یکم ستمبر سے تلنگانہ میں آنگن واڑی مراکز سمیت تمام سرکاری اور خانگی تعلیمی اداروں کی کشادگی،حکومت کا فیصلہ

یکم ستمبر سے تلنگانہ میں آنگن واڑی مراکزسمیت تمام سرکاری اور خانگی تعلیمی اداروں کی کشادگی
وزیراعلیٰ کے سی آر کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں فیصلہ ،30 اگست تک تعلیمی اداروں کی صفائی کی ہدایت

حیدرآباد: 23۔اگست(سحرنیوزڈاٹ کام)

ریاستی وزیر اعلیٰ کے۔ چندراشیکھر راؤ کی زیر صدارت آج پرگتی بھون میں منعقدہ ایک جائزہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں یکم ستمبر سے بشمول آنگن واڑی مراکز کے تمام سرکاری اور خانگی تعلیمی اداروں (کے جی تا پی جی)  کی کشادگی عمل میں لائی جائے۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے وزارت بلدی نظم و نسق ، وزارت پنچایت راج اور عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ تعلیمی اداروں کی کشادگی سے قبل 30 اگست تک ریاست کے تمام اضلاع اور مواضعات میں موجود تعلیمی اداروں اور ہاسٹلوں کی صاف صفائی عمل میں لائی جائے اور انہیں سینی ٹائز کیا جائے۔

کورونا وائرس کی وباء کے باعث بند کیے گئے تعلیمی اداروں کی کشادگی کے مسئلہ پر وزیراعلیٰ کےسی آر کی صدارت میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں ریاستی وزراء ایرا بیلی دیاکر راؤ ، پی۔ سبیتا اندراریڈی ،رکن راجیہ سبھا کے۔کیشو راؤ ،پرنسپل سیکریٹری و صلاح کا ر حکومت تلنگانہ راجیو شرما،

ریاستی چیف سیکریٹری سومیش کمار، پرنسپ سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ نرسنگ راؤ ،وزیر اعلیٰ کے سیکریٹریز سمیتا سبھروال، راج شیکھر ریڈی ،بھوپال ریڈی ، اسپیشل سیکریٹری میونسپل اڈمنسٹریشن اروند کمار،اسپیشل سیکریٹری محکمہ فینانس راما کرشنا راؤ ،سیکریٹری پنچایت راج سندیپ کمار سلطانیہ ،

سیکریٹری محکمہ صحت و طبابت سید علی مرتضیٰ رضوی، کمشنر انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن سید عمر جلیل، او ایس ڈیز وزیراعلیٰ کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیدار شریک تھے۔

اس اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ کورونا وباء کے باعث تعلیمی ادارے بحران کا شکار ہوئے اور ان تعلیمی اداروں کے بند ہونے کے باعث طلبہ ، طلبہ کے والدین سمیت خانگی اسکولس کے ٹیچرس اور شعبہ تعلیم سے وابستہ تمام افراد شدید مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔

اس سلسلہ میں کئی ریاستوں میں وہاں کی حکومتوں کی جانب سے تعلیمی اداروں کی کشادگی اور اس کے بعد کے حالات پر بھی غور و خوص کیا گیا اور ریاست تلنگانہ میں موجودہ کورونا وباء کی شدت کے متعلق بھی ریاستی محکمہ صحت کے عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کی گئیں۔

جنہوں نے رپورٹ دی کہ ماضی کے مقابلہ میں اب ریاست تلنگانہ میں کورونا وباء کا اثر بہت کم ہے اور اس وباء پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے۔اور ساتھ ہی ریاست میں عوامی زندگی بھی معمول کے مطابق لؤٹ آئی ہے۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے رپورٹ دی ہے کہ عام زندگی کے بحال ہونے کے بعد بھی تعلیمی اداروں کو بند رکھے جانے کے باعث طلباء ، طالبات ذہنی دباؤ کا شکار ہورہے ہیں۔

اس اجلاس میں بھی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس ذہنی دباؤ کے باعث ان کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ ان تمام عوامل پر غور و خوص کے بعد طلبہ کو اس ذہنی دباؤ سے محفوظ رکھنے کی غرض سے اجلاس میں شریک تمام وزراء اور عہدیداروں سے صلاح و مشورہ کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ مختلف احتیاطی اقدامات کے ساتھ ریاست تلنگانہ میں موجود تمام سرکاری اور خانگی ” کے جی تا پی جی ” تعلیمی اداروں بشمول آنگن واڑی مراکز کو یکم ستمبر سے دوبارہ کھول دیا جائے۔

اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ ریاست کے شہروں ، ٹاؤنس اور دور دراز دیہی علاقوں میں طویل عرصہ سے بند پڑے ہوئے سرکاری تعلیمی اداروں کی مکمل صاف صفائی کرتے ہوئے انہیں دوبارہ پہلی جیسی حالت میں لانے کی ذمہ داری محکمہ پنچایت راج اور محکمہ بلدیہ پر عائد ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے ہدایت دی کہ ختم اگست تک تمام تعلیمی اداروں کی صاف صفائی کے ساتھ ساتھ سوڈیم کلورائیڈ اور بلیچنگ پاؤڈر کا چھڑکاؤ کیا جائے، تعلیمی اداروں میں موجود پانی کی ٹانکیوں کی صفائی کی جائے اور کلاس رومس کی مکمل صفائی اور پانی سے دھونے کے بعد انہیں مکمل طورپر سینی ٹائز کیا جائے۔

اس اجلاس کے بعد ریاستی وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے ریاست میں تمام خانگی اور سرکاری تعلیمی اداروں کی یکم ستمبر سے دوبارہ کشادگی کے اعلان کے ساتھ کہا کہ اسکولس کی کشادگی کے بعد اقامتی اسکولس/کالجس اور ہاسٹلس میں اگر کوئی طالبہ یا طالب علم بخار سے متاثر ہوجاتے ہیں تو متعلقہ ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ متاثرہ کو فوری قریبی ہیلتھ سنٹر سے رجوع کرواتے ہوئے ان کا کوویڈ ٹسٹ کروائیں اور اگر وہ طالبہ یا طالب علم کوویڈ سے متاثر ہوتے ہیں تو ان کے والدین کے سپرد کردیا جائے۔

وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ اسکولس اور کالجس پہنچنے والے طلباء و طالبات سینی ٹائزر کے استعمال اور ماسک پہننے پر لازمی طورپر دھیان دیں اور کوویڈ سے تحفظ کے لیے تمام احتیاطی اقدامات کریں۔

وزیراعلیٰ کے سی آر نے طلبہ کے والدین سے بھی خواہش کی کہ وہ اپنے بچوں کو اسکولس روانہ کرتے وقت کوویڈ سے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔