شاہ رخ خان کےفرزند آریان خان کو بمبئی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت،کل ملے گی رہائی

شاہ رخ خان کےفرزند آریان خان کو بمبئی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت
ارباز مرچنٹ اور مون مون دھمیچا کو بھی ضمانت منظور،کل شرائط کے ساتھ ہوگی رہائی
عدالت کل وجوہات کے ساتھ تفصیلی فیصلہ صادر کرے گی

بمبئی: 28۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

کروز منشیات معاملہ میں بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے 23 سالہ فرزند آریان خان سمیت دیگر دو ملزمین ارباز مرچنٹ اور مون مون دھمیچا کی درخواست ضمانت پر آج تیسرے دن بمبئی ہائی کورٹ میں سماعت کے بعدان تینوں کی ضمانت منظور کردی ہے۔اور عدالت ضمانت کی وجوہات کے ساتھ تفصیلی فیصلہ اور شرائط کے احکام کل صادر کرے گی۔

لائیو لاء کے مطابق اگرچہ عدالت نے کہا ہے کہ ضمانت کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن آریان خان،ارباز مرچنٹ اور مون مون دھمیچا کی رہائی کل ہی ہوگی۔ کیونکہ عدالت کل رہائی کے تفصیلی حکم نامے میں ضمانت کی شرائط بتائے گی۔

آپریٹو آرڈر کل 2.30 بجے دن کھلی عدالت میں سنائے جانے کا امکان ہے۔ضمانت کی شرائط بھی طے کی جائیں گی۔

اس طرح بمبئی ہائی کورٹ نے آرین خان اور ان کے ساتھی ارباز مرچنٹ اور مون مون دھمیچا کو آج پورے 26 دن بعد درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے راحت فراہم کی جو کہ 3 اکتوبر تا 8 اکتوبر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی تحویل کے بعد آرتھرروڈ جیل منتقل کیے گئے تھے۔

آریان خان سمیت ارباز مرچنٹ اور مون مون دھمیچا کی ضمانت کی درخواستوں پر 26 اکتوبر اور کل 27 اکتوبر کو بمبئی ہائی کورٹ میں بحث و مباحثہ کے بعد عدالتی کارروائی کو آج 28 اکتوبر کو ڈھائی بجے دن تک کے لیے موخر کردیا گیا تھا۔

بمبئی ہائی کورٹ کے معزز جسٹس نتن ڈبلیو سامبرے کی ایک رکنی بنچ نے آریان خان کی درخواست ضمانت کی سماعت کی۔دو دنوں کے دؤران سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے آریان خان کی پیروی کی جبکہ ارباز مرچنٹ کے وکیل امیت دیسائی اور مون مون دھمیچا کی جانب سے ان کے وکیل علی کاشف خان نے بمبئی ہائی کورٹ میں تفصیلی دلائل پیش کیے تھے۔

نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے وکلا نے کل بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ درخواست گزاروں کے دلائل کا آج جواب دیں گے۔

معزز جسٹس نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل(اے ایس جی) انیل سنگھ سے پوچھا کہ یہ کہنے کی کیا بنیاد ہے کہ آریان خان نے تجارتی مقدار سے نمٹنے کی کوشش کی ہے؟ تمھارے پاس کیا مواد ہے؟ جس پر اے سی جی نے عدالت کو بتایا کہ آریان خان کے واٹس ایپ چاٹس اس کے ثبوت ہیں بس!

اے ایس جی نے کہا کہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ صرف استعمال کے لیے تھا۔ہم نے 29 درخواستیں دی ہیں کیونکہ خفیہ نوٹ میں 11 ناموں میں سے 8 کو پکڑ لیا گیا ہے۔اے ایس جی کا مزید کہنا تھا کہ منشیات کی مجموعی مقدار تجارتی مقدار کی تھی۔

معزز جسٹس نے پوچھا کہ سیکشن 28 اور 29 آپ استعمال کر رہے ہیں؟ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے جواب دیا کہ ہاں۔عدالت نے پوچھا کہ لیکن ریمانڈ (درخواست) میں ان حصوں کا ذکر نہیں ہے۔

جس پر ارباز مرچنٹ کے وکیل امت دیسائی نے کہا کہ گرفتاری کے میمو میں بھی ذکر نہیں ہے۔جس پر اے ایس جی نے کہا کہ ہاں،لیکن پہلے ریمانڈ کا ذکر ہے۔اے ایس جی کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد پہلا ریمانڈ چار گھنٹے کا تھا اور اس کے بعد ریمانڈ کی درخواست میں دفعہ 28 اور 29 کا اضافہ کیا گیا۔

اے ایس جی نے عدالت میں ایسے معاملات پر مشتمل مختلف مقدمات کا حوالہ دیا۔جس پر آریان خان کے وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ وہ ان کیسوں کی سماعت کے دؤران کی بحث کا حصہ ہے درخواست ضمانت پر نہیں۔اے ایس جی نے دؤران سماعت کہا کہ مکل روہتگی کی جانب سے گرفتاری کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا مجسٹریٹ کے تین ریمانڈ کے احکامات کو چیلنج نہیں کیا گیا۔اس لیے اب ملزم کی گرفتاری کو غیر قانونی نہیں کہہ جاسکتا۔

اے ایس جی نے بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا کہ مون مون دھمیچا نے چھاپہ کے دؤران منشیات پھینک دی۔ہمارے پاس سی ڈی آر ریکارڈز ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اشمیت کے ساتھ رابطے میں تھی۔بلدیو اور مون مون کے بیانات (رضاکارانہ بیانات) بتاتے ہیں کہ اس کے پاس منشیات تھی۔

آریان خان کے وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ کروز پر 1300 افراد سوار تھے این سی بی کی طرف سے ایسا کوئی مواد تیار نہیں کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ آریان ارباز اور اچیت کے علاوہ کسی اور کو جانتا ہو۔

 

نوٹ : عدالتی کارروائی کی تفصیلات اور اس خبر کی ترتیب میں ” لائیو لاء” کے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل سے مدد لی گئی ہے۔