے درجہ کی ملازمت آئے گی!!۔

چند دن قبل بی جے پی کی اس اردو مخالف مہم پر نارائن پیٹ ضلع میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم نسق کے ٹی آر نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے”یونین پبلک سرویس کمیشن (یو پی ایس سی)” UPSC# "کے امتحانات اردو زبان میں لکھنے کی سہولت فراہم ہے تو صرف تلنگانہ میں اس کی مخالفت کیوں؟

انہوں نے پوچھا کہ اردو کیا صرف مسلمانوں کی زبان ہے؟ریاستی وزیر کے ٹی آر نے ریاستی بی جے پی قائدین سے استفسار کیا کہ کیا یہی سیاست ہے؟ کہ زبان کے نام پر نوجوانوں کے ذہنوں میں مذہبی منافرت پیدا کی جائے؟انہوں نے کہا کہ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں گجرات،کرناٹک،مدھیہ پردیش کے بشمول دیگر ریاستوں میں اردو زبان میں امتحان کی سہولت فراہم ہے۔مگر اس پر ریاستی بی جے پی قائدین کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان بوجھ کر اردو کے خلاف زہریلی مہم چلائی جارہی ہےجو کہ شرمناک ہے۔

ریاستی وزیر کے ٹی آر نےواضح کیا کہ دستور میں خود اردو زبان کو سرکاری حیثیت حاصل ہے۔وہیں ٹوئٹر پر ریاستی وزیر کے ٹی آر نے 5 مئی کو صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کرشنا کے ایک ٹوئٹ کوری ٹوئٹ کیاہے۔جس میں”نقلی سرٹیفکیٹ کے لفظ کے ساتھ بی جے پی رکن پارلیمان ڈی۔اروند کو ٹیاگ کرتے ہوئے کرشنا نے لکھا تھا کہ اروند دھرماپوری کو ملک کےاصولوں کے بارے میں جانکاری رکھنی چاہئے۔یوپی ایس سی نے مسابقتی امتحانات کو اردو میں تحریر کرنے کے رہنمایانہ خطوط میں اختیار دیا ہے اور آئین کے 8 ویں شیڈول کے مطابق اردو میں امتحانات تحریر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

اس سلسلہ میں ٹی آرایس کی حکومت کو بدنام کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دھرماپوری کے سر میں دماغ نہیں ہے ساتھ ہی انہوں نے زبانوں پر مشتمل ایک جدول بھی پوسٹ کیا ہے جس میں بنگالی،گجراتی، ہندی،کنڑا، ملیالم، مراٹھی،آسامی، پنجابی،کونکنی،تمل،تلگو،اردو، اڑیہ،منی پوری زبانیں شامل ہیں”۔

اس کی تصدیق مرکزی وزیرفینانس نرملاسیتارمن نے لوک سبھا میں کی تھی کہ دستور ہند کی دفعات1-344 اور آرٹیکل 351کے شیڈول۔8میں جن 22 زبانوں کی شناخت کی گئی ہے ان میں سے ایک زبان اردو بھی ہے۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جہاں سے آئی اے ایس،آئی پی ایس اور آئی ایف ایس جیسے قابل عہدیدار نکل کر ملک چلاتے ہیں اس”یونین پبلک سرویس کمیشن (یو پی ایس سی)” میں اور "ریلوے رکروٹمنٹ بورڈ” میں جب اردو زبان میں امتحان لکھنے کی سہولت حاصل ہے تو بی جے پی قائدین صرف تلنگانہ کےگروپ۔ون امتحانات میں ازروئے دستوری قواعد اردوزبان کی شمولیت پر اتنے آگ بگولہ کیوں ہیں؟اور کیوں اردو زبان کو صرف مسلمانوں کی زبان کی قرار دیتے ہوئے غیرمسلم برادری میں منافرت پیدا کررہے ہیں؟

نائب صدر تلنگانہ پلاننگ کمیشن بورڈ بی۔ونود کمار نے بھی گروپ۔ون میں اردو کی شمولیت کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی بی جے پی قائدین نہ دستور سے واقف ہیں اور نہ دستوری حقو ق سے۔انہوں نے کہا کہ جب 2014 میں وزیراعظم نریندرمودی نے عہدہ سنبھالا تھا تب بھی یوپی ایس سی کے امتحانات کے لیے جاری کردہ اعلامیہ میں امیدواروں کے لیے اردو زبان کے استعمال کا حق دیا گیاتھا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی بی جے پی قائدین اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ گروپ۔ون امتحانات میں صرف ریاست تلنگانہ نے ہی اردوزبان کی سہولت فراہم نہیں کی ہے بلکہ یہ سہولت متحدہ ریاست آندھراپردیش میں بھی حاصل تھی۔

دوسری جانب وزیراعظم نریندرمودی نےعالمی یوم مادر کوکیےگئے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ”میں مادری زبان کےلیے اصرار کروں گا، ہماری ماؤں سے ہمیں اور ہماری زندگی کو جہت حاصل ہوتی ہے،اسی طرح مادری زبان ہماری زندگی کی تشکیل کرتی ہے”۔

وہیں وزیراعظم نریندر مودی نے 10 مارچ 2016 کو راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے نامور شاعر ندا فاضلی کی ایک مشہور غزل؎

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

مکمل سناکر ملک بھر میں داد حاصل کی تھی۔وہیں 7 فروری 2018ء کو لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمان ملک ارجن کھرگے نے نامور شاعر بشیر بدر کا ایک شعر سناتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ؎

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں

اس وقت وزیراعظم نریندرمودی نے بشیر بدر کا ہی ایک اور شعر جواب کے طور پر لوک سبھا میں سنایا تھا کہ؎

جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

اب تلنگانہ کے بی جے پی قائدین کی جانب سے اردو زبان کو مسلمانوں سے جوڑنے اور گروپ۔ون کے امتحانات میں اردو کی سہولت فراہم کیے جانے کی شدید مخالفت اور دھمکیوں پر "صدا انبالوی” کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ؎

اپنی اردو تو محبت کی زباں تھی پیارے
اب سیاست نے اسے جوڑ دیا مذہب سے