انسان کی تلاش میں انسان جائے گا!!
ٹھیلہ بنڈی سے کار کو کھروچ لگنے پر برہم
خاتون نے غریب ٹھیلہ بنڈی راں کی پپائیاں سڑک پر پھینک دیں
بھوپال میں افسوسناک واقعہ، انسان اور انسانیت کا ایسا زوال کیوں؟
بھوپال: 13۔جنوری (سحرنیوزڈیسک)
عورت! جسے ممتا کی مورت کہا جاتا ہے! ماں، بہن، بیوی، بیٹی اور بہو کی شکل میں عورت اس دنیا میں کئی کردار ادا کرتی ہے جو کہ مرد کے بس کا کام نہیں ہوتا۔
کہا جاتا ہے کہ خدا نے صبر،محبت،شفقت اور برداشت کرنے کی طاقت مرد کی بہ نسبت عورت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔یہی وجہ ہوتی ہے کہ گھر وں میں لاکھ مصائب و مشکلات ہوں زیادہ تر خواتین کے ہونٹوں پر تبسم ہوتا ہےاور یہی ایک چیز گھروں کو جوڑ کر رکھتی ہے۔
عورت ہی ہوتی ہے جو کسی بھی گھر کو جنت یا پھر دوزخ کا نمونہ بناکر رکھ سکتی ہے۔اور یہی عورت جس سماج اور معاشرہ میں رہتی ہے وہ سماج کو بھی سدھارنے کا کام کرتی ہے تاکہ اپنے گھر کے ساتھ ساتھ اپنا شہر،گاؤں،محلہ اور پڑوسی بھی سکون و اطمینا ن کے ساتھ رہ سکیں۔ لیکن افسوس کہ گزشتہ چند سال سے خواتین کی بڑی تعداد بھی متشدد ہوتی جارہی ہے۔سوشل میڈیا پر آئے دن وائرل ہونے والے ایسے ویڈیوس اس کی مثال ہیں۔
چاہے کسی ٹریفک سگنل پر کار ڈرائیور کو زبردستی روک کر فلمی انداز میں ایک لڑکی کی جانب سے اس مرد ڈرائیور کی پٹائی کرنے والا معاملہ ہو یا زوماٹو کے ملازم کی پٹائی یا پھر سادھوی کے لباس میں اسٹیجوں سے ایک مخصوص طبقہ کی نسل کشی کی دھمکی کا معاملہ ہو!!
کل سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو بڑی تیزی سے وائرل ہورہا ہے،جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خاتون غریب ٹھیلہ بنڈی راں کی بنڈی پر موجود ” پپائیوں ( پپیتے ) ” کو اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھا اٹھا کر سڑک پر پھینک رہی ہے۔
انسٹاگرام پر میڈیا ادارہ ” دی۔للن ٹاپ ” کی جانب سے پوسٹ کیے گئے اس ویڈیو کو اب تک 1،17،449 نے دیکھا ہے اور سینکڑوں کمنٹس کے ذریعہ اس خاتون کے اس عمل کی مذمت کی ہے۔ جبکہ ٹوئٹر پر بھی اس ویڈیو کو ہزاروں صارفین نے دیکھا ہے۔

سڑک پر جانے والے کارنشینوں اور موٹرسیکل سواروں کو اتنی فرصت نہیں کہ روک کر اس خاتون سے وجہ پوچھی جائے کہ کیوں وہ اس غریب ٹھیلہ بنڈی راں کے پیٹ پر لات مار رہی ہے اور کیوں اس کا روزگار تباہ کررہی ہے؟ سب یہ نظارہ دیکھتے ہوئے آرام کے ساتھ گزر رہے ہیں!!
اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے دارالحکومت ” بھوپال ” کا ہے۔ جہاں ایک کار کے ٹھیلا بنڈی سے ٹکرانے کے باعث اس کار ایک معمولی کھروچ آجانے سے یہ کارنشین خاتون ڈرائیور نے فوری اپنی کار کو روک دیا اور غصہ میں ایک غریب ٹھیلہ بنڈی راں کی بنڈی پر بیچنے کی غرض سے رکھی ہوئی پپائیاں ایک ایک کرکے سڑک پر پھینک دیں۔بھوپال کے ایودھیا نگر میں پیش آیا یہ واقعہ چار دن قدیم ہے لیکن یہ ویڈیو اب سوشل میڈیا پر آیا ہے۔
شلوار سوٹ میں ملبوس اس خاتون کے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ بھوپال کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں پروفیسر ہے!!۔
اس وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹھیلہ بنڈی راں مرد اس خاتون سے معافی بھی مانگ رہا ہے جسے وہ نظر انداز کرتے ہوئے اس شخص کی ٹھیلہ بنڈی پر موجود پپائیاں سڑک پر پھینکنے لگتی ہے تاکہ اس کی کار کو ہونے والے معمولی نقصان کی پابجائی کرکے دلی سکون حاصل کرسکے!!

اسی دؤران چند راہ گیروں کی جانب سے یہ یاد دلانے پر کہ اس نے ماسک نہیں پہنا ہوا ہے تو خاتون یہ دلیل دیتی ہے کہ وہ ابھی اپنے فلیٹ سے نیچے آئی ہے اور اس شخص کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔وہ ان راہ گیروں کو اپنی کار پر لگی کھروچ بھی دکھاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ اس پھل فروش کی غلطی سے ہوا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ اس غریب ٹھیلہ بنڈی راں کا کتنا نقصان ہوا ہے؟ اور کیا اس نے خاتون کے خلاف پولیس میں کوئی شکایت درج بھی کروائی ہے یا نہیں؟ ویسے بھی کونسی شکایت پر کیا کارروائی ہوگی یہ تو ایک غریب ٹھیلہ بنڈی راں ہے؟
آئے دن ایسے واقعات کے ویڈیوز دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ انسانیت اور انسان کتنی نچلی سطح تک پہنچ گئے ہیں؟ اور ہر دوسرا انسان اتنا متشدد کیوں ہوتا جارہا ہے!
شاید مشہور شاعر فنانظامی کانپوری نے انہی دنوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ شعر کہا تھا کہ ؎
دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن
انسان کی تلاش میں انسان جائے گا

