آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈرمحمدزبیر کی درخواست ضمانت مسترد
پولیس کی جانب سے مزید تین دفعات کا اندراج،14 دنوں کی عدالتی تحویل
معزز جج کے فیصلہ سے پانچ گھنٹے قبل ہی ڈی سی پی نے عدالتی فیصلہ کو افشا کردیا!!
پاکستان،شام،آسٹریلیا،سنگاپور،یواے ای سے فنڈز حاصل کرنے کا الزام
نئی دہلی:02۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
آلٹ نیوز کےمعاون فاؤنڈر ونوجوان صحافی محمدزبیر کی آج ہفتہ کے دن درخواست ضمانت مسترد کردی گئی،دہلی کی ایک عدالت نے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔
2018 کے ایک ٹوئٹ پر مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتارمحمد زبیر کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے استغاثہ نے دہلی کی عدالت کو بتایا تھا کہ وہ مبینہ طور پر پاکستان جیسے کئی بیرونی ممالک سے ان کے ذریعہ موصول ہونے والے عطیات کی تحقیقات کررہے ہیں۔
اس معاملہ میں ایک حیرت انگیز واقعہ یہ پیش آیا ہے کہ لنچ تک سماعت کے بعد معزز جج نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا اور عدالتی عملہ نے کہا تھا کہ شام چار بجے معزز جج فیصلہ صادر کریں گے۔لیکن عدالت نے یہ فیصلہ جہاں آج شام 7 بجے سنایا وہیں دوپہر میں سماعت کے اختتام کے فوری بعد ڈی سی پی (انٹلی جنس فیوژن اینڈ سٹریٹیجک آپریشنز) کے پی ایس ملہوترا نے بیان دے دیا کہ”محمد زبیر کی ضمانت کی درخواست عدالت کی جانب سے مسترد کر دی گئی ہے اور انہیں 14 دنوں کی عدالتی تحویل میں دے دیا ہے”
"عدالتی فیصلہ سے قبل دوپہر دو بج کر 29 منٹ پر عدالتی فیصلہ پرمشتمل خبررساں ادارہ ” اے این آئی کا ٹوئٹ”
جس کے بعد سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر وہ مشکل میں پڑگئے ہیں۔کیونکہ ان کایہ بیان میڈیا اورسوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔بعدازاں نیوز ایجنسیوں اور نیوز چینلوں نے تردیدکی کہ محمد زبیر کی ضمانت پر عدالت نے فیصلہ صادر نہیں کیا ہے۔
"عدالتی فیصلہ کے بعد شام سات بج کر 5 منٹ پر خبررساں ادارہ ” اے این آئی کا ٹوئٹ ”
وہیں محمد زبیر کے وکلاءنے ڈی سی پی کے پی ایس ملہوترا پرعدالت کے فیصلہ کو معزز جج سے قبل میڈیا کے لیے افشا کردینے کا الزام عائد کیا
سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ عدالتی فیصلہ سے قبل کیسے ڈی سی پی کو پتہ چل گیا تھا؟جس پر ڈی سی پی کے پی ایس ملہوترا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شور شرابہ کی وجہ سے تفتیشی افسر کو غلط سنا تھا۔ملہوترا نے کہاکہ ” میرا اپنے تفتیشی افسر کے ساتھ ایک لفظ تھا،میں نے اسے شور کی وجہ سے غلط سنا اور نادانستہ طور پر براڈکاسٹ میں پیغام پوسٹ کر دیا گیا۔”
میڈیا میں ڈی سی پی کے بیان کے آنے کے فوراً بعدمحمد زبیر کے وکلاء نے اس واقعہ کو "افسوسناک” قرار دیتے ہوئے پولیس پر تنقید کی۔
محمد زبیر کے وکیل ایڈوکیٹ سوتک بنرجی نے عدالت کے باہر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”ہم نے دلائل دئیے تھے اور حکم کا انتظار کر رہے تھے۔ جج نہیں بیٹھے تھے،لیکن میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ ڈی سی پی کے پی ایس ملہوترا نے میڈیا میں یہ خبر افشا کی ہے کہ ہماری درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی ہے اور 14 دن کی عدالتی تحویل دی گئی ہے”۔”میں نے یہ نیوز چینلز اور ٹوئٹر پوسٹس سے دیکھا جو یہ خبر چلا رہے ہیں۔یہ انتہائی افسوسناک ہے اور یہ آج ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی کی حیثیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے بیٹھ کر حکم سنانے سے پہلے ہی پولیس نے اس آرڈر کو میڈیا پر فاش کردیا ہے۔کے پی ایس ملہوترا کو کیسے معلوم ہوایہ حکم سمجھ سے باہر ہے اور یہ سنجیدہ خود شناسی کا مطالبہ کرتا ہے”۔
” محمد زبیر کے وکیل سوتک بنرجی عدالت کے باہر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہ عدالتی حکم سے قبل ڈی سی پی نے درخواست ضمانت کو مسترد کرنے کی اطلاع کو افشا کردیا”
قبل ازیں محمدزبیر کو چار روزہ پولیس تحویل کی معیاد کےختم ہونے کے بعد آج چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سنیگدھا ساوریاکے سامنے پیش کیا گیا۔پولیس نے ان کی پولیس حراست میں مزید توسیع کی عدالت سے درخواست نہیں کی بلکہ انہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجنےکے لیے کہا۔
محمدزبیر کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ سنیگدھا ساواریہ نے نوٹ کیا کہ یہ معاملہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور کیس کے مجموعی حالات،نوعیت اور جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئےضمانت کی کوئی بنیاد نہیں بنتی۔عدالت نے کہاکہ الیکٹرانک آلات کومہر بند کرنے کے معاملے پر اس مرحلے پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ تفتیش کے دوران تلاشی کے وارنٹ پر عمل درآمد کے دوران ضبط کیے گئے ڈیٹا اور آلات کا ابھی بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
ان دلائل پر کہ اس معاملے میں جرم ثابت نہیں ہوا کیونکہ محمد زبیر کی جانب سے کیا گیا ٹوئٹ ہندی فلم کی ایک تصویر سےتھا،عدالت نے کہا کہ اس سے ملزم کی کوئی مدد نہیں ہوتی کیونکہ ایف سی آر اے ایکٹ کے تحت دفعہ بھی شامل کی گئی ہیں۔
دہلی پولیس نے پہلے عدالت کو بتایاتھاکہ اس نے ایف آئی آرمیں تین نئی دفعات شامل کی ہیں جن میں آئی پی سی کی دفعہ 201 (جرم کے ثبوت کو غائب کرنا،یا اسکرین مجرم کو غلط معلومات دینا)، 120 (بی) (مجرمانہ سازش کی سزا) شامل ہیں۔اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) کا سیکشن 35 استغاثہ نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں زبیر کو مزید تحویل میں لے سکتے ہیں۔
ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر اتل شریواستوا نے عدالت میں تفصیلات جمع کرواتے ہوئے بتایا کہ محمد زبیر نے”پاکستان،شام،آسٹریلیا،سنگاپور،یواے ای سے RazorPay# کے ذریعے ادائیگیاں قبول کیں،جن کے لیے مزید تفتیش کی ضرورت ہے”۔اتل شریواستو نےدلیل دی کہ اگر آپ کوئی چیز قبول کرتےہیں،عطیہ وغیرہ کسی غیر ملک سے تو یہ خلاف ورزی ہے۔ہمارے سی ڈی آر تجزیہ کے مطابق محمدزبیر نے پاکستان،شام،وغیرہ سے ریزر گیٹ وے کے ذریعے قبول کیا ہے جس کی تمام چیزوں کو مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔”
محمد زبیر کے وکیل گروور نے استدلال کیا کہ پولیس نے”عدالت کو گمراہ کیا گیا ہے” کیونکہ انہوں نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ عطیات کو میڈیا کمپنی پراودا نے قبول کیا تھا جبکہ پولیس نے عدالت میں عطیہ وصول کرنے والے کے طور پرمحمد زبیر کا نام لیاہے۔جس پر
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ محمدزبیر کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں۔آپ ڈائریکٹر ہیں،صحافی بننا جرم نہیں اس قسم کے کام کرنا جرم ہے اور آپ قانونی کارروائی کے مستحق ہیں۔

جس پر محمد زبیر کے وکیل گروور نے دلیل دی کہ”ڈائریکٹر بننا کوئی جرم نہیں ہے”اور کمپنی کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔فنڈز لینے والی کمپنی ایف سی آر اے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔آپ نے پراودا کو نوٹس جاری نہیں کیا ہے۔آپ نے کہا کہ صحافی نے (فنڈز) لیے اور پھر پراودا نے کہا۔حقائق پر کیچڑ اچھال دیا گیا ہے۔اس لیے ہمیں اس ملک میں حقائق کی جانچ کرنے والے کی ضرورت ہے،‘‘
پراسیکیوٹر اتل شریواستونےدلیل دی کہ عطیات کی چھان بین کی جائےگی اورعطیات کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے انہیں ان کے فون تک رسائی کی ضرورت ہے۔
جس پر ایڈوکیٹ گروور نے دلیل دی کہ اس کے بجائے بینک اکاؤنٹ کے لین دین کو دیکھا جائے کیونکہ ان میں ہر لین دین کی تفصیلات ہوتی ہیں۔گروور نے مزید استدلال پیش کیا کہ”پوری مشق فطرت میں بدتمیزی ہے اور ایف آئی آر کی غیر قانونی کارروائی ہے۔گروور نے عدالت کو بتایا کہ یہ ٹوئٹ لیپ ٹاپ سے نہیں بلکہ اینڈرائیڈ فون سے کیا گیا تھا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹوئٹ بھیجنے کے لیے استعمال ہونے والا محمد زبیر کا فون چوری ہوگیا ہے اور اس حوالے سے پولیس میں رپورٹ بھی درج کروادی گئی ہے۔

